Inquilab Logo

کے ڈی ایم سی میں غیرقانونی تعمیرات معاملے کے۹۳؍ اعلیٰ افسران آزاد گھوم رہے ہیں

Updated: July 11, 2024, 12:56 PM IST | Ejaz Abdul Ghani

ریاستی حکومت نے کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن(کے ڈی ایم سی ) کی حدود میں ۶۸ ؍ہزار غیر قانونی تعمیرات کے ذمہ دار ۹۳ ؍اعلی افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔

No action has been taken against the KDMC officers so far. Photo: INN
کے ڈی ایم سی افسران کیخلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ تصویر: آئی این این

ریاستی حکومت نے کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن(کے ڈی ایم سی ) کی حدود میں ۶۸ ؍ہزار غیر قانونی تعمیرات کے ذمہ دار ۹۳ ؍اعلی افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔ریاستی حکومت کے حکم نامہ کے باوجود خاطی افسران کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ خاطی افسران آزاد گھوم رہے ہیں اور انہیں کارروائی کا کوئی خوف بھی نہیں ہے۔
اس معاملے میں اعلیٰ افسران کے خلاف  کارروائی کا مطالبہ کرنے والے درخواست گزاروں نے بتایا کہ وہ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیںگے۔۱۹۸۳ء سے ۲۰۰۷ء کے درمیان  کے ڈی ایم سی کی حدود میں ۶۸؍ہزار غیرقانونی عمارتیں اور چالیاں تعمیر کی گئی تھیں۔ شکایت موصول ہونے کے بعد بامبے ہائی کورٹ نے’ اگیار سمیتی‘ تشکیل دی تھی۔  غیر قانونی تعمیرات معاملے میں کلکٹر درجہ کے ۱۱ ؍افسران، میونسپل کارپوریشن کے ۱۰ ؍اعلی افسران اور ۷۲؍ میونسپل ملازمین کو خاطی پایا گیا تھا۔اگیار سمیتی کی جانب سے عدالت اور ریاستی حکومت کو پیش کی گئی انکوائری رپورٹ کے مطابق متعلقہ خاطی افسران کے خلاف کسی بھی دفعہ کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے۔اگیار سمیتی کی رپورٹ کو قبول کرتے ہوئے اُس وقت کے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے خاطی افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھالیکن حیرت انگیزطور پر آج تک متعلقہ افسران کے  خلاف کسی بھی قسم کی  کارروائی نہیں کی گئی۔
اس ضمن میں شکایت کنندہ شری نواس گھانیکر نے کہا کہ ریاستی حکومت کے حکم نامہ کے باوجود خاطی افسران کے خلاف کارروائی نہیں کرنے کے پیچھے کیا مقصد ہے؟ اس کاانکشاف ہونا چاہئے۔انہوں نے بتایا کہ ۲۰۰۷ ءتک ۶۷؍  ہزار غیرقانونی عمارتیں تھیں جو ۲۰۲۴ء تک ایک لاکھ ۵۰ ؍ہزار تک پہنچ چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: راجستھان حکومت کا پہلا مکمل بجٹ پیش، ۳۵۰؍ بلین ڈالر کی معیشت کا ہدف

واضح رہےکہ ہائی کورٹ کے حکم نامہ کے بعد غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے کے ڈی ایم سی نے محکمہ پولیس سے ۵۶ ؍ پولیس اہلکاروں کا مطالبہ کیا تھا لیکن محکمہ پولیس نے ۴۲ ؍پولیس اہلکار کے ڈی ایم سی کے سپرد کئے تھے۔ اس کے عوض ہر سال کے ڈی ایم سی محکمہ پولیس کو ۲۴ ؍کروڑ روپے ادا کرتا ہے مگر پولیس اہلکاروں کو غیرقانونی عمارتوں کے خلاف کارروائی پر مامور کرنے کی بجائے پھیری والوں کو ہٹانے کیلئے ان کا استعمال کیاجاتا ہے۔حال ہی میں وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے حکم پر غیرقانونی ڈھابے اور بیئر بار مالکوں کے خلاف سختی سے انہدامی کارروائی کی جارہی ہےلیکن خاطی افسران کے خلاف کب کارروائی ہوگی؟  اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK