Updated: September 08, 2026, 4:06 PM IST
| Berlin
جرمن اسپورٹس ویئر کمپنی ادیداس نے سابق اسرائیلی فوجی شالیو بٹون کو اپنی سنگل شو سروس کی تشہیری مہم میں شامل کرنے پر معذرت کرلی ہے۔ بٹون کی تصویر اسرائیل میں ایڈیڈاس کے اسٹورز پر آویزاں پوسٹرز کا حصہ تھی، جس پر فلسطین کے حامی کارکنوں نے شدید تنقید کرتے ہوئے کمپنی کے بائیکاٹ کی اپیل کی۔ یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں ہزاروں فلسطینی جنگ کے دوران اپنے اعضاء سے محروم ہوچکے ہیں۔
جرمن اسپورٹس ویئر کمپنی ادیداس نے پیر کو ایک اشتہاری مہم پر معذرت کی ہے، جس میں ایک سابق اسرائیلی فوجی کو شامل کیا گیا تھا۔ اس مہم کے بعد شدید ردِعمل سامنے آیا اور کمپنی کے بائیکاٹ کے مطالبات کیے گئے۔ اس مہم میں شالیو بٹون نامی ایک فوجی کو شامل کیا گیا تھا، جس کا بایاں پیر ۲۰۲۱ء میں اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دیتے ہوئے زخمی ہونے کے بعد کاٹ دی گئی تھی۔ اس فوجی کو ادیداس کی سنگل شو سروس کی تشہیر کیلئے مہم کا حصہ بنایا گیا تھا۔ ٹائمز آف اسرائیل کی ایک رپورٹ کے مطابق، ادیداس نے ایک بیان میں کہا، ’’ہم تسلیم کرتے ہیں کہ مقامی ٹیم کی جانب سے حالیہ مقامی تشہیری سرگرمی میں استعمال کی گئی ایک تصویر نے تشویش اور شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے۔‘‘ کمپنی نے مزید کہا، ’’کسی کو ناراض کرنا ہمارا مقصد ہرگز نہیں تھا اور ہم اس سے متاثر ہونے والے ہر فرد سے معذرت خواہ ہیں۔‘‘ کمپنی نے اس تشہیری مہم کو عالمی مہم کا حصہ قرار دینے کے بجائے مقامی سطح کی ایک کوشش قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ میں اپنا پاؤں گنوانے والا اسرائیلی فوجی،ادیداس کی ”سنگل شو سروس“ مہم کا حصہ، شدید تنقیدیں
واضح ہو کہ بٹون ان ۱۱؍ معذور ایتھلیٹس میں شامل تھا جن کی تصاویر اسرائیل میں ادیداس کے اسٹورز پر آویزاں پوسٹرز میں شامل کی گئی تھیں۔ فلسطین کے حامی کارکنوں نے اعضاءء سے محروم افراد پر مرکوز اس مہم میں ایک سابق اسرائیلی فوجی کو شامل کرنے کے فیصلے پر تنقید کی۔ انہوں نے اس تشہیری مہم کا موازنہ ان ہزاروں فلسطینیوں سے کیا جنہوں نے غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے دوران اپنے اعضاء کھو دئیے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے مئی میں شائع کیے گئے تخمینوں کے مطابق، اکتوبر ۲۰۲۳ء سے غزہ میں جنگ کے نتیجے میں ۵؍ ہزار سے زیادہ افراد نے اپنے اعضاء کھو دئیے ہیں جبکہ ۲۲؍ ہزار سے زائد افراد کو ہاتھوں اور پیروں میں شدید نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں۔ زندگی بدل دینے والی چوٹوں کا سامنا کرنے والے افراد میں سے ایک چوتھائی تک بچے ہیں۔
ہسپانوی اداکار ہاویئر بارڈیم بھی ان افراد میں شامل تھے جنہوں نے اس تشہیری مہم کے باعث صارفین سے ادیداس کے بائیکاٹ کی اپیل کی۔ ادیداس نے کہا کہ اس کی سنگل شو سروس کا مقصد شمولیت کو فروغ دینا ہے۔ اس سروس کے ذریعے جسمانی اعضاء میں فرق رکھنے والے افراد صرف وہ جوتا خرید سکتے ہیں جس کی انہیں ضرورت ہو۔ کمپنی نے جنوری میں ۲۳؍ یورپی ممالک میں یہ سروس متعارف کرائی تھی۔ ادیداس کی ملکیت والے اسٹورز اور آؤٹ لیٹس میں صارفین کو جوتوں کے مکمل جوڑے کے بجائے ایک جوتا جوڑے کی قیمت کے ۵۰؍ فیصد میں خریدنے کی سہولت دی جاتی ہے۔ یہ سروس معذور افراد کیلئے کام کرنے والے گروپس اور تنظیموں، جن میں پیرا لمپکس جی بی بھی شامل ہے، سے مشاورت کے بعد تیار کی گئی تھی۔ ادیداس نے کہا کہ اس پروگرام کو یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر علاقوں تک وسعت دی جا رہی ہے، جن میں فلسطین، متحدہ عرب امارات، لبنان، سعودی عرب، کویت، قطر اور مصر شامل ہیں۔ کمپنی نے کہا کہ وہ ’’سنتی، سیکھتی اور کام کرتی رہے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہمارے اقدامات ان جامع اقدار کی عکاسی کریں جن کیلئے ہم کھڑے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نتن یاہوکی لیکوڈ پارٹی کی مقبولیت میں مزید کمی، حکومت بنانے کی راہ دشوار: سروے
ادیداس کے اسرائیل-فلسطین سے متعلق ماضی کے تنازعات
گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران ادیداس کو کئی مواقع پر اسرائیل اور فلسطین سے متعلق اسی طرح کے تنازعات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ۲۰۱۲ء میں کمپنی کو یروشلم میراتھن کی اسپانسرشپ کے باعث عرب کھیلوں کے عہدیداروں کی جانب سے بائیکاٹ کے مطالبات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس میراتھن کا راستہ مقبوضہ مشرقی یروشلم سے گزرتا تھا۔ عرب نوجوانوں اور کھیلوں کے وزرا نے اس ایونٹ کو اسپانسر کرنے والی کمپنیوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس ریس کو شہر پر اسرائیلی دعووں کو مضبوط کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگلے سال ادیداس میراتھن کے اسپانسرز میں شامل نہیں تھی۔ ۲۰۱۸ء میں کمپنی کو ایک بار پھر دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جب ۱۳۰؍ سے زائد فلسطینی فٹ بال کلبوں اور کھیلوں کی تنظیموں نے ادیداس سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی فٹ بال اسوسی ایشن کی اسپانسرشپ ختم کرے۔ مہم چلانے والوں نے اعتراض کیا تھا کہ اس ایسوسی ایشن میں مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں کے کلب بھی شامل ہیں، جنہیں وہ غیر قانونی سمجھتے ہیں۔ اس وقت ادیداس نے کہا تھا کہ وہ ’’سیاسی طور پر غیر جانبدارانہ انداز‘‘ میں کام کرتی ہے۔ کمپنی نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ انسانی حقوق کے معیارات کی حمایت کرتی ہے اور اس معاملے کو فیفا کے سامنے اٹھا چکی ہے۔ بعد میں کمپنی نے اسرائیلی فٹ بال اسوسی ایشن کی اسپانسرشپ ختم کردی، تاہم اس نے عوامی طور پر اس فیصلے کو فلسطینی مہم سے منسلک نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ انتظامیہ کا شادی شدہ جوڑوں کو بچوں کی گھر پر پرورش کرنے کیلئے رقم دینے کے منصوبے پر غور
جولائی ۲۰۲۴ء میں ایک اور تنازع اس وقت پیدا ہوا جب ادیداس نے فلسطینی نژاد امریکی ماڈل بیلا حدید کو ایک پرانے طرز کے جوتے کی تشہیری مہم سے ہٹا دیا۔ یہ مہم ۱۹۷۲ء کے میونخ اولمپکس کی یادوں سے متعلق تھی اور اسرائیل نے اس مہم میں حدید کی شمولیت پر تنقید کی تھی۔ بیلا حدید، جو طویل عرصے سے فلسطینی حقوق کیلئے عوامی سطح پر آواز اٹھاتی رہی ہیں، نے مبینہ طور پر اس فیصلے کے خلاف قانونی کارروائی کیلئے وکلا کی خدمات حاصل کیں۔ بعد میں ادیداس نے حدید اور مہم میں شامل دیگر شراکت داروں سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ایک ’’غیر ارادی غلطی‘‘ ہوئی تھی اور کمپنی مہم میں تبدیلیاں کر رہی ہے۔ تاہم کمپنی نے بیلا حدید کو دوبارہ مہم میں شامل نہیں کیا۔ اس معاملے سے نمٹنے کے ایڈیڈاس کے طریقۂ کار پر مزید تنقید ہوئی اور سوشل میڈیا پر کمپنی کے بائیکاٹ کے مزید مطالبات سامنے آئے۔