پونے کے کونڈوا علاقے کےکوثر باغ ریزیڈنٹس فورم کی جانب سے دائر کردہ پٹیشن پر ہائی کورٹ نے کہاکہ سڑکوں کو تجاوزات سے پاک رکھنا شہری انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔
بامبے ہائی کو رٹ کی عمارت۔ تصویر: آئی این این
پونے کے کونڈوا علاقے میں واقع کوثر باغ ریذیڈنٹس فورم نے مذکورہ علاقے میں غیر قانونی قبضہ جات و تعمیرات کیخلاف بامبے ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کرتے ہوئے شکایت کے باوجود شہری انتظامیہ کے ذریعہ کارروائی نہ کرنے کا الزام لگایا تھا ۔مذکورہ معاملہ میں کورٹ نے مبینہ غیر قانونی تجاوزات اور غیر مجاز تعمیرات سے متعلق موصولہ شکایات پر پونے کارپوریشن کو قانون کے مطابق فیصلہ کرنے اور کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے اورمذکورہ مسئلہ کو آپسی صلاح و مشورہ سے حل کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مہیش چندر ترپاٹھی اور جسٹس ادویت ایم سیٹھانا پر مشتمل ڈویژن بنچ کے روبررو کوثر باغ ریزیڈنٹس فورم نے داخل کردہ عرضداشت کے ذریعہ اپیل کی کہ وہ شہری انتظامیہ کو مذکورہ علاقے میں کئے جانے والے غیر قانونی قبضہ جات و تجاوزات کو منہدم کرنے اور ہٹانے کا حکم جاری کریں۔دوران سماعت یہ الزام بھی لگایا گیا کہ ’’ غیر قانونی قبضہ جات اور تجاوزات کئے جانے اور شکایتوں کے موصول ہونے کے باوجود شہر انتظامیہ نے اس ضمن میں کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔‘‘
درخواست گزاروں کی جانب سے وکلاء راہل ایس کاٹے اور ہرتوک کاٹے نے پیروی کرتے ہوئے غیر قانونی قبضہ جات اور تجاوزات کی نشاندہی کی اور بتایا کہ مذکورہ علاقے میں کھانے پینے کے مراکز ، ہوٹل ، فٹ پاتھوں پر قبضہ کے علاوہ کئی عارضی ڈھانچے تعمیر کئے گئے ہیں جن میں تقریبات کے ہال بھی شامل ہیں جو بنا لائسنس کے چلائے جارہے ہیں۔ انہوں نے مذکورہ علاقے میں غیر قانونی پارکنگ ، غیر مجاز رکشا اسٹینڈ اور حفظان صحت کے فقدان ، فائر سیفٹی اور ایمرجنسی میں ایمبولنس اور فائر بریگیڈ کے لئے راستہ نہ ہونے اور ٹریفک جام ہونے کے مسائل کو بھی عدالت کے روبرو پیش کیا تھا۔ عرضداشت کے ذریعہ قانونی خلاف ورزیاں کرنے کے باوجود کارپوریشن کے ذریعہ کسی بھی قسم کی کارروائی یا اقدام نہ کئے جانے کا الزام لگایا گیا۔
چیف جسٹس نے داخل کردہ عرضداشت اور فراہم کردہ اطلاعات کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ ’’یہ شہری انتظامیہ کی اولین ذمہ داریوں می سے ایک ہے کہ وہ غیر قانونی قبضہ جات وتجاوزات کے خلاف قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی کرے ۔یہ نہ صرف ان کی ڈیوٹی کا حصہ ہے بلکہ قبضہ جات سے پاک سڑک اور فٹ پاتھ شہریوں کا حق ہے۔‘‘ ساتھ ہی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی غیر قانونی قبضہ جات و تجاوزات کے خلاف قانونی کارروائی سے قبل قانون کے مطابق عمل کرنا بھی ضروری ہے اس لئے کارروائی سے قبل کارپوریشن نوٹس جاری کرے ۔کورٹ نے حکومت اور کارپوریشن کے جانب سے پیش ہونے والے وکلاء نیہا ایس بھڑے ، اے او چندورکر اور ایم پی بی ٹھاکر کو مخاطب کرتے ہوئے یہ ہدایت بھی دی کہ تمام فریق آپسی صلاح و مشورہ سے مذکورہ مسئلہ کو حل کریں ۔