Updated: October 15, 2026, 2:14 PM IST
| Mumbai
ممبئی پولیس نے بالی ووڈ اداکار عمران خان کو ۲۸؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء تک ہندوستان چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ کارروائی ۱۰؍ اکتوبر کو ممبئی کے اگست کرانتی میدان میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر منعقدہ احتجاج میں شرکت کے بعد کی گئی۔ امریکی شہری اور اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ ہولڈر عمران خان کے خلاف کارروائی کا معاملہ اب امیگریشن قوانین، غیر ملکی شہریوں کی سیاسی سرگرمیوں اور احتجاج کے حق سے متعلق بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
عمران خان احتجاج کے دوران پولیس کی حراست میں۔ تصویر: آئی این این
بالی ووڈ اداکار عامر خان کے بھانجے عمران خان کو ہندوستان چھوڑنے کا نوٹس جاری کیے جانے کے بعد ان کی شہریت اور سیاسی احتجاج میں شرکت سے متعلق قانونی معاملہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ممبئی پولیس اور فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس (ایف آر آر او) سے متعلق کارروائی کے تحت اداکار کو ۲۸؍ اکتوبر تک ملک چھوڑنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق، یہ قدم اس بنیاد پر اٹھایا گیا کہ عمران خان ہندوستانی شہری نہیں ہیں اور انہوں نے ایک سیاسی احتجاج میں شرکت کی تھی۔ یہ احتجاج ۱۰؍ اکتوبر کو ممبئی کے اگست کرانتی میدان میں منعقد ہوا تھا، جہاں مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کا تعلق کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے انتخابی عمل اور الیکشن کمیشن کے سربراہ کے خلاف اٹھائے گئے اعتراضات سے تھا۔ عمران خان بھی اس مظاہرے میں شریک ہوئے تھے، جہاں ممبئی پولیس نے انہیں کچھ وقت کے لیے حراست میں لیا تھا۔ اس کے چند روز بعد ان کے خلاف ملک چھوڑنے کا نوٹس جاری ہونے کی خبر سامنے آئی۔
یہ بھی پڑھئے: مخالفت کے باوجود سڑکوں کی کھدائی کی نئی پالیسی منظور
عمران خان کے خلاف کارروائی کا معاملہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر کریٹ سومیا کی شکایت کے بعد آگے بڑھا۔ اطلاعات کے مطابق، سومیا نے گام دیوی پولیس اسٹیشن سے رجوع کرتے ہوئے اداکار کی احتجاج میں شرکت پر اعتراض کیا اور ان کے خلاف کارروائی، حراست اور ملک بدری کا مطالبہ کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ غیر ملکی شہری ہونے کے باوجود سیاسی مظاہرے میں شرکت او سی آئی ضوابط اور ویزا شرائط کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ گام دیوی پولیس نے معاملہ متعلقہ امیگریشن حکام کو بھیج دیا، جس کے بعد ملک چھوڑنے کا نوٹس جاری کیا گیا۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، پولیس کے ایک افسر نے کہا کہ عمران خان ہندوستانی شہری نہیں ہیں اور غیر ملکی شہریوں کے لیے ملک میں سیاسی احتجاج یا سیاسی سرگرمیوں میں شرکت پر پابندیاں لاگو ہوتی ہیں۔ افسر نے کہا، ’’عمران خان غیر ملکی شہریت رکھتے ہیں اور ہندوستانی شہری نہیں ہیں۔ متعلقہ فارنرز اور امیگریشن قوانین کے تحت غیر ملکی شہریوں کو ہندوستانی سرزمین پر سیاسی احتجاج یا سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔‘‘ حکام کے مطابق، ملک چھوڑنے کا نوٹس عمران خان کو دے دیا گیا ہے اور انتظامی کارروائی جاری ہے۔
سومیا نے بھی اس معاملے پر اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے عمران خان کی ہندوستان میں موجودگی اور احتجاج میں شرکت پر اعتراض کیا تھا۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، انہوں نے کہا، ’’عمران خان کا گزشتہ چند دنوں سے ہندوستان میں رہنا انتہا پسندی اور جنونیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ہندوستانی اسے برداشت نہیں کر سکتے۔‘‘ یہ سومیا کا ذاتی سیاسی مؤقف ہے؛ ان کے الزامات کو کسی عدالتی فیصلے یا ثابت شدہ جرم کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اس معاملے میں عمران خان کی امریکی شہریت کے ساتھ ان کے او سی آئی کارڈ کی حیثیت بھی اہم ہے۔ او سی آئی کارڈ ہندوستانی شہریت نہیں ہے، بلکہ اس کے حامل غیر ملکی شہریوں کو مخصوص شرائط کے تحت ہندوستان میں طویل مدتی رہائش اور متعدد بار داخلے سمیت بعض سہولتیں حاصل ہوتی ہیں۔ تاہم، یہ حیثیت ہندوستانی شہریوں کے تمام سیاسی حقوق فراہم نہیں کرتی۔ آئین کی دفعہ ۱۹؍ کے تحت اظہارِ رائے اور پُرامن اجتماع کے حقوق ہندوستانی شہریوں کو حاصل ہیں؛ غیر ملکی شہریوں پر ان حقوق کا اطلاق اسی انداز میں نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھئے: عمرہ کرنے والوں کو وطن لانے کی کوششیں جاری
قانونی پہلو سے امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ ۲۰۲۵ء بھی اس معاملے میں اہم ہے۔ انڈین ایکسپریس کی وضاحت کے مطابق، اس قانون کی دفعہ ۷؍ حکومت کو غیر ملکی شہریوں کے ہندوستان میں قیام اور سرگرمیوں پر شرائط عائد کرنے کا اختیار دیتی ہے، جبکہ دفعہ ۲۹؍ بعض قانونی خلاف ورزیوں یا ناموافق سکیورٹی رپورٹ کی بنیاد پر کسی غیر ملکی کو ملک سے نکالنے کی ہدایت دینے کی گنجائش فراہم کرتی ہے۔ تاہم، عمران خان کے معاملے میں نوٹس کی مخصوص قانونی بنیاد اور احتجاج میں شرکت کو خلاف ورزی قرار دینے کی مکمل تفصیلات عوامی رپورٹنگ میں واضح نہیں ہیں۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ احتجاج میں شرکت سے متعلق تمام قانونی سوالات حتمی طور پر طے ہو چکے ہیں۔ او سی آئی رجسٹریشن منسوخ کرنے اور کسی شخص کو ملک چھوڑنے کا حکم دینے کی کارروائیاں بھی الگ قانونی معاملات ہیں۔ عمران خان کے معاملے نے اس سوال کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے کہ ہندوستان میں رہنے والے غیر ملکی شہریوں اور او سی آئی کارڈ ہولڈرز کی سیاسی سرگرمیوں کی حدود کیا ہیں اور ان ضوابط کے تحت انتظامی کارروائی کس بنیاد پر کی جا سکتی ہے۔ فی الحال، دستیاب اطلاعات کے مطابق، اداکار کو ۲۸؍ اکتوبر تک ہندوستان چھوڑنے کی ہدایت دی گئی ہے؛ ان کی جانب سے اس نوٹس کو عدالت یا کسی متعلقہ فورم پر چیلنج کرنے کے بارے میں کوئی تصدیق شدہ تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔