اتر پردیش کے تاجر ونئے اگروال نے بہن نہ ہونے کی کمی کو پورا کرنے کا ایک منفرد راستہ نکالا۔ انہوں نےغریب خاندانوں کی ۱۰۱؍ ہندو اور مسلم لڑکیوں کو اپنی بہن بنا کر ان کی شادیاں پوری شان و شوکت کے ساتھ کروائیں۔
EPAPER
Updated: October 28, 2026, 12:28 PM IST | Agency | Luckhnow
اتر پردیش کے تاجر ونئے اگروال نے بہن نہ ہونے کی کمی کو پورا کرنے کا ایک منفرد راستہ نکالا۔ انہوں نےغریب خاندانوں کی ۱۰۱؍ ہندو اور مسلم لڑکیوں کو اپنی بہن بنا کر ان کی شادیاں پوری شان و شوکت کے ساتھ کروائیں۔
اتر پردیش کے تاجر ونئے اگروال نے بہن نہ ہونے کی کمی کو پورا کرنے کا ایک منفرد راستہ نکالا۔ انہوں نےغریب خاندانوں کی ۱۰۱؍ ہندو اور مسلم لڑکیوں کو اپنی بہن بنا کر ان کی شادیاں پوری شان و شوکت کے ساتھ کروائیں۔اسنیکس کا کاروبار کرنے والے ونئے نے اتوار کو شاہجہاں پور کے کھیرنی باغ میں اجتماعی شادی کا اہتمام کیا۔ ۹۳؍ ہندو جوڑوں کی شادیاں ہندو ریتی رواج کے مطابق ہوئیں جبکہ ۸؍ مسلم جوڑوں کا نکاح پڑھانے کیلئے علماء موجود تھے۔
ونئے اگروال نے بتایا کہ بہن نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ہمیشہ اس کمی کا احساس رہا۔ اسی احساس نے مالی مشکلات سے دوچار خاندانوں کی بیٹیوں کی شادی میں مدد کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے۲۰۱۸ء میں شادیوں کے موقع پر لوگوں کی مدد کرنا شروع کیا۔ بعد میں والدہ سروج اگروال کے مشورہ پر انہوں نے اس کام کو منظم انداز میں انجام دینا شروع کیا۔ ۲۰۲۳ءمیں ۱۱؍ لڑکیوں کی شادی سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ اگلے سال ۲۱؍ اور اس کے بعد ۵۱؍لڑکیوں تک پہنچ گیا۔ اس سال ۱۰۱؍ لڑکیوں کی شادیاں کروائی گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: راجستھان گرام پنچایت الیکشن: انفلوئنسر کے فالوورز۲۰؍لاکھ، ووٹ ملے صرف۳۳
ہر جوڑے کو روزمرہ کے استعمال کی ضروری اشیا تحفے میں دی گئیں۔ ان میں ٹیلی ویژن، فریج، واشنگ مشین، بیڈ، الماری اور دیگر سامان شامل تھا۔ یہ تقریب ہر سال رام نومی کے آس پاس منعقد کی جاتی ہے، جو ان کے آنجہانی والد اشوک اگروال کی یوم پیدائش بھی ہے۔ ونئے اگروال نے بتایا کہ اس سال اجتماعی شادی کیلئے تقریباً ۲۰۰؍ درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ ضرورتمند خاندانوں کی شناخت کیلئے تین مراحل میں جانچ پڑتال کے بعد ۱۰۱؍دلہنوں کا انتخاب کیا گیا۔
خوش حال خاندانوں کی درخواستیں اور دوسری شادی کیلئےآنے والی درخواستیں مسترد کردی گئیں۔ ونئے اگروال اس پورے پروگرام کے اخراجات خود برداشت کرتے ہیں ،کسی سے مالی مدد نہیں لیتے۔انہوں نے بتایا کہ جب لوگ انہیں رقم دینے کی پیش کش کرتے ہیں تو وہ ان سے کہتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ضرورت مند لڑکیوں کی شادی کا انتظام خودکریں۔
۲۴؍ سالہ مسکان بھی دلہنوں میں شامل تھیں۔ ان کے بھائی شاہد نے بتایا کہ ان کے والد رکشا چلاتے ہیں جبکہ والدہ پان اور سپاری فروخت کرتی ہیں۔ خاندان کی مالی حالت اتنی خراب ہے کہ روزانہ ۲؍وقت کا کھانا فراہم کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔شاہد کے مطابق ’’ بہن کی شادی کیلئے قرض لینا بہت مشکل ہوتا۔ یہاں اس کی شادی اتنی دھوم دھام سے ہورہی ہے۔ یہ اللہ کا کرم ہے۔‘‘شاہجہاں پور کے ڈاکٹر اور سماجی کارکن ستیہ پرکاش مشرا نے ونئے اگروال کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ شہر کو اس اقدام پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی سماجی خدمت ذات، مذہب یا مالی حیثیت کی بنیاد پر کسی امتیاز کے بغیر کی جانی چاہیے۔