کن گاؤں معاملہ Iجلگائوں کی ایکتا سنگٹھن اور اے پی سی آرکا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے سوال، ۲۰۲۳ء اور۲۰۲۵ء میںاجازت نہ دینے کا حوالہ دیا۔
EPAPER
Updated: October 28, 2026, 1:21 PM IST | Sharjeel Qureshi | Jalgaon
کن گاؤں معاملہ Iجلگائوں کی ایکتا سنگٹھن اور اے پی سی آرکا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے سوال، ۲۰۲۳ء اور۲۰۲۵ء میںاجازت نہ دینے کا حوالہ دیا۔
بیاول تعلقہ کے کن گاؤں میں اتوار کی جامع مسجد کے سامنے سےآر ایس ایس کےجلوس( پتھ سنچلن ) کوگزرنے کی اجازت دینے کے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ جلگاؤں ضلع ایکتا سنگٹھن اور اے پی سی آر کے وفد نے کیا ہے ۔ ان تنظیموںکے وفد نے منگل کو ضلع کلکٹر روہن گھوگھے سے ملاقات کرکے تحریری درخواست پیش کی اور واضح کیا کہ اس سے قبل مسجد کے سامنے سے جلوس کی اجازت نہیںدی گئی تھی ، پھر اس بار اجازت کیوں دے دی گئی۔
وفد کا کہنا ہے کہ۲۰۲۳ء اور۲۰۲۵ء میں اسی راستے سے جلوس نکالنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ۲۳؍اکتوبر۲۰۲۵ء اور۱۹؍ ؍اکتوبر۲۰۲۶ءکو جامع مسجد کے سامنے سےجلوس کے روٹ پر اعتراضات درج کرائے گئے تھے اور دستیاب معلومات کے مطابق اس وقت اجازت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔ پھر۲۴؍ اکتوبر۲۰۲۶ءکوایسے کیا حالات پیدا ہوئے کہ پہلے حساس سمجھا جانے والا راستہ اچانک محفوظ اور مناسب قرار دے دیا گیا؟
یہ بھی پڑھئے: بچوں کو ہر سہولت کی فراہمی جسمانی سرگرمیاں، خودمختاری متاثر کر رہی ہے: فزیوتھیراپسٹ
قابل ذکر ہے کہ۱۸؍ اکتوبر۲۰۲۶ء کوبیاول پولیس نے انڈین سول سیکوریٹی کوڈ(بی این ایس ایس)کی دفعہ۱۶۸؍ کے تحت جاری کردہ ایک نوٹس میں مذہبی مقام کے قریب کے علاقے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس راستےسے دُرگا دوڑکو جانے کی اجازت کو منسوخ کرکےمتبادل روٹ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔پھر صرف ۵؍ دن بعد۲۴؍ اکتوبر کو اسی حساس علاقے سے آر ایس ایس کے جلوس کی اجازت دینے کا فیصلہ کیاگیاجس پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔سوال اٹھ رہا ہے کہ جب ۱۸؍اکتوبر کو دُرگا پوجا کے جلوس کو ایک مذہبی مقام کے قریب سے گزرنے سے منع کیا گیا تھا، تو اسی علاقے کیلئے۲۴؍اکتوبر کو ایک مختلف معیار کیوں اپنایا گیا؟‘‘ یہ سیدھا سوال وفد نے اٹھایا۔وفد نے اجازت نامے کی اصل فائل، پولیس رپورٹس، امن و امان کی رپورٹ اور متعلقہ دستاویزات کی جانچ کرکے دونوں فیصلوں کی وجوہات واضح کرنے اور قانون کے یکساں نفاذ کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: بہن سے محروم تاجر نے۱۰۱؍ہندو مسلم لڑکیوں کا بھائی بن کر ان کی شادیاں کروائیں
کریٹ سومیا کا کن گائوں کا دورہ ،شر انگیزی
شر انگیز لیڈر اور سابق ایم پی کریٹ سومیا منگل کی سہ پہر کن گائوں پہنچے ۔اس موقع پر انہیں پولیس کے ذریعے کن گائوں کی جامع مسجد کے پاس جانے سے روکے جانے کی اطلاع ہے۔اسی موقع پر انہوں نے مقامی لوگوں سے بات چیت کی اور پولیس افسروں سے اب تک کی کاروائی کی تفصیلا ت حاصل کی ۔ اس موقع پر کریٹ سومیا نے اشتعال انگیزی کرتے ہوئے کہاکہ کن گائوں میں ہندوئوں کے تہوار اور جینتی کےجلوس کے علاوہ انتم یاترا بھی جامع مسجد کے سامنے سےنہیں گزرنے نہیں دی جاتی ۔ اب میں دیکھتا ہوں ،کون روکتا ہے، ہم قانون پر بھروسہ رکھتے ہیںاور اگر پرمیشن نہیں ملتی ہے تو میں تم کو یہاں سے لے جاؤں گا، دیکھتا ہوں یہ کیسے روک سکتے ہیں۔ جلگائوں میںکورٹ چوک پرواقع ریاستی وزیر گریش مہاجن کے جے ایم فائونڈیشن کے دفتر پر منعقدہ پریس کانفرنس میںذرائع ابلاغ سے بات چیت میں کہا کہ ’’آج کے بعد کن گائوں میں کوئی بھی یاترا ،چھتر پتی شیواجی مہاراج کی جینتی کا جلوس ہو ،کسی پر بھی پابندی نہیں ہوگی ،سبھی مین راستے سے گزریں گے ،یہ سوال صرف کن گائوں کا نہیں، پورے مہاراشٹر کاہے ۔اب جو کوئی بھی دہشت گرد ہمیں روکنے کی کوشش کرے گا تو اس کو سبق سکھایا جائے گا ۔‘‘اس پریس کانفرنس میں بیاول حلقہ اسمبلی کے رُکن امول جاوڑے، جلگائوں میئر دیپ مالاکاڑے بھی موجود تھے۔