جنوبی کوریا کے صدر کے مطابق سیول اپنی حفاظتی سرگرمیوں کو مضبوط بنانے کیلئے اضافی اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے۔
EPAPER
Updated: September 19, 2026, 12:59 PM IST | Agency | Seoul
جنوبی کوریا کے صدر کے مطابق سیول اپنی حفاظتی سرگرمیوں کو مضبوط بنانے کیلئے اضافی اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے۔
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے آبنائے ہرمز میں جنگی فوجی دستے تعینات کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ سیول ایسی فوج نہیں بھیجے گا جو اسے بیرونِ ملک تنازع میں کھینچ سکتی ہو۔جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے اعلان کیا کہ سیول آبنائے ہرمز میںجنگی دستے نہیں بھیجے گا۔لی نے کہا کہ ان کا ملک بیرون ملک کسی تنازع یا جنگ میں شامل نہیں ہوگالیکن لی نے یہ بھی کہا کہ جنوبی کوریا کو اپنے شہریوں اور اس اہم پانی کے راستے کے ذریعے خام تیل کی آمد و رفت کے راستوں کی حفاظت کے لئےکم از کم سطح کی سرگرمیاں انجام دینی ہوں گی۔جنوبی کوریا کے چیونگائے ملٹری یونٹ نے پہلے ہی خطے میں اپنے فرائض کا دائرہ بڑھا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:خیبر پختونخوا: پولیس مرکز کے قریب مسجد میں کار بم دھماکہ،۱۵؍ سے زائد ہلاک
لی نے اشارہ کیا ہےکہ سیول اپنی حفاظتی سرگرمیوں کو مضبوط بنانے کیلئے اضافی اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے۔دی چوسن ڈیلی کے مطابق انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگی تعیناتی نہیں ہوگی اور دہرایا کہ جنوبی کوریا غیر جانبدار رہنے کے اپنے اصول کو برقرار رکھے گا۔واضح رہےکہ آبنائے ہرمز جنوبی کوریا کے لئے ایک اہم توانائی گزرگاہ ہے اور ایران کے ساتھ تنازع اور یمن کے حوثی گروپ کی بڑھتی سرگرمیوں نے جہاز رانی اور خام تیل کی فراہمی سے متعلق خدشات پیدا کر دیئے ہیں۔لی نے کہا کہ تنازع کے ابتدائی دور میں جب جہاز خطرناک پانیوں سے گریز کر رہے تھے تو جنوبی کوریا کے لئے خام تیل کا حصول دشوار ہو گیا تھا۔