Updated: May 29, 2026, 10:04 PM IST
| Kolkata
ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر ) اور مغربی بنگال الیکشن واچ کی رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۶ء کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ۵؍ سیٹیں ایسی ہیں، جہاں ہار جیت کا فیصلہ ایک ہزار سے بھی کم ووٹوں سے طے ہوا، اس کے علاوہ ۴۰؍ فیصد کامیاب امیدوار ۵۰؍ فیصدسے بھی کم ووٹ حاصل کرسکے۔
ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (ADR) اور مغربی بنگال الیکشن واچ کی رپورٹ کے مطابق، ۲۰۲۶ءکے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں تقریباً۴۰؍ فیصد کامیاب امیدواروں نے اپنی نشستوں پر۵۰؍ فیصد سے کم ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔اس مطالعے میں فالٹا کو چھوڑ کر۲۹۴؍ میں سے۲۹۳؍ حلقوں کے نتائج کا تجزیہ کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ووٹر ٹرن آؤٹ۹۳؍ اعشاریہ ۷؍ فیصد رہا، جو۲۰۲۱ء کے اسمبلی انتخابات کے۸۲؍ اعشاریہ ۳؍ فیصد کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اتر پردیش: ہمیرپور میں زیرِ تعمیر پل گرنے سے ۶؍ مزدور ہلاک، کئی ملبے میں دبے
مطالعے کے مطابق، کامیاب امیدواروں نے اوسطاً ۵۰؍ اعشاریہ ۴۳؍ فیصد ووٹ حاصل کیے، جو ۲۰۲۱ءکے انتخابات کے۵۰؍ اعشاریہ ۱۶؍ فیصد کے اوسط سے معمولی زیادہ ہے۔ کل۱۷۵؍ امیدوار (۶۰؍ فیصد) ۵۰؍ فیصد سے زیادہ ووٹ لے کر جیتے، جبکہ۱۱۸؍ (۴۰؍ فیصد) نصف سے کم ووٹوں پر کامیاب ہوئے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ جیتنے والے امیدواروں نے اوسطاً کل رجسٹرڈ ووٹرز کا۴۷؍ اعشاریہ ۲۰؍ فیصد حصہ حاصل کیا، جو۲۰۲۱ء میں۴۱؍ اعشاریہ ۲۹؍ فیصد تھا۔جبکہ پانچ ایسی نشستیں بھی تھیں جہاں فاتحین کو ایک ہزار سے بھی کم ووٹوں کے فرق سے فتح حاصل ہوئی، جن میں راجرہاٹ نیو ٹاؤن ( ۳۰۹؍ووٹوں سے)، ستگاچھیا (۴۰۱؍) جنگِی پاڑہ (۸۶۲؍)رائنا (۸۳۴؍) اور انڈس (۹۰۰؍)شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: عیدالاضحیٰ پر گونجا بھائی چارے اور محبت کا پیغام
بعد ازاں رپورٹ کے مطابق۳۷؍ خواتین امیدواروں نے کامیابی حاصل کی، جن میں ڈابگرام پھلباری سےبی جے پی کی شیکھا چٹرجی نے۶۶؍ فیصد ووٹ حاصل کرکے خواتین میں سب سے زیادہ وٹ شیئر حاصل کیا۔ ’ نوٹا‘‘(ان میں سے کوئی نہیں) کے آپشن پر۴۹۴۹۳۲؍ ووٹ (کل ۶؍ اعشاریہ ۳۷؍کروڑ میں سےصفر اعشاریہ ۷۸؍ فیصد) ڈالے گئے۔ واضح رہے کہ مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان ۴ ؍ مئی کو کیا گیا تھا۔