دہلی میں تاریخی عمارتوں اور سرکاری زمین سے متعلق کارروائیوں کے درمیان وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب واقع ایک تاریخی مسجد کا معاملہ عدالت پہنچ گیا ہے، جہاں حکام کی یقین دہانی کے بعد مسماری کی کارروائی چار ہفتوں کے لیے روک دی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: October 29, 2026, 4:31 PM IST | New Delhi
دہلی میں تاریخی عمارتوں اور سرکاری زمین سے متعلق کارروائیوں کے درمیان وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب واقع ایک تاریخی مسجد کا معاملہ عدالت پہنچ گیا ہے، جہاں حکام کی یقین دہانی کے بعد مسماری کی کارروائی چار ہفتوں کے لیے روک دی گئی ہے۔
دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سرکاری رہائش گاہ کے قریب واقع ایک تاریخی مسجد کو منہدم کرنے کا فیصلہ چار ہفتوں کے لیے مؤخر کردیا گیا ہے۔ حکام نے دہلی ہائی کورٹ کو یقین دہانی کرائی کہ اس مدت کے دوران مسجد کے خلاف کوئی جبری کارروائی نہیں کی جائے گی۔ ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ۱۹؍ اکتوبر کو مسجد کی انتظامیہ کو بے دخلی کا نوٹس موصول ہوا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ مسجد سرکاری زمین پر قائم ہے اور غیر مجاز ہے۔ لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس نے مسجد کی انتظامیہ کو چھ دن کے اندر احاطہ خالی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ مسجد کی انتظامیہ نے اس وقت بتایا تھا کہ مسجد کی بجلی اور پانی کی فراہمی بھی منقطع کردی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا وینزویلا کو امریکہ کی۵۱؍ویں ریاست بنانے کا دعویٰ
لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس مرکزی وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ اربن افیئرز کے تحت کام کرتا ہے۔ یہ ادارہ سرکاری ملکیت اور لیز پر دی گئی جائیدادوں، بالخصوص دہلی میں واقع املاک، کے انتظام کا ذمہ دار ہے۔ مسجد کو بے دخلی کا نوٹس ایسے وقت میں جاری کیا گیا جب وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے قریب واقع ریس کورس روڈ کے علاقے میں بڑے پیمانے پر انہدامی کارروائی جاری ہے۔ ’دی وائر‘ کے مطابق اس کارروائی کے دوران جھگیوں میں رہنے والے افراد کی بستیوں کو بھی ہٹایا جا رہا ہے۔ واضح ہو کہ ریس کورس مسجد نئی دہلی میونسپل کونسل کی ویب سائٹ پر درج تاریخی ورثے کی املاک میں شامل ہے۔
جمعرات کو حکومت نے عدالت کو بتایا کہ چار ہفتوں کے دوران لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس دہلی وقف بورڈ کی جانب سے پیش کی گئی عرضداشت پر فیصلہ کرے گا۔ تاہم، ’دی انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق حکومت نے علاقے میں انہدامی کارروائی کے پیش نظر حفاظتی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے مسجد تک رسائی کی اجازت دینے کی مخالفت کی۔ عدالت ایک نمازی کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کر رہی تھی، جس میں مسجد کو منہدم کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا تھا اور مسجد کے احاطے تک رسائی کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: دو پین کارڈ معاملہ: اعظم خان اور ان کے بیٹے کی سزا معطل، ضمانت منظور
۲۰؍ اکتوبر کو آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مسجد ۱۹۷۷ء سے سرکاری گزٹ میں درج وقف جائیداد ہے۔ اویسی نے دلیل دی کہ مسجد کو وقف ترمیمی قانون کے تحت ’’وقف بالاستعمال‘‘ کی حیثیت سے تحفظ حاصل ہے۔ اس اصطلاح سے مراد ایسی جائیداد ہے جسے طویل عرصے سے مذہبی مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کی بنیاد پر وقف تسلیم کیا گیا ہو۔ اویسی کے مطابق ماضی میں وقف کے طور پر رجسٹر کی گئی جائیدادیں ترمیم شدہ قانون کے تحت بدستور تحفظ کی مستحق ہیں۔
وقف اسلامی قانون کے تحت ایسی جائیداد یا عطیہ ہوتا ہے جسے مذہبی، تعلیمی یا فلاحی مقصد کے لیے مخصوص کیا جاتا ہے۔ ہر ریاست میں ایک وقف بورڈ ہوتا ہے، جو ایک قانونی ادارے کے طور پر جائیداد حاصل کرنے، اسے اپنے پاس رکھنے اور منتقل کرنے کے اختیارات رکھتا ہے۔ مسجد کو بے دخلی کا نوٹس جاری ہونے کے بعد اسلامی تنظیم جمعیت علمائے ہند کے ایک وفد نے کرن رجیجو سے ملاقات کی تھی۔ وفد نے ان سے اپیل کی کہ وہ عبادت گاہ اور اس سے متصل قبرستان کو مسمار ہونے سے بچانے کے لیے مداخلت کریں۔ تنظیم نے اپنے یادداشت نامے میں مسجد کے تاریخی ورثے کی فہرست میں شامل ہونے کا حوالہ دیا اور بجلی و پانی کی فراہمی بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس نے وزیر سے اپیل کی کہ وہ ’’اس بات کو یقینی بنائیں کہ نمازی بغیر کسی رکاوٹ کے مسجد میں داخل ہو سکیں اور نماز ادا کر سکیں۔‘‘ جمعیت علمائے ہند کے مطابق، کرن رجیجو نے وفد کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوششیں کریں گے۔