• Sun, 01 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نریندر مودی نے عرب وفد کے سامنے یہ بات دہرائی کہ ہندوستان فلسطینیوں کا حامی ہے

Updated: February 01, 2026, 4:10 PM IST | New Delhi

سنیچر کو وزیر اعظم نریندر مودی نے عرب وفد کے سامنے یہ بات دہرائی کہ ہندوستان فلسطین کے لوگوں کی حمایت میں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان غزہ میں امن منصوبے کا خیر مقدم کرتا ہے اور امن قائم کرنے کیلئے امریکی صدر ٹرمپ کی کوششوں کی تعریف بھی کی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

وزیر اعظم نریندر مودی نے سنیچر کو عرب وزرائے خارجہ کے ایک وفد کے سامنے یہ بات دہرائی کہ ہندوستان فلسطین کے لوگوں کا حامی ہے، مزید کہا کہ نئی دہلی نے غزہ امن منصوبے سمیت جاری امن کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ ’’مودی نے وفد کو علاقائی امن اور استحکام کی کوششوں کی حمایت میں عرب لیگ کی طرف سے ادا کئے گئے اہم کردار کی تعریف سے آگاہ کیا۔‘‘ یہ تبصرے اس وقت کئے گئے جب مودی نے وفد کی میزبانی کی، جس میں لیگ آف عرب اسٹیٹس کے سیکرٹری جنرل بھی شامل تھے۔ یہ گروپ ہندوستان اور عرب وزرائے خارجہ کی دوسری میٹنگ کیلئے ملک میں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سینئر آئی اے ایس افسرمنیشا مہیسکر مہاراشٹر کی ایڈیشنل چیف سیکریٹری (داخلہ) مقرر

عرب ریاستوں کی لیگ، ۱۹۴۵ء میں قائم ایک بین الحکومتی ادارہ، اپنے ۲۲؍ رکن ممالک کے درمیان علاقائی استحکام، اقتصادی تعاون اور سلامتی پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ واضح ہو کہ ہمیشہ سے ہندوستان کا موقف دو ریاستی حل رہا ہے کہ تسلیم شدہ اور باہمی طور پر متفقہ سرحدوں کے اندر فلسطین کی ایک قابل عمل اور خود مختار ریاست کا قیام ہو، جو اسرائیل کے ساتھ امن کے ساتھ رہے۔ فلسطین میں اکتوبر ۲۰۲۳ء میں جاری جنگ سے اب تک جبکہ جنگ بندی بھی شروع ہو چکی ہے، اسرائیل نے ۷۰؍ ہزار سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے۔ مودی نے غزہ میں امن کیلئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی کوششوں کی تعریف کی ہے اور اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکی امن منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے۔ امریکہ نے تقریباً ۶۰؍ ممالک میں سے ہندوستان کو ٹرمپ کے تجویز کردہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ واشنگٹن نے بورڈ کو تنازعات کے حل کیلئے ایک عالمی اقدام قرار دیا ہے، جس میں ابتدائی طور پر غزہ پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ نئی دہلی نے اس دعوت کو قبول کیا ہے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: یوم جمہوریہ کے پروگرام میں امبیڈکر کا تذکرہ نہ کرنے پرگریش مہاجن کیخلاف ناراضگی

بورڈ آف پیس اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی کی تجویز کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہوگا۔ نومبر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد نے بورڈ آف پیس کو کم از کم ۲۰۲۷ء کے آخر تک غزہ کی نگرانی کرنے کا اختیار دیا تھا۔ ٹرمپ نے پاکستان، ترکی، مصر، ارجنٹینا، انڈونیشیا، اٹلی، مراکش، برطانیہ، جرمنی، کنیڈا اور آسٹریلیا سمیت ۶۰؍ ممالک کو اس بورڈ میں شامل ہونے کی پیشکش کی ہے۔ ٹرمپ کے امن منصوبے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے نومبر میں منظور کیا تھا، جس میں روس اور چین نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ بورڈ آف پیس کس طرح کام کرے گا اور یہ فلسطینی ریاست کیلئے راہ ہموار کرے گا یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK