سینیگال کے سابق صدر ۲۰۰۱ء میں منصب صدارت پر فائز ہوئے اور ۲۰۱۳ء میں سبکدوش ہو گئے۔
عبداللہ واد نے مئی کے آکر میں سویں سالگرہ منائی- تصویر:آئی این این
سابق سینیگالی صدر عبداللہ واد نے گزشتہ مئی کے اواخر میں اپنی سویں سالگرہ منائی، جس کے بعد وہ ۱۰۰؍ سال کی عمر عبور کرنے والے پہلے افریقی صدر بن گئے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے صد سالہ صدور کے کلب میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ ان سے پہلے اس کلب میں صرف تین صدور شامل ہیں جن میں امریکی صدر جیمی کارٹر(۱۰۰)، ایکواڈور کے گیلرمو روڈریگیز (۱۰۳)اور ملائیشیا کے مہاتیر محمد(۱۰۱) شامل ہیں۔گویا جغرافیائی تقسیم نے صدور کے ۱۰۰؍ سال کی عمر تک پہنچنے میں اہم کردار نبھایا ہے۔لمبی عمر کو شمالی امریکہ، ایشیا اور جنوبی امریکہ کے براعظموں کے درمیان تقسیم کیا گیا، پھر آخر کار افریقہ کی باری عبداللہ واد کے ذریعے آئی جنہوں نے اس درجہ بندی میں کم از کم اپنے یورپی ہم منصبوں کو پیچھے چھوڑ دیا اور ان سے پہلے ۱۰۰؍ سالہ صدور کے کلب میں داخل ہو گئے۔باوجود اس کے کہ یورپ معیار زندگی، طبی نگہداشت کی سطح اور دیگر معیارات کے لحاظ سے ممتاز خطہ ہے جو عام طور پر انسان کی عمر بڑھانے میں مدد کرتے ہیں۔ نیز وہاں کی سیاسی زندگی کی پختگی اور ان پیچیدگیوں سے پاک ہونا ہے جن کا افریقی ممالک کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عبداللہ واد نے اپنی زندگی ظلم کے خلاف لڑتے ہوئے اور جلاوطنی میں گزاری۔ وہ ایک طویل عرصے تک اپوزیشن لیڈر رہے اور انہوں نے اپنی جدوجہد سے افریقہ میں جمہوریت کے حصول کیلئے مکالمے اور امن پر یقین رکھنے والے اپوزیشن لیڈرکی ایک مثال قائم کی۔حتیٰ کہ ان کے شدید مخالفین نے بھی ان کی کارکردگی، ان کے رجحانات، ان کے سکون اور اپنے مخالفین کے ساتھ ہر اختلاف کے باوجود انسانی اقدار کو برقرار رکھنے کے ان کے جذبے کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکے۔واد نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور وکالت کے پیشے سے وابستہ رہے۔ جب انہوں نے سیاسی میدان میں قدم رکھا تو سینیگالی ڈیموکریٹک پارٹی کی بنیاد رکھی۔واد نے ۲۰۰۰ءکے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے سے پہلے چار صدارتی انتخابات میں حصہ لیا جہاں وہ اس وقت کے صدر عبدو ضیوف کو شکست دینے میں کامیاب رہے، جنہوں نے ۱۹؍ سال تک سینیگال پر حکومت کی۔ عبداللہ واد نے ۲۰۰۱ءمیں آئینی ترامیم کی منظوری دی جس کے تحت صدر کو صرف ایک بار دوبارہ انتخاب کیلئے اہل قرار دیا گیا، چنانچہ وہ ۲۰۰۷ء میں آخری بار دوبارہ منتخب ہوئے۔