دھماکے سے مسجد کے باہر گہرا گڑھا بن گیا، عمارت کا بیرونی حصہ متاثر ہوا اور ایک دیوار منہدم ہوگئی۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے شدید مذمت کی۔
EPAPER
Updated: September 19, 2026, 12:56 PM IST | Agency | Islamabad
دھماکے سے مسجد کے باہر گہرا گڑھا بن گیا، عمارت کا بیرونی حصہ متاثر ہوا اور ایک دیوار منہدم ہوگئی۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے شدید مذمت کی۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں جمعہ کی نماز کے دوران ایک مسجد میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں۱۵؍ سے زائد افراد ہلاک اور۵۰؍ سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ طلوع نیوز کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ ذوالفقار حامد نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی مسجد کی دیوار سے ٹکرانے کے بعد پھٹ گئی۔انہوں نے کہا کہ دھماکے کے بعد فائرنگ کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔دھماکے سے مسجد کے باہر گہرا گڑھا بن گیا، عمارت کا بیرونی حصہ متاثر ہوا اور ایک دیوار منہدم ہوگئی۔
پولیس کے مطابق حملہ آور نے گاڑی کو احاطے کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دیا۔ اس وقت پولیس اہلکار، ان کے اہل خانہ اور دیگر شہری پولیس دفاتر سے متصل مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے:’’ایران میں امریکی جنگی جرائم کے معقول شواہد ملے‘‘
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب کوہاٹ کی پرانی پولیس لائن کی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی جا رہی تھی اور اس کے بعد شدید فائرنگ بھی ہوئی۔ زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ ہنگو روڈ کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا۔پولیس کی بھاری نفری لائن کے قریب پہنچ گئی ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ڈی ایچ کیو اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی جبکہ ہلاکتیں بڑھنے کے خدشات بھی ظاہر کئے گئے ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دھماکہ بہت زوردار تھا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی، دھماکے سے مسجد کی عمارت بری طرح متاثر ہوئی اور بیرونی دیوار منہدم ہو گئی۔
پاکستان کےوزیراعظم شہباز شریف نے کوہاٹ میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق شہباز شریف نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔