مستقبل کا حال بتانےوالے اوم پرکاش اپنے ہی مستقبل کا اندازہ نہ لگا سکے۔
EPAPER
Updated: October 28, 2026, 12:20 PM IST | Agency | New Delhi
مستقبل کا حال بتانےوالے اوم پرکاش اپنے ہی مستقبل کا اندازہ نہ لگا سکے۔
سوشل میڈیا پر لاکھوں فالوورز کی موجودگی الیکشن میں اچھی کارکردگی کی ضمانت نہیں ، چاہے کوئی مستقبل کا حال بتانے کا دعویٰ ہی کیوں نہ کرتا ہو۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جس سےخود کو نجو می کہنے والے سو اوم پرکاش بشنوئی دوچار ہوئے ہیں۔ انسٹاگرام، فیس بک اور یوٹیوب پر ان کے فالوورز کی مجموعی تعداد۲۰؍ لاکھ سے زیادہ ہے لیکن ۱۶۰۰؍ ووٹرس والی جودھپور کی گرام پنچایت ’اندور کی دھانی ‘ میں انہیں صرف ۳۳؍ ووٹ ملے جبکہ نوٹا کو ۱۰؍ ووٹ ملے ہیں۔ انتخاب میں اس شرمناک ہار نے بشنوئی کو حیران کردیا ہے۔ انسٹاگرام پر ان کے ۱۴؍ لاکھ فالوورز ہیں جبکہ فیس بک پر۲ء۳۴؍لاکھ اور یوٹیوب پر ۵؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار افراد انہیں فالو کرتے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر انتخابی مہم بھی بھرپور طریقے سے چلائی لیکن پنچایت الیکشن میں یہ کام نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھئے: دواؤں میں لوٹ مار پر سپریم کورٹ برہم، حکومت کی بھی سرزنش
اوم پرکاش بشنوئی سمیت ۳؍امیدوار میدان میں تھے۔ دوسرے امیدواروں میں سے ایک پیشے سے استاذتھا جسے۵۲۷؍ووٹ ملے جبکہ کامیاب امیدوار کاروں کاتاجر ہے۔ بشنوئی کو سوشل میڈیا پر اپنی مقبولیت کی وجہ سے الیکشن انتہائی آسان نظر آرہا ہے اور ان کے اعتماد کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اپنے آبائی گاؤں میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’’گاؤں کے لوگوں نے ہی الیکشن لڑنے کی ترغیب دی تھی ۔ مجھے یقین تھا کہ لوگ حمایت کریں گے لیکن جب ووٹوں کی گنتی ہوئی تو مجھے صرف۳۳؍ ووٹ ملے، جبکہ ۱۰؍ ووٹ نوٹا کو گئے۔‘‘ اپنی خفت مٹاتے ہوئے بشنوئی نےکہا کہ انہوں نے ووٹروں کو نہ تو پیسے یا نشہ آور اشیا تقسیم کیں اور نہ ہی انتخابی مہم کیلئے گاڑیوں کا بڑا قافلہ استعمال کیا۔ ان کے مطابق، انہوں نے اسی گاڑی سے عوام کے درمیان رابطہ مہم جاری رکھی جو وہ پہلے استعمال کرتے تھے۔ انتخابی نتائج پر غور کرتے ہوئے بشنوئی نے سوشل میڈیا کی مقبولیت اور زمینی سطح پر عوامی حمایت کے درمیان فرق کو تسلیم کیا۔