میرٹھ عدالت نے مسکان رستوگی اور ساحل شکلا کو مارچ۲۰۲۵ء میں مرچنٹ نیوی افسر سوربھ راجپوت کو قتل کر کے اس کی کٹی ہوئی لاش کو کنکریٹ سے بھرے نیلے ڈرم میں چھپانے پر سزائے موت سنائی۔
EPAPER
Updated: October 14, 2026, 9:00 PM IST | Meerut
میرٹھ عدالت نے مسکان رستوگی اور ساحل شکلا کو مارچ۲۰۲۵ء میں مرچنٹ نیوی افسر سوربھ راجپوت کو قتل کر کے اس کی کٹی ہوئی لاش کو کنکریٹ سے بھرے نیلے ڈرم میں چھپانے پر سزائے موت سنائی۔
میرٹھ کی ایک عدالت نے بدھ۱۴؍ اکتوبر کو مسکان رستوگی اور اس کے عاشق ساحل شکلا کو اس کے شوہر سوربھ راجپوت کے قتل کے بدنام زمانہ بلیو ڈرم قتل معاملے میں سزائے موت سنائی۔ ڈسٹرکٹ جج اروند کمار مشرا نے جوڑے کو مرچنٹ نیوی افسر کے قتل اور گزشتہ سال مارچ میں اس کی کٹی ہوئی لاش کو کنکریٹ سے بھرے نیلے پلاسٹک ڈرم کے اندر چھپانے کا مجرم قرار دیے جانے کے دو ہفتے بعد سزا سنائی۔ یہ فیصلہ۱۲۶؍ سماعتوں اور۲۲؍ گواہوں کے بیانات کے بعد آیا۔ جج نے مشاہدہ کیا کہ اس نوعیت کے جرائم معاشرے میں خوف پیدا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جوہر یونیورسٹی کے مالیاتی معاملوں سے متعلق اعظم خان پر ای ڈی کی ایف آئی آر
استغاثہ کے مطابق، تفتیش کاروں نے بتایا کہ رستوگی نے۳؍ مارچ۲۰۲۵ء کو اندرا نگر میں اپنے گھر میں راجپوت کے کھانے میں نشہ آور چیز ملا کر بے ہوش کیا۔ شکلا کچھ دیر بعد پہنچا، اور دونوں نے مبینہ طور پر راجپوت کو چھرا گھونپنے کے بعد باتھ روم میں اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔اس کے بعد جوڑے نے باقیات کو ایک بڑے نیلے پلاسٹک ڈرم کے اندر رکھا اور لاش کو چھپانے اور گلنے کی بو کو دبانے کے لیے اسے سیمنٹ، ریت اور پانی کے آمیزے سے بھر دیا۔اگلے دن دونوں ہماچل پردیش کے لیے روانہ ہو گئے۔ رستوگی نے مبینہ طور پر اپنے شوہر کا فون استعمال کر کے اس کے رشتہ داروں کو پیغامات بھیجے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ زندہ ہے اور کام کے لیے سفر کر رہا ہے۔
شبہ اس وقت بڑھا جب رشتہ دار۱۷؍ مارچ۲۰۲۵ء کو مقامی حکام کے ساتھ گھر آئے۔ جوڑے کی چھ سالہ بیٹی نے مبینہ طور پر پڑوسیوں کو بتایا تھا، ’’پاپا ڈرم میں ہیں۔‘‘جس کے بعد پولیس نے سیل بند کنٹینر کھولا اور راجپوت کی باقیات دریافت کیں۔ بعد ازاںرستوگی اور شکلا کو دو دن بعد گرفتار کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی کے خلاف ہتک عزت کی کارروائی پر روک
شواہد اور گواہیاں
استغاثہ نے مقدمے کے دوران حالات، تکنیکی اور جسمانی شواہد پیش کیے۔ دکانداروں نے گواہی دی کہ انہوں نے ملزمان کو قتل سے پہلے نیلا ڈرم، سیمنٹ کے تھیلے، ریت، کلیور اور ریزر فروخت کیے تھے۔مزید برآں کال ڈیٹیل ریکارڈ اور موبائل ٹاور ڈیٹا نے قتل کے وقت کے آس پاس شکلا کو رہائش گاہ پر ظاہر کیا۔ تفتیش کاروں نے شملہ اور منالی میں ہوٹل میں قیام کے دوران اس جوڑے کی نقل و حرکت کا بھی پتہ لگایا۔علاوہ ازیں پوسٹ مارٹم کے نتائج نے تصدیق کی کہ راجپوت کی موت چھرا گھونپنے کے زخموں سے ہوئی تھی۔ شواہد نے قتل اور اس کے بعد اس کی باقیات کو چھپانے کی کوشش کے بارے میں استغاثہ کے بیانیے کو قائم کرنے میں مدد کی۔