Inquilab Logo Happiest Places to Work

برسراقتدار لوگوں نے ملک کے اندر پھوٹ ڈال رکھی ہے : نیہا بورا

Updated: August 28, 2026, 2:12 PM IST | Agency | Pune

آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نےطلبہ سے اپیل کی کہ وہ ۵؍ ستمبر کو دہلی میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کریں۔

AISA President Neha Bora. Picture: INN
’آئیسا‘ کی صدر نیہا بورا۔ تصویر: آئی این این

 آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی صدر نیہا بورا کا کہنا ہے کہ برسراقتدار لوگوں نے ملک میں پھوٹ ڈال رکھی ہے۔ اب پورے نظام کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔ ‘‘  وہ پونے میںساوتری بائی پھلے یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب کر رہی تھیں۔  نیہا بورا نے کہا ’’ ملک کی تقریباً ہر ریاست میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کی کینٹینوں میں کھانا، اسکالرشپ اور پیپر لیک جیسے مسائل پرطلبہ احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ طلبہ ملک بھر کی سیاست کوبدل رہے ہیں مگر حکومت  رویہ تبدیل نہیں ہو رہا ہے۔‘‘ طلبہ لیڈر نے کہا ’’حکومت نے یقین دہانی کروائی تھی کہ مظاہرین کے خلاف معاملہ درج نہیں کیا جائے گا اس  کے باوجود معاملے درج کئے جا رہے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ آواز اٹھائی جائے۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ ۵؍ ستمبر کو جنتر منتر پر مارچ نکالا جائے گا۔ وہ اس مارچ میں شرکت کریں گی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسمبلی لائبریری کی کتابیں نہ لوٹانے پر ممتا بنرجی کو وزیر گوری گھوش کی وارننگ

یاد رہے کہ جولائی کے مہینے میں دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کی طرف سے منعقدہ احتجاج میں حصہ لینے کے بعد  نیہا بورا نےبھوک ہڑتال کر دی تھی۔ اب وہ ۵؍ ستمبر کو نکالے جانے والے مارچ کی تیاری کر رہی ہیں اور اس کیلئے ملک بھر کا سفر کر رہی ہیں، طلبہ سے ملاقاتیں کر رہی ہیں۔ بدھ کی رات وہ پونے میں تھیں جہاں انہوں نے ساوتری بائی پھلے پونے یونیورسٹی میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمے کے قریب طلبہ سے گفتگو کی۔ انہوں نے صحافیوں سے  بھی بات کی۔ اس موقع پر یونیورسٹی اسٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی کے راہل ساسانے، نتن اندھا رے، ابھیشیک شیلکر، راہل گائیکواڑ، سیما وانکھیڈے موجود تھے۔

یہ بھی پڑھئے: مالیگائوں: ٹیپو سطان کی تصویر پر پھر تنازع

بورا نے کہا کہ یہ تحریک صرف پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں میں تبدیلیاں لانے کیلئے نہیں ہے بلکہ گھر گھر اور چائے کے اسٹالوں پر ہونے والی گفتگو کے موضوعات میں بھی تبدیلی لانے کیلئے بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے نظام کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ پارلیمانی تبدیلی کے ساتھ ساتھ نفرت کی سیاست کو ختم کرکے اتحاد کی سیاست  شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ملک بہت بڑا ہے اور حکومت میں شامل لوگوں نے بڑا فرق پیدا کر دیا ہے۔ اس تقسیم کو ختم کرنے کے بعد لوگوں کو منظم کرنے کا عمل شروع کرنا ہے جو بہت کام ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ’’ ملک بھر میں سفر کے دوران، ہمیں طلبہ کی طرف سے زبردست رسپانس مل رہا ہے۔ طلبہ ہم سے کہہ رہے ہیں کہ  جب ہم نے آپ کو دھرنے  پر بیٹھے ہوئے دیکھا تو ہمیں احساس ہوا کہ ہمارا مسئلہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ ہمارا مسئلہ اتنا ہی سنگین ہے جتنا یوجی ۔ نیٹ، تو ہم احتجاج کیوں نہیں کر سکتے؟ اگر آپ جیت سکتے ہیں تو ہم بھی جیت سکتے ہیں۔‘‘ بورا نے کہا کہ طلبہ کا جوش اور حوصلہ متاثر کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ طلبہ کا کہنا ہے کہ اگر حکومت طلبہ کی ان کی بات سننا چاہتی تو وہ اب تک سن چکی ہوتی۔ ان کو علمی باتیں سمجھ میں نہیں آتیں۔ ان سے استفسار کرنے جائیں تو ان کے کانوں میں گانے بجنے لگتے ہیں۔ تاہم، ہم جانتے ہیں کہ انہیں سننے پر کس طرح مجبور کیا جائے۔‘‘

یاد رہے کہ نیہا بورا جمعرات کوناگپور پہنچی تھیں جہاں انہوں نے طلبہ کے ایک اور گروپ سے گفتگو کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ۵؍ ستمبر کو جنتر منتر پر ہونے والے مارچ میں ملک بھر کے طلبہ کو شریک ہونا چاہئے۔  طلبہ لیڈر نے ملک کے تعلیمی نظام میں بہتری اور جمہوری صورتحال میں تبدیلی لانے کیلئے طلبہ سے اس جدوجہد میں شریک ہونے کی اپیل کی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK