Updated: March 05, 2026, 7:05 PM IST
| New Delhi
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگ اور آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے سے ہندوستان میں گھریلو ایل پی جی سپلائی پر خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے توانائی کی ترسیل متاثر رہی تو گھریلو گیس سلنڈروں کی فراہمی دباؤ میں آ سکتی ہے اور قیمتوں میں اضافہ ممکن ہے۔ ہندوستان اپنی ایل پی جی کی ضروریات کا تقریباً ۸۰؍ سے ۸۵؍ فیصد درآمد کرتا ہے، جس میں زیادہ تر سپلائی خلیجی ممالک سے آتی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ یہ آبی راستہ عالمی توانائی تجارت کا ایک اہم مرکز ہے جہاں سے ہندوستان کی توانائی درآمدات کا بڑا حصہ گزرتا ہے اور خلیجی ممالک سے تیل اور گیس ہندوستان پہنچتی ہے۔ اگر اس راستے پر ٹینکروں کی آمدورفت رکی رہی تو گھریلو گیس کی سپلائی براہ راست متاثر ہو سکتی ہے۔
ایل پی جی سپلائی سب سے زیادہ خطرے میں
ماہرین کے مطابق خام تیل اور ایل این جی کے مقابلے میں ایل پی جی کی سپلائی زیادہ حساس ہے۔ کیپلر کے ریسرچ تجزیہ کار سمیت رٹولیا کے مطابق ’’ہندوستان اپنی ایل پی جی کی ضروریات کا تقریباً ۸۰؍ سے ۸۵؍ فیصد درآمد کرتا ہے، اور اس کا زیادہ تر حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے جو تقریباً مکمل طور پر ہرمز کے راستے منتقل ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے پاس اسٹریٹجک ایل پی جی ذخائر خام تیل کے مقابلے میں بہت کم ہیں، جس کی وجہ سے سپلائی زیادہ کمزور ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان نے تیل خریدنے میں ازسرنو دلچسپی دکھائی ہے: روس
متبادل سپلائی کے محدود امکانات
تجزیہ کاروں کے مطابق ہندوستان متبادل سپلائی کے لیے چند ممالک کی طرف رجوع کر سکتا ہے، جن میں امریکہ، روس اور ارجنٹائنا شامل ہیں۔ تاہم ان ذرائع سے ملنے والی مقدار محدود ہے اور اس کے لیے زیادہ مال برداری لاگت اور اسپاٹ مارکیٹ کی دستیابی پر انحصار کرنا پڑے گا۔
موجودہ اسٹاک تقریباً ۳۰؍ دن کے لیے کافی
سرکاری حکام کے مطابق ہندوستان کے پاس موجودہ ایل پی جی اسٹاک تقریباً ۳۰؍ دن تک چل سکتا ہے۔ اگر مارچ کے طے شدہ کارگوز میں تاخیر ہوئی تو یہ ذخیرہ تیزی سے کم ہو سکتا ہے۔ کچھ شہروں میں گیس ڈسٹری بیوٹرز نے بتایا ہے کہ صارفین اضافی سلنڈر بک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکام نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ ’’گھبراہٹ میں خریداری سے سپلائی پر غیر ضروری دباؤ پڑ سکتا ہے۔‘‘
⸻ہندوستان دنیا کا دوسرا بڑا ایل پی جی درآمد کنندہ
کیپلر کے مطابق ہندوستان دنیا کا دوسرا بڑا ایل پی جی درآمد کنندہ ہے۔ اس کی ۹۰؍ فیصد سے زیادہ درآمدات مشرق وسطیٰ سے آتی ہیں۔ اگر ہرمز کے قریب جہازوں کی آمدورفت متاثر رہی تو مارچ میں ہونے والی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
خام تیل کی سپلائی نسبتاً محفوظ
خام تیل کے معاملے میں ہندوستان کے پاس قدرے بہتر تحفظ موجود ہے۔ ہندوستان کے پاس تقریباً آٹھ ہفتوں کے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر ہیں۔ عام طور پر ہندوستان روزانہ تقریباً ۵ء۲؍ سے ۷ء۲؍ ملین بیرل خام تیل خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے، جن میں عراق، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت شامل ہیں۔ خلیج سے آنے والے ٹینکروں کو ہندوستانی بندرگاہوں تک پہنچنے میں ۵؍ سے ۷؍ دن لگتے ہیں جبکہ بحر اوقیانوس سے آنے والے کارگو کو ۲۵؍ سے ۴۵؍ دن لگ سکتے ہیں۔
یہ بھی پرھئے: ایرانی ہتھیار دشمن کیلئے قہر بن گئے ہیں
روسی تیل متبادل کے طور پر دستیاب
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خلیجی سپلائی متاثر ہوئی تو ہندوستان دوبارہ روسی خام تیل کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔ روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا ہے کہ روس ہندوستان اور چین کو تیل کی سپلائی بڑھانے کے لیے تیار ہے۔
عالمی تیل قیمتوں میں اضافہ
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث عالمی تیل قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ برینٹ کروڈ کی قیمت ۸۵؍ ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی۔ کچھ مالیاتی اداروں کے مطابق اگر بحران جاری رہا تو قیمت ۱۲۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ اس سے ہندوستان کا درآمدی بل بڑھے گا، تجارتی خسارہ بڑھ سکتا ہے اور پیٹرول اور ایل پی جی کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
ایل این جی سپلاائی بھی دباؤ میں
ہندوستان اپنی ایل این جی کی تقریباً ۴۰؍ فیصد سپلائی قطر انرجی سے حاصل کرتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق قطر نے ایرانی ڈرون حملے کے بعد اپنے راس لفان ایل این جی پلانٹ میں پیداوار عارضی طور پر روک دی۔
یہ بھی پڑھئے: ایرانی پاسداران انقلاب کا آنے والے دنوں میں حملے مزید شدید اور وسیع کرنے کا اعلان
صنعتی شعبوں میں گیس سپلائی میں کمی
ہندوستانی گیس کمپنیاں جیسے گیل، انڈین آئل، اور بھارت پیٹرولیم نے صنعتی صارفین کو گیس سپلائی میں ممکنہ ۱۰؍ سے ۳۰؍ فیصد کمی سے خبردار کیا ہے۔ گھریلو گیس اور سی این جی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
بحران طویل ہوا تو قیمتیں بڑھ سکتی ہیں
ماہرین کے مطابق اگر ہرمز میں رکاوٹ ایک ہفتے سے زیادہ جاری رہی تو سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، درآمدی لاگت بڑھ سکتی ہے اور گھریلو گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایک توانائی تجزیہ کار نے کہا کہ ’’ہرمز توانائی کے تحفظ کے نظام کی ایک اہم شریان ہے۔ اگر یہ بند رہتی ہے تو سپلائی کا دباؤ جاری رہے گا۔‘‘