Updated: September 04, 2026, 10:05 PM IST
| Berlin
ادیداس کے خلاف شدید ردعمل کا مرکز سنگل شو سروس کے مہماتی چہرے کا انتخاب ہے۔ آن لائن ناقدین نے مئی ۲۰۲۶ء میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے جاری کئے جانے والے تخمینوں کی طرف اشارہ کیا ہے جن کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ء سے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگی کارروائیوں کے نتیجے میں فلسطینیوں کے اعضاء کاٹنے کے ۵۰۰۰ سے زائد سنگین واقعات اور اعضاء سے جڑے بڑے زخم لگنے کے ۲۲۰۰۰ سے زیادہ واقعات پیش آ چکے ہیں۔
ادیداس نے اپنی ”سنگل شو سروس“ (Single Shoe Service) مہم میں سابق اسرائیلی فوجی شالیو بیتون کو شامل کیا ہے جس کے بعد معروف عالمی برانڈ شدید تنقیدوں کی زد میں آگیا ہے۔ ”سنگل شو سروس“ نچلے اعضاء کی محرومی کا شکار افراد کیلئے کمپنی کا اقدام ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے غزہ میں اعضاء کاٹے جانے کے بڑے پیمانے کے پیشِ نظر، ایک اسرائیلی فوجی کا انتخاب نامناسب اور بے حسی پر مبنی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، بیتون کی بائیں ٹانگ مئی ۲۰۲۱ء میں غزہ کے قریب اس کی گاڑی پر اینٹی ٹینک میزائل لگنے سے ضائع ہوگئی تھی، اس حملے میں اس کا ایک ساتھی فوجی بھی مارا گیا تھا۔ بحالی اور مصنوعی اعضاء کے ساتھ چلنا سیکھنے کے بعد، بیتون بے جوڑ جوتے خریدنے سے متعلق اپنی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے، اسرائیل میں ادیداس کی سروس کو فروغ دینے میں شامل ہوگیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: انتہا پسند اسرائیلی وزیرکا ۱۸؍ لاکھ فلسطینیوں کی غزہ سے بےدخلی کا ۷؍ سالہ منصوبہ
ادیداس کی’سنگل شو سروس‘ کا آغاز جنوری ۲۰۲۶ء میں یورپ میں ہوا اور مارچ میں باضابطہ طور پر اس میں توسیع کی گئی، جس کے تحت نچلے اعضاء کی معذوری والے صارفین کو ایک جوڑا خریدنے کی بجائے آدھی قیمت پر صرف ایک جوتا خریدنے کی سہولت دی گئی ہے۔ یہ فی الوقت ۲۳ یورپی ممالک میں ادیداس کے ملکیتی اسٹورز پر دستیاب اسٹاک پر ہی لاگو ہوتی ہے، فی الحال اس میں آن لائن اور تھرڈ پارٹی ریٹیل شامل نہیں ہے۔ ادیداس کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کو اعضاء کی معذوری کا ذاتی تجربہ رکھنے والے افراد اور پیرا اولمپکس جی بی (ParalympicsGB) جیسے گروپوں کے مشوروں سے تشکیل دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ۶۰؍ فیصد غزہ پر ہمارا قبضہ ہے، مزید توسیع کریں گے: اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کی شرانگیزی
ادیداس پر تنقید اور غزہ جنگ
ادیداس کے خلاف شدید ردعمل کا مرکز سنگل شو سروس کے مہماتی چہرے کا انتخاب ہے۔ ناقدین نے مئی ۲۰۲۶ء میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے جاری کئے جانے والے تخمینوں کی طرف اشارہ کیا ہے جن کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ء سے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگی کارروائیوں کے نتیجے میں فلسطینیوں کے اعضاء کاٹنے کے ۵۰۰۰ سے زائد سنگین واقعات اور اعضاء سے جڑے بڑے زخم لگنے کے ۲۲۰۰۰ سے زیادہ واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ناقدین نے سوال اٹھایا ہے کہ معذوری کی سہولیات سے متعلق گفتگو میں معذور فلسطینیوں کو کیوں شامل نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے بیتون کے فوجی پس منظر کو خود جنگ پر کی جانے والی وسیع تر تنقید سے جوڑا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بلڈوزر کے سامنے فلسطینی خاتون زیتون کے درخت سے لپٹ گئی
عالمی ادارہ صحت کی مئی ۲۰۲۶ء کی رپورٹ میں یہ بھی پایا گیا کہ ستمبر ۲۰۲۶ء سے مئی ۲۰۲۶ء کے درمیان غزہ میں معائنے کے تحت لائے گئے تقریباً ۲۲۷۷ معذور افراد میں سے بحالی کی خدمات اور معاون آلات کی شدید قلت کے باعث صرف ۵۰۲ متاثرہ افراد کو ہی مصنوعی اعضاء لگائے جا سکے تھے۔