• Sat, 07 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ابھیشیک بنرجی: ہم بی جے پی سے نہیں بلکہ سپریم کورٹ کی وجہ سے بنگال الیکشن ہارے ہیں

Updated: November 07, 2026, 11:26 AM IST | Agency | Kolkata

ممتا بنرجی کے بھتیجے اور پارٹی کے جنرل سیکریٹری ابھیشیک نے یہ الزام بھی لگایا کہ ریاست میں بی جے پی حکومت بنگال کو پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کررہی ہے، کہاکہ انہیں عدلیہ پر اب بھی بھروسہ ہے لیکن کہیں سے تو آواز بلند ہونی چاہئے۔

Mamata Banerjee’s nephew and Member of Parliament, Abhishek Banerjee, has leveled very serious allegations. Photo: INN
ممتا بنرجی کے بھتیجے اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے بہت سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ تصویر: آئی این این

ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سیکریٹری اور ڈائمنڈ ہاربر سے رکن پارلیمنٹ ابھشیک بنرجی نے مغربی بنگال کی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کرتے ہوئے بی جے پی کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کے کردار پر بھی سخت سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں بی جے پی حکومت بنگال کو پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کی شکست  کے لئے بی جے پی کے بجائے سپریم کورٹ کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی بنگال کا انتخاب سپریم کورٹ کی وجہ سے ہاری ہے۔ابھیشیک بنرجی نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ انہیں اب بھی عدلیہ پر اعتماد ہے اور وہ اس کا احترام کرتے ہیں لیکن اس احترام کا مطلب یہ نہیں  ہےکہ عدالتی فیصلوں اور ان کے نفاذ پر سوال نہیں اٹھائے جا سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی جانب سے دی گئی ہدایات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں انتخابی عمل اور نتائج پر سنگین سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ ابھیشیک بنرجی نے اپنی تنقید کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کا بھی حوالہ دیا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کے جزیرے قشم پر دو میزائل حملے، ایرانی فوج کا امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

ان کا الزام ہے کہ عدالت نے انتخابی عمل میں شفافیت اور گنتی کے طریقہ کار سے متعلق جو ہدایات جاری کی تھیں، ان پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس کو امید تھی کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی ہدایات کے بعد سرکاری مشینری اور الیکشن کمیشن ان پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔انہوں نے خاص طور پر ووٹوں کی گنتی کے دوران ’’رینڈمائزیشن‘‘ کے طریقہ کار پر عمل نہ ہونے کا الزام لگایا۔ ان کے مطابق، ووٹوں کی گنتی ۴؍ تاریخ کو ہونی تھی جبکہ سپریم کورٹ نے ۲؍ تاریخ کو رینڈمائزیشن کے عمل پر عمل درآمد کی ہدایت دی تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس طریقہ کار میں ریاستی اور مرکزی حکومت کے افسران کی شمولیت ضروری تھی لیکن گنتی کے عمل میں ریاستی حکومت کے کسی افسر کو شامل نہیں کیا گیا۔ 

 عدلیہ پر سوال 
ابھیشیک نے ای وی ایم کے حوالے سے یہ الز ام عائد کیا کہ انتخابی نتائج کے بعد ایک ماہ کے اندر ای وی ایم مشینوں کو آگ کے حوالے کر دیا گیا لیکن اس معاملے پر عدلیہ نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔اگر انتخابی عمل میں اس طرح کی بے ضابطگی پر کوئی سوال نہیں ہوتا تو  پھر عدلیہ اور آئین کے تحفظ کی ذمہ داری کون ادا کرے گا؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK