اقوام متحدہ کی ۸۱؍ ویں جنرل اسمبلی کی صدارت بنگلہ دیش کے تجربہ کار سفارت کار اور وزیر خارجہ خلیل الرحمٰن کر رہے ہیں، جس میں اعتماد، امن، ترقی، موسمیاتی اقدامات اور اقوام متحدہ کی اصلاحات کی بحالی پر توجہ مرکوز ہے۔
EPAPER
Updated: September 19, 2026, 12:08 PM IST | New York
اقوام متحدہ کی ۸۱؍ ویں جنرل اسمبلی کی صدارت بنگلہ دیش کے تجربہ کار سفارت کار اور وزیر خارجہ خلیل الرحمٰن کر رہے ہیں، جس میں اعتماد، امن، ترقی، موسمیاتی اقدامات اور اقوام متحدہ کی اصلاحات کی بحالی پر توجہ مرکوز ہے۔
عالمی لیڈر۸۱؍ویں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے نیویارک میں جمع ہونے والے ہیں، جس کی اعلیٰ سطحی عمومی بحث۲۲؍ ستمبر سے۲۸؍ ستمبر۲۰۲۶ء تک جاری رہے گی۔ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمٰن دنیا کے سب سے بڑے سفارتی اجتماعات میں سے ایک کی صدارت کر رہے ہیں۔ ۲؍ جون۲۰۲۶ء کو خفیہ رائے شماری میں قبرص کے امیدوار اینڈریاس کاکوریس کو شکست دینے کے بعد ۸۱؍ویں یو این جی اے کے صدر کے طور پر منتخب ہوئے، انہوں نے۱۹۰؍ میں سے۹۹؍ ووٹ حاصل کیے۔ ان کی ایک سالہ مدت کا باضابطہ آغاز۸؍ ستمبر کو اجلاس کے افتتاح کے ساتھ ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ: جنرل اسمبلی کی فلسطینی شرکت کی حمایت، عباس کا ویڈیو کے ذریعے خطاب
رحمٰن ایک سفارت کار ہیں جنہوں نے۱۹۷۹ء میں بنگلہ دیش کی فارن سروس میں شمولیت اختیار کی۔ بعد میں انہوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ میں بنگلہ دیش کے مستقل مشن میں خدمات انجام دیں اور جنرل اسمبلی کی اقتصادی اور مالی کمیٹی میں ڈھاکہ کی نمائندگی کی۔جبکہ اقوام متحدہ کے ساتھ ان کی وابستگی تین دہائیوں پر محیط ہے۔۱۹۹۱ء میں، انہوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی تجارت اور ترقی سے متعلق کانفرنس (UNCTAD) میں خصوصی مشیر کے طور پر اقوام متحدہ کے نظام میں شمولیت اختیار کی۔ اگلے۲۵؍ سالوں میں، انہوں نے نیویارک اور جنیوا میں سینئر عہدوں پر فائز رہ کر، بین الاقوامی تجارت، مالیات اور ترقی پر کام کیا۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب ہو گا، محمود عباس شرکت سے محروم
واضح رہے کہ رحمٰن فروری۲۰۲۶ء میں بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ بنے۔ اس سے قبل، انہوں نے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت میں قومی سلامتی کے مشیر اور روہنگیا امور کے لیے اعلیٰ نمائندے کے طور پر خدمات انجام دیں۔رحمٰن نے کثیرالجہتی پر اعتماد کی بحالی کو اپنی صدارت کا مرکزی موضوع بنایا ہے۔ ان کا پروگرام چھ ترجیحات پر مبنی ہے، جن میں امن و سلامتی، پائیدار ترقی، موسمیاتی اقدام، انسانی حقوق، ٹیکنالوجی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات شامل ہیں۔رحمٰن نے اپنے انتخاب کے بعد کہا،’’میں آپ سب کا صدر رہوں گا،‘‘ ساتھ ہی تمام رکن ممالک کو شامل کرنے اور اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کا عہد کیا۔
واضح رہے کہ ۸۱؍واں اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اقوام متحدہ کو جنگوں، جغرافیائی سیاسی تقسیم، انسانی بحرانوں اور کثیرالجہتی تعاون کے مستقبل کے بارے میں سوالات کا سامنا ہے۔ اس کا سرکاری موضوع ہے ’’اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام: ایک اقوام متحدہ جو سب کے لیے فراہم کرتی ہے۔‘‘