• Sat, 07 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کے جزیرے قشم پر دو میزائل حملے، ایرانی فوج کا امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

Updated: November 07, 2026, 11:04 AM IST | Tehran

ایران کے اہم جزیرے قشم پر دو میزائل حملوں کی ابتدائی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، میزائل جزیرے سے ٹکرائے ہیں، تاہم ممکنہ جانی و مالی نقصان سے متعلق تاحال کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ دوسری جانب ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں کے بعد جزیرے کے اوپر امریکہ کے ایم کیو-۹ (MQ-9) ڈرون کو مار گرایا گیا ہے۔

Picture: INN
علامتی تصویر: آئی این این

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایران کے اہم جزیرے قشم پر دو میزائل حملے کیے گئے ہیں۔ ایجنسی کے مطابق، میزائل جزیرے سے ٹکرائے، تاہم ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ جانی و مالی نقصان کے بارے میں تاحال کوئی سرکاری معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میزائل حملوں کے بعد ایران کی فوج نے جزیرے کے اوپر امریکہ کے بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارے ایم کیو-۹ (MQ-9) کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے بھی فوج کے اس دعوے کو رپورٹ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جشن فتح میں الہان عمر کا صومالی خواتین کیساتھ روایتی رقص

ابتدائی اطلاعات کے مطابق، قشم جزیرے پر دو میزائلوں کے گرنے کی خبر سامنے آئی ہے، لیکن ایرانی حکام کی جانب سے ابھی تک حملے کی نوعیت، میزائلوں کے ممکنہ ہدف اور ان سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں ہو سکا ہے کہ میزائل حملوں میں کوئی جانی نقصان ہوا ہے یا نہیں۔

قشم جزیرہ خلیج فارس میں واقع ایران کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث خطے میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ بحری اور دفاعی اعتبار سے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

دوسری جانب، ایرانی فوج کی جانب سے امریکی ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے، تاہم اس واقعے اور میزائل حملوں سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ فی الحال ان واقعات کے حوالے سے ایرانی ذرائع ابلاغ کی ابتدائی اطلاعات ہی سامنے آئی ہیں اور ممکنہ نقصانات یا واقعات کی مکمل صورت حال کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK