Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی، بہار میں طلبہ مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن، آنسو گیس، الیکٹرک شاک والی لاٹھیوں کا استعمال: ایمنسٹی

Updated: August 24, 2026, 10:06 PM IST | New Delhi

دہلی پولیس نے ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کی تردید کرتے ہوئے پیلٹ سے زخمی ہونے کی اطلاعات کو ”مکمل طور پر غلط اور گمراہ کن“ قرار دیا، جبکہ ایمنسٹی کے ذریعے پیش کردہ شواہد اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔ ایمنسٹی نے دو ایسے ویڈیوز کی تصدیق کی جن میں ایک آر اے ایف اہلکار کو کناٹ پلیس اور سنسد مارگ کے قریب ہجوم پر شاٹ گن سے فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ پیلٹ سے زخمی ہونے والے مظاہرین نے ایمنسٹی کو بتایا کہ آر اے ایف اہلکاروں نے آنسو گیس کے استعمال کے بعد بغیر کسی پیشگی وارننگ کے شاٹ گن سے فائرنگ کی، جس کی وجہ سے انہیں ۲۵ سے ۳۰ زخم آئے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نیٹ پیپر لیک کے خلاف طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے دوران نوجوان مظاہرین کے خلاف دہلی اور بہار میں پولیس کے ذریعے غیر قانونی اور ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کا الزام لگایا ہے۔ تنظیم نے مزید کہا کہ کریک ڈاؤن کے ایک ماہ بعد بھی کسی پولیس اہلکار کو جواب دہ نہیں ٹھہرایا گیا۔

حقوقِ انسانی کی تنظیم کے ذریعے کی گئی حالیہ ڈجیٹل تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ اس کے ’ایویڈینس لیب‘ (Evidence Lab) نے گواہوں کی شہادتوں، ویڈیوز اور تصاویر کی تصدیق کی ہے جو ۲۰ جولائی سے ۲۴ جولائی کے درمیان مظاہرین کے خلاف پیلٹ فائر کرنے والی شاٹ گنز، آنسو گیس لانچرز، دستی بموں، لاٹھیوں اور برقی جھٹکا دینے والے آلات (electric shock devices) کے استعمال کو ثابت کرتی ہیں۔ ایمنسٹی نے ۲۰ جولائی کو دہلی میں بنائی گئی ۱۷ ویڈیوز اور ۲۴ جولائی کو سیوان، بہار میں بنائی گئی ۲ ویڈیوز کی تصدیق کی، جن میں دہلی پولیس، ریپڈ ایکشن فورس (RAF) اور سی آر پی ایف (CRPF) کے اہلکاروں کو کریک ڈاؤن میں ملوث دکھایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: حکومت نوئیڈا کے کارکنوں کی طرح طلبہ کو بھی نشانہ بنانا چاہتی ہے: ابھیجیت دپکے

ایمنسٹی نے دو ایسے ویڈیوز کی تصدیق کی جن میں ایک آر اے ایف اہلکار کو کناٹ پلیس اور سنسد مارگ کے قریب ہجوم پر شاٹ گن سے فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، ساتھ ہی ایسے مظاہرین کی فوٹیج بھی دیکھی گئی جنہیں برڈ شاٹ (چھّروں والے) امیونیشن جیسے زخم آئے تھے۔ پیلٹ سے زخمی ہونے والے مظاہرین نے ایمنسٹی کو بتایا کہ آر اے ایف اہلکاروں نے آنسو گیس کے استعمال کے بعد بغیر کسی پیشگی وارننگ کے شاٹ گن سے فائرنگ کی، جس کی وجہ سے انہیں ۲۵ سے ۳۰ زخم آئے۔ ایمنسٹی نے زور دیا کہ برڈ شاٹ گولہ بارود کا ”قانون کے نفاذ میں کوئی جائز استعمال نہیں ہے،“ ہجوم کو کنٹرول کرنے کیلئے اس پر پابندی لگائی جانی چاہئے۔ دہلی پولیس نے ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کی تردید کرتے ہوئے پیلٹ سے زخمی ہونے کی اطلاعات کو ”مکمل طور پر غلط اور گمراہ کن“ قرار دیا، جبکہ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اس کے شواہد اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہم حکومت کو پوری نسل کی توہین کرنے کی اجازت نہیں دیں گے: سی جے پی

ایمنسٹی کی تحقیقات میں آنسو گیس کے غلط استعمال کو بھی دستاویزی شکل دی گئی ہے جسے اقوامِ متحدہ کی ہدایات کے برعکس اوپر کے زاویے کے بجائے سیدھا مظاہرین پر داغا گیا، ساتھ ہی ۸ ویڈیوز میں پولیس اور آر اے ایف اہلکاروں کو مظاہرین پر لاٹھی چارج کرتے دکھایا گیا۔ ویڈیو میں ایک ایسا لڑکا بھی دیکھا جاسکتا ہے جو مبینہ طور پر کوئی مزاحمت نہیں کر رہا تھا۔ فوٹیج میں ایک آر اے ایف اہلکار کو ایک پرامن مظاہرین پر الیکٹرک شاک لاٹھی کا استعمال کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا۔

سیوان، بہار میں ایمنسٹی نے ایک پولیس اہلکار کی مظاہرین پر اے کے (AK) قسم کی اسالٹ رائفل سے فائرنگ کرنے کی فوٹیج کی تصدیق کی اور کہا کہ اسے کسی ایسے فوری خطرے کا کوئی ثبوت نہیں ملا جو اس قسم کی طاقت کے استعمال کا جواز فراہم کرتا ہو۔ دہلی پولیس نے مجموعی طور پر ۴۰۰ سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی، جبکہ سیوان میں کم از کم ۳ افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک راہگیر بھی شامل ہے جس کی گردن میں گولی لگی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: زعفرانی خیمہ کو حملہ مہنگا پڑا، اسکولی نظام کا کچا چٹھا منظر عام پر آگیا

ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے بورڈ کے چیئرمین آکار پٹیل نے حکام پر ”ہجوم کو کنٹرول کرنے کے بھیس میں ریاست کی سرپرستی میں تشدد“ کا الزام لگایا اور نتائج کو عام کرتے ہوئے اس معاملے کی ”فوری، غیر جانبدارانہ اور مؤثر تحقیقات“ کا مطالبہ کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK