• Sat, 19 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

افریقہ کی تقسیم کا عمل تیز، مستقبل میں بن سکتا ہے نیا سمندر

Updated: September 19, 2026, 10:16 AM IST | New York

کینیا اور ایتھوپیا کے درمیان ٹورکانا رفٹ میں زمین کی پرت صرف ۱۳؍ کلومیٹر موٹی رہ گئی؛ تحقیق کے مطابق مشرقی افریقہ براعظمی ٹوٹ پھوٹ کے اہم مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، مگر مکمل تقسیم میں لاکھوں سال لگ سکتے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

افریقی براعظم کے مستقبل میں دو حصوں میں تقسیم ہونے کے عمل سے متعلق نئی سائنسی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ مشرقی افریقہ میں زمین کی پرت پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ آگے تک پتلی ہوچکی ہے۔ کینیا اور ایتھوپیا کے درمیان واقع ٹورکانا رفٹ زون میں زمین کی پرت کی موٹائی رفٹ کے مرکزی حصے میں تقریباً ۱۳؍ کلومیٹر رہ گئی ہے، جبکہ اس کے باہر یہی پرت ۳۵؍ کلومیٹر سے زیادہ موٹی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ فرق اس بات کی علامت ہے کہ یہ خطہ براعظمی ٹوٹ پھوٹ کے ایک اہم مرحلے، جسے نیکنگ کہا جاتا ہے، میں داخل ہوچکا ہے۔ یہ تحقیق نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہوئی ہے اور کولمبیا یونیورسٹی سے وابستہ سائنس داں کرسچن روون اور ان کے ساتھیوں نے ٹورکانا رفٹ کے زیرِ زمین ڈھانچے کا جائزہ لیا۔ محققین نے اعلیٰ معیار کے زلزلہ پیما اعداد و شمار اور زیرِ زمین ساخت کی تصویربرداری کے ذریعے زمین کی پرت کا مطالعہ کیا۔ ان کے مطابق اس خطے میں براعظمی رفٹنگ کا عمل پہلے سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ 

ٹورکانا رفٹ تقریباً ۵۰۰؍ کلومیٹر تک پھیلا ہوا علاقہ ہے جو کینیا اور ایتھوپیا کے درمیان واقع ہے۔ یہ مشرقی افریقی رفٹ نظام کا حصہ ہے، جو شمال مشرقی ایتھوپیا کے عفار خطے سے جنوب میں موزمبیق تک پھیلا ہوا ہے۔ اسی نظام میں افریقی براعظم کی بڑی نوبیئن پلیٹ اور مشرقی جانب موجود صومالی پلیٹ ایک دوسرے سے بتدریج دور ہورہی ہیں۔ ٹورکانا خطے میں یہ جدائی تقریباً ۷ء۴؍ ملی میٹر سالانہ کی رفتار سے جاری ہے۔ زمین کی پرت کے اس طرح کھنچنے اور پتلا ہونے کے عمل کو رفٹنگ کہا جاتا ہے۔ جب براعظمی پرت مسلسل کھنچتی ہے تو اس میں دراڑیں پڑتی ہیں، زمین کا کچھ حصہ نیچے دھنسنے لگتا ہے اور گہرائی سے پگھلا ہوا مادہ اوپر آ سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹورکانا رفٹ میں پرت کے مرکزی حصے کا صرف ۱۳؍ کلومیٹر تک پتلا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ یہاں یہ عمل محض ابتدائی مرحلے میں نہیں بلکہ ایک زیادہ ترقی یافتہ مرحلے تک پہنچ چکا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکہ اسرائیل کو ۶۰؍ ہزار بم فروخت کریگا

محققین کے مطابق ٹورکانا رفٹ میں نیکنگ کا عمل تقریباً ۴؍ ملین سال پہلے شروع ہوا تھا۔ اس مرحلے میں زمین کی پرت مسلسل کھنچ کر درمیان سے کمزور اور پتلی ہونے لگتی ہے۔ ایسی ساخت ان علاقوں میں دیکھی گئی ہے جہاں بالآخر براعظم ٹوٹ کر الگ ہوچکے ہیں۔ تاہم سائنس دانوں نے یہ نہیں کہا کہ افریقہ جلد ہی ٹوٹنے والا ہے؛ مکمل براعظمی جدائی اب بھی لاکھوں سال پر محیط ایک ارضیاتی عمل ہوگی۔ اگر یہ عمل مستقبل میں مکمل براعظمی جدائی تک پہنچا تو مشرقی افریقہ کا ایک بڑا حصہ باقی افریقہ سے الگ ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد زیرِ زمین دراڑ مزید وسیع ہونے اور سمندری پرت بننے کے نتیجے میں اس علاقے میں نیا سمندری خطہ وجود میں آسکتا ہے۔ عفار کے قریب رفٹ پہلے ہی ایسے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جہاں سمندری پھیلاؤ کے ابتدائی آثار موجود ہیں، جبکہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن بھی اسی بڑے ارضیاتی نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کی

دلچسپ طور پر یہی ارضیاتی سرگرمی اس خطے کو انسانی ارتقا کی تحقیق کے لیے بھی انتہائی اہم بناتی ہے۔ ٹورکانا رفٹ دنیا کے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں قدیم انسانی آباؤ اجداد کے اہم فوسلز دریافت ہوئے ہیں۔ نئی تحقیق کے مطابق زمین کی پرت کے کھنچنے، آتش فشانی سرگرمی اور تلچھٹ کے جمع ہونے کے عمل نے ان قدیم باقیات کے محفوظ رہنے کے لیے موزوں حالات پیدا کرنے میں کردار ادا کیا ہوسکتا ہے۔ مشرقی افریقی رفٹ میں صرف ٹورکانا ہی تبدیلی کا مرکز نہیں۔ شمال میں عفار رفٹ پہلے ہی سمندری پھیلاؤ کی سمت بڑھنے والے ارضیاتی عمل کی مثال پیش کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پورے نظام میں مختلف حصے مختلف رفتار اور مختلف ارضیاتی مراحل سے گزر رہے ہیں، اس لیے پورے براعظم کے مستقبل کو ایک ہی رفتار سے بدلتا ہوا تصور کرنا درست نہیں ہوگا۔ تازہ تحقیق کی اہمیت یہ ہے کہ سائنس دانوں کو براعظم کے ٹوٹنے کے اس مرحلے کا مشاہدہ ایک ایسے خطے میں کرنے کا موقع مل رہا ہے جہاں یہ عمل آج بھی جاری ہے۔ زمین کی پرت کا پتلا ہونا، دراڑوں کا پھیلنا اور زیرِ زمین مادے کی حرکت اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ ماضی میں موجود براعظم کس طرح ٹوٹے اور مستقبل میں نئے سمندر کس طرح وجود میں آسکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK