• Thu, 15 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اڈانی گرین نے ایک فیصد پراپرٹی ٹیکس کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا

Updated: October 14, 2026, 10:03 PM IST | Bengaluru

اڈانی گرین انرجی (یو پی) لمیٹڈ نے شمسی توانائی کے کارخانے پر جائیداد کی کل مالیت کا ایک فیصد پراپرٹی ٹیکس عائد کرنے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

Adani Green Energy.Photo:INN
اڈانی گرین انرجی۔ تصویر:آئی این این

اڈانی گرین انرجی (یو پی) لمیٹڈ نے شمسی توانائی کے کارخانے پر جائیداد کی کل مالیت کا ایک  فیصد پراپرٹی ٹیکس عائد کرنے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ کمپنی نے گزشتہ سال ۱۷؍ اکتوبر کو جاری کردہ کرناٹک گرام سوراج اور پنچایت راج  ضوابط، ۲۰۲۵ءکو چیلنج کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کے لیے گرام پنچایت کے افسران کی جانب سے ٹیکس کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہوئے جاری کیے گئے نوٹسوں اور قیمت کے تعین کی کارروائی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:مودی کی ٹیم انڈیا کے ساتھ تقریب کے باعث آئی پی ایل سے متعلق اہم اجلاس ملتوی

کمپنی نے اپنی عرضی میں دلیل دی ہے کہ شمسی توانائی کے کارخانے روایتی صنعتوں سے مختلف ہیں اور ان پر اسی طرح ٹیکس عائد نہیں کیا جانا چاہیے۔حکومت نے اس سے پہلے شمسی توانائی کے کارخانوں سمیت قابل تجدید توانائی کے یونٹوں کے لیے ۵؍ہزار روپے فی میگاواٹ سالانہ ٹیکس مقرر کیا تھا۔ کمپنی نے کہا کہ وہ فروری  ۲۰۱۸ء اور مارچ ۲۰۲۰ء میں جاری کیے گئے سرکاری سرکلروں کی بنیاد پر اس نظام کے تحت ٹیکس ادا کرتی آ رہی تھی۔ کمپنی کا ایک شمسی توانائی کا کارخانہ بنگلورو جنوبی ضلع کے چناپٹنا اور ماگڑی تعلقہ کے ایم بی ہلی، ایچ بیاڈراہلی اور متیکیرے گرام پنچایتوں کے دائرۂ اختیار میں واقع ہے۔

یہ بھی پڑھئے:سیف علی خان کی بہن صبا پٹودی پر ایک ہزار کروڑ کی خاندانی وراثت سنبھالنے کی ذمہ داری

عرضی کے مطابق، حکومت نے بعد میں سالانہ ٹیکس بڑھا کر۱۰؍ہزار روپے فی میگاواٹ کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ تاہم، اکتوبر ۲۰۲۵ء میں پیش کیے گئے حتمی ضوابط میں شمسی توانائی کے کارخانوں کو عام صنعتی عمارتوں کے زمرے میں شامل کر دیا گیا اور جائیداد کی مالیت کا ایک  فیصد پراپرٹی ٹیکس عائد کر دیا گیا۔ کمپنی نے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے کوئی وجہ بتائے بغیر اور قابل تجدید توانائی کے شعبے سے وابستہ متعلقہ فریقوں سے مشورہ کیے بغیر یہ تبدیلی کی ہے۔
کمپنی نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ نئے ضوابط امتیازی ہیں، کیونکہ صنعتی عمارتوں کی بعض دیگر اقسام پر پراپرٹی ٹیکس کی شرحیں کم ہیں۔ اس کے علاوہ، کمپنی نے ٹیکس کی ادائیگی کے مطالبے والے نوٹسوں کو بھی چیلنج کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ گرام پنچایت کے افسران نے کرناٹک گرام سوراج اور پنچایت راج ایکٹ،۱۹۹۳ءکے تحت مقررہ طریقۂ کار پر عمل نہیں کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK