Updated: August 24, 2026, 10:06 PM IST
| New Delhi
نیتی آیوگ نے چھٹی جماعت سے اسکولی نصاب میں ہنر مندی کو شامل کرنے، نویں جماعت سے پیشہ ورانہ ”کوشل ٹریکس“ شروع کرنے اور بورڈ امتحانات میں یکساں اہمیت کے ساتھ پیشہ ورانہ مضامین کو شامل کرنے کی سفارش کی۔ رپورٹ میں نشان دہی کی گئی ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ء کے تحت دفعات کے باوجود، فی الحال ۱۲ میں سے ایک سے بھی کم سیکنڈری اسکول پیشہ ورانہ مضامین پیش کرتے ہیں۔
نیتی آیوگ نے ۲۰۲۱ء میں کئے گئے نیشنل سیمپل سروے کے ۷۸ ویں راؤنڈ کے اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ ”وکست بھارت@۲۰۴۷ء کیلئے ہنرمندی کا نیا تصور“ (Reimagining Skilling for Viksit Bharat@2047) شائع کی ہے جس میں انکشاف ہوا ہے کہ ۱۵ سے ۲۹ سال کی عمر کے ۷ء۸ کروڑ ہندوستانی نوجوان نہ تو پڑھ رہے تھے، نہ کام کر رہے تھے اور نہ ہی کسی قسم کی تربیت حاصل کر رہے تھے۔ رپورٹ میں اس گروپ کی شناخت NEET نوجوانوں کے طور پر کی گئی ہے یعنی وہ لوگ جو تعلیم، روزگار یا تربیت میں شامل نہیں ہیں (Not in Education, Employment or Training)۔ ان میں وہ بے روزگار افراد بھی شامل ہے جو ملک کی تقریباً ۳۷ کروڑ افراد پر مشتمل جین زی (Gen Z) آبادی کا تقریباً ۲۵ فیصد بنتے ہیں۔
رپورٹ میں رسمی تعلیم اور روزگار کے درمیان ایک کمزور تعلق بھی پایا گیا۔ صرف ۲۵ء۸ فیصد گریجویٹس اپنی قابلیت کے مطابق عہدوں پر ملازم ہیں، جو عملی تجربے اور صنعت پر مبنی تربیت میں موجود خامیوں کی نشان دہی کرتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم آمدنی والے گھرانوں کے طلبہ اکثر اضافی بامعاوضہ ہنر مندی کے پروگراموں کی فیس ادا نہیں کر سکتے، جس کے نتیجے میں بہت سے لوگ کم تنخواہ والی ملازمتیں اختیار کر لیتے ہیں یا افرادی قوت (ورک فورس) سے مکمل طور پر باہر ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: حکومت نوئیڈا کے کارکنوں کی طرح طلبہ کو بھی نشانہ بنانا چاہتی ہے: ابھیجیت دپکے
رپورٹ میں پیش کردہ تجاویز
نیتی آیوگ نے چھٹی جماعت سے اسکولی نصاب میں ہنر مندی کو شامل کرنے، نویں جماعت سے پیشہ ورانہ ”کوشل ٹریکس“ شروع کرنے اور بورڈ امتحانات میں یکساں اہمیت کے ساتھ پیشہ ورانہ مضامین کو شامل کرنے کی سفارش کی۔ رپورٹ میں نشان دہی کی گئی ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ء کے تحت دفعات کے باوجود، فی الحال ۱۲ میں سے ایک سے بھی کم سیکنڈری اسکول پیشہ ورانہ مضامین پیش کرتے ہیں۔
رپورٹ میں اعلیٰ تعلیم کیلئے روایتی ڈگریوں سے صنعت سے ہم آہنگ مہارتوں کی طرف منتقلی، اپرنٹس شپس کے وسیع تر استعمال اور ’سیکھنے کے دوران کمانے‘ (earn-while-you-learn) کے لچکدار پروگراموں کا مطالبہ کیا گیا۔ اس نے اپرنٹس شپس کو ایک اہم گمشدہ کڑی کے طور پر اجاگر کیا اور مواقع بڑھانے کیلئے چھوٹی اور درمیانی درجوں کی صنعتوں MSMEs کو مراعات دینے کی سفارش کی۔ واضح رہے کہ ۱۵-۲۰۱۴ء سے اب تک ۶۷ء۷ کروڑ سے زائد افراد کو تربیت دی جا چکی ہے اور ۲۶-۲۰۲۵ء کے بجٹ میں ہنر مندی کیلئے ۳۴۰۰۰ کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ صرف اخراجات میں اضافہ خود بخود بہتر روزگار کے نتائج میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھئے: ریلوے کی چادر اوڑھے کچھ افراد بازار میں گھومتے نظر آئے، ویڈیو وائرل
اپوزیشن کی حکومت پر تنقید
اس رپورٹ پر اپوزیشن لیڈران کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے حکومت پر تعلیم سے روزگار تک کے راستے کو ”تباہ“ کرنے کا الزام لگایا، سالانہ دو کروڑ ملازمتوں کے بی جے پی کے وعدے کے انجام پر سوال اٹھایا اور بھرتیوں میں تاخیر اور امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کا حوالہ دیا۔ کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے کہا کہ حکومت ”لوگوں کو زندہ رکھنا جانتی ہے“ لیکن ”انہیں جینے کے لائق زندگی دینا نہیں جانتی۔“ سی پی آئی (ایم ایل) لیڈر دیپانکر بھٹاچاریہ نے واضح کیا کہ رپورٹ میں نیٹ کا مطلب تعلیم، روزگار یا تربیت سے باہر نوجوان ہیں، جو میڈیکل کے داخلہ جاتی امتحان سے الگ ہے۔ کانگریس لیڈران سپریہ شرینیت، گورو گوگوئی اور سید نصیر حسین نے بھی گریجویٹس کی بے روزگاری، ہنر مندی کے رکے ہوئے نتائج اور ہندوستان کے آبادیاتی فائدے کو معاشی فائدے میں تبدیل کرنے میں ناکامی پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔