ریاست کے ڈیڑھ کروڑ کسانوںک و فی کس ۵؍ ہزار روپےکی امداد دینےکا عمل شروع، ریاست نے مرکز سے ۴۰؍ہزار رکروڑ کی مالی امداد بھی طلب کی۔
EPAPER
Updated: October 28, 2026, 1:25 PM IST | Agency | Mumbai
ریاست کے ڈیڑھ کروڑ کسانوںک و فی کس ۵؍ ہزار روپےکی امداد دینےکا عمل شروع، ریاست نے مرکز سے ۴۰؍ہزار رکروڑ کی مالی امداد بھی طلب کی۔
مہاراشٹر حکومت نے زرعی بحران کی شدت کو کم کرنے کے لیے ایک اہم مالیاتی اقدام کرتے ہوئے منگل کو ریاست کے ۳۰۵؍ تعلقوں کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا اور تقریباً ڈیڑھ کروڑ متاثرہ کسانوں کو فوری راحت فراہم کرنے کیلئے فی کس ۵؍ ہزارروپے کی پیشگی امداد براہ راست ان کے کھاتوں میں منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔فوری مالی امداد کے ساتھ ہی ریاستی کابینہ نے طویل مدتی راحت رسانی اور بازآبادکاری کے اقدامات کیلئے مرکزی حکومت سے۴۰؍ ہزار کروڑ روپے کی مالی امداد طلب کرنے کی تجویز بھی منظور کی ہے۔ یہ تجویز۳۱؍ اکتوبر کو مرکزی حکومت کے سامنے پیش کی جائے گی ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے منگل کو منعقدہ کابینہ کے اجلاس کے دوران واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے عہدیداروں سے کہا کہ کسانوں کو۵؍ہزار روپے کی پیشگی امداد اسی ہفتے ان کے بینک کھاتوں میں براہ راست منتقل کی جائے۔
یہ بھی پڑھئے: مسجد کے سامنے سے جلوس کی اجازت کیوں دی گئی ؟
انہوں نے ہدایت دی کہ مرکزی حکومت سے امدادی فنڈز کی منظوری کا انتظار کیے بغیر یہ رقم جاری کی جائے۔ یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ فرنویس، ریاستی کابینہ کے وزراء اور اراکین اسمبلی کی جانب سے متاثرہ علاقوں کے دوروں کے بعد کیا گیا ہے۔ ان دوروں کے موقع پر انہوں نے کھیتوں میں پہنچ کر کسانوں سے بات چیت کی اور زمینی صورت حال کا جائزہ لیا۔ وزیر اعلیٰ نے کسانوں کو یقین دلایا تھا کہ اس بحران کے دوران ریاستی حکومت انہیں بے سہارا نہیں چھوڑے گی۔بعد ازاں مرکزی حکومت کی جائزہ ٹیموں اور ریاستی عہدیداروں نے فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ مکمل کر لیا۔ اس سلسلے میں نقصان کی تفصیلات درج کرنے کے لیے پنچ نامے بھی تیار کیے گئے۔ان جائزہ رپورٹوں کی بنیاد پر۴۰؍ ہزار کروڑ روپے کے جامع امدادی پیکیج کی تجویز کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جسے اکتوبر کے اختتام تک باضابطہ طور پر مرکزی حکومت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔