Inquilab Logo Happiest Places to Work

مالیگائوں: ٹیپو سطان کی تصویر پر پھر تنازع

Updated: August 28, 2026, 2:00 PM IST | Mukhtar Adeel | Malegaon

مالیگائوں کی نائب میئر کے دفتر میں شہید ٹیپو سلطان کی تصویر آویزاں کئے جانے پر سیاست تیز ہو گئی ہے۔ ٹیپو کی تصویر کی مخالفت کا سہرا اپنے سَر باندھنے کیلئے بی جے پی نے پہل کی۔

A portrait of Tipu Sultan (right) displayed in the office. Picture: INN
دفتر میں لگی ٹیپو سلطان( دائیں ) کی تصویر۔ تصویر: آئی این این

مالیگائوں کی نائب میئر کے دفتر میں شہید ٹیپو  سلطان کی تصویر آویزاں  کئے جانے پر سیاست تیز ہو گئی ہے۔ ٹیپو کی تصویر کی مخالفت کا سہرا اپنے سَر باندھنے کیلئے بی جے پی نے پہل کی۔ اِس دوڑ میں شیوسینا (شندے ) بھی شامل ہوگئی۔ ٹیپو کی تصویر کا معاملہ کچھ مہینے قبل گرم ہوکر ٹھنڈا ہوگیا تھا ۔ تصویر نکالی گئی اور ابھی پھر تصویر لگاکر اُسے ہوا دے دی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: کین بیتوا ریوَر لنک پروجیکٹ کے خلاف قبائلی برادری آخراحتجاج کیوں کررہی ہے؟

یاد رہے کہ چند ماہ قبل مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی نائب میئر شانِ ہند (سماج وادی پارٹی) نے شہری بلدیہ کی عمارت مولانا ابوالکلام آزادبھون میں واقع اپنے سرکاری دفتر میں سلطان ٹیپو شہید کی تصویر والی فریم لگائی۔ اس پر بی جے پی نے شدید رد عمل ظاہر کیا اِس کے نتیجے میں تصویرنکال دی گئی۔اس دوران نائب میئر کے دفتر کی تزئین کاری کا کام مکمل ہوا۔ اس کے افتتاح کی رسم ادا ہوئی۔اس موقع پر میئر شیخ نسرین، اُن کے خاوند شیخ خالد،نائب میئرشانِ ہند، اُن کے شوہرمستقیم ڈگنیٹی سمیت کئی اراکین موجود تھے۔ اس موقع  پر دفتر میں سبھاش چندربوس،مہاتما گاندھی،مولانا آزاد،ساوتری پھلے کے ساتھ ٹیپو سلطان کی تصویر بھی لگادی گئی ۔یہیں سے معاملہ پھر گرم ہو گیا۔

یہ بھی پڑھئے: اشوک اوئیکے کے استعفے کے مطالبے میں شدت

نلیش کچوے(مقامی صدر،بی جے پی) نے بھاری بھرکم وفد کے ساتھ ایڈیشنل ایس پی سورج گنجال سے مل کرمطالبہ کیا کہ ٹیپو کی فوٹو والی فریم  ڈپٹی میئر آفس سے نکلوائی جائے۔فوٹو لگاکر سیاست کی جارہی ہے۔امن وامان کی سازگار فضا کو خراب کرنے کی کوشش ہے۔دوسری جانب شیوسینا(شندے)کے ۱۸؍ کارپوریٹروں نے ایڈیشنل کلکٹر دیودتّ کیکان سے مل کر کہا کہ سرکاری دفاتر میں قومی ہیرو کی تصاویر لگانے کے ضابطے کی خلاف ورزی پر روک لگائی جائے۔ ایسے معاملات کو نظر اندازکرنے والے ’سرکاری افسران‘ پر قانونی کارروائی کی جائے۔ واضح رہیکہ اس معاملے میں مالیگاؤں آؤٹرکے رُکن اسمبلی اوروزیر تعلیم دادا بھسےنے بھی منفی رُخ اختیار کیا ہے۔

اس معاملے میں کارپوریشن انتظامیہ  پوری طرح خاموش ہے۔ مالیگاؤں کے میونسپل کمشنر رویندر جادھو طویل رخصت پر ہیں۔ایڈمنسٹریٹیو اتھاریٹیز میں سے کوئی بولنے کیلئے تیار نہیں۔ انقلاب کے استفسار پر ایک (نام مخفی) اعلیٰ افسر نے کہا کہ مَیں اس معاملے میں قاعدہ قانون زیادہ نہیں جانتا۔ برسراقتدار نے اس معاملے میں واضح طور سے یا شفاف انداز میں اَب تک اپنے موقف کا اظہار نہیں کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK