ایم ایسٹ وارڈ میں ۳۶؍ اور ملاڈ کے کچھ اسکولوں کے خلاف پولیس میں شکایت درج ۔
والدین سےبچوں کو غیرقانونی اسکولوں میںداخل نہ کرانے کی اپیل کی گئی ہے-تصویر:آئی این این
شہری انتظامیہ نے غیر قانونی اسکولوںکے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔ ایسے اسکولوں کے خلاف پولیس اسٹیشنوں میں کیس درج کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔ ایم ایسٹ وارڈ کے ۳۶؍ اسکولوں کے خلاف شکایت درج کرائی گئی ہے ۔ بدھ کو ملاڈ میں بھی غیر قانونی اسکولوں کے خلاف شکایت درج کرائی گئی تھی۔دریں اثناء بی ایم سی محکمہ تعلیم نے میونسپل اسکولوں کے علاوہ امدادیافتہ اور غیر امدادی ا سکولوں کے پرنسپل حضرات کو حکم دیا ہے کہ غیرقانونی اسکولوں کا جو بھی طالب علم داخلہ لینے کیلئے آتا ہے ،اسے فوری طور پر داخلہ دیا جائے۔ایسے طلبہ ان کا تعلیمی نقصان نہیں ہوناچاہئے۔
بی ایم سی کے مطابق کسی بھی اسکول کو سرکاری درجہ صرف اسی صورت میں ملتا ہے جب اس کی اراضی کا کل رقبہ ۵؍ہزار مربع فٹ ، ۳۰؍سال کا لیزاور ۲۰؍لاکھ روپے بطور ڈپازٹ جمع ہو لیکن ان شرائط کو پورا کئے بغیر شہر و مضافات میں کئی برسوں سے غیر قانونی طور پر سیکڑوںاسکول جاری ہیں۔ اس سال میونسپل کارپوریشن کی جانب سے اعلان کردہ غیر قانونی اسکولوں کی فہرست میں ۱۶۴؍ اسکول شامل ہیںجبکہ گزشتہ سال(۲۵-۲۰۲۴ء) میں ۱۸۴؍ غیرقانونی اسکول تھے یعنی سال بھر میں صرف ۹؍ اسکول بند ہوئے ہیں باقی معمول کےمطابق جاری ہیں جن کے خلاف بی ایم سی نے کارروائی شروع کی ہے۔ محکمہ تعلیم کا دعویٰ ہے کہ میونسپل کارپوریشن غیر قانونی اسکولوں کو بند کرنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے۔ ایسے اسکولوں کی فہرست جاری کرنے کے بعد ان اسکولوں کے انتظامیہ کو جون تک کا نوٹس دیا گیا تھا، اس کے باوجود یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ اب بھی کئی اسکول کھلے ہیں جس کی وجہ سےمیونسپل کارپوریشن نے ان اسکولوں کے خلاف پولیس میں کیس درج کرانے کا فیصلہ کیا ۔ اس کے مطابق ۱۱؍جون کو ایم ایسٹ وارڈ میں ایک غیر قانونی اسکول کے خلاف پہلا کیس درج کرایا گیا جس کے بعد پیر ۱۵؍جون کو اسی وارڈ میں کل ۳۶؍ اسکولوں کے خلاف کیس درج کرایا گیا ۔
میونسپل حکام کے مطابق بدھ کو ملاڈ میں کچھ غیر قانونی اسکولوں کے خلاف کیس درج کرایا گیا تھا۔ اس کارروائی سے اگلے سال غیر قانونی اسکولوں کی تعداد میں کمی متوقع ہے۔محکمہ تعلیم نے اس بات کو یقینی بنانے کیلئے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں کہ اگر میونسپل کارپوریشن کی کارروائی کی وجہ سے تعلیمی سال کے دوران کوئی اسکول بند ہو جاتا ہے تو اس اسکول کے طلبہ کا تعلیمی نقصان نہیں ہونا چاہئے ۔ میونسپل کارپوریشن نے امداد یافتہ، غیر امدادی اور میونسپل اسکولوں کے پرنسپل حضرات کو حکم دیا ہے کہ ایسے اسکولوں کا کوئی بھی طالب علم اگر داخلے کیلئے آتا ہے تو اسے فوری طور پر داخل کیا جائے۔ میونسپل کارپوریشن غیرقانونی اسکولوں کے بارے میں بیداری بھی لارہی ہے۔ میونسپل افسران نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے سے باخبر رہیں اور اپنے بچوں کو غیرقانونی اسکولوں میں داخل کرنے سے گریز کریں۔