علماء اور اعلیٰ پولیس افسران نے توجہ دلائی۔ مشتبہ افراد اور مشکوک سرگرمی پر نگاہ رکھنے کی ہدایت۔ جلوس کے انتظامات کے تعلق سے بی ایم سی سے متعدد مطالبات۔
EPAPER
Updated: August 22, 2026, 10:48 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
علماء اور اعلیٰ پولیس افسران نے توجہ دلائی۔ مشتبہ افراد اور مشکوک سرگرمی پر نگاہ رکھنے کی ہدایت۔ جلوس کے انتظامات کے تعلق سے بی ایم سی سے متعدد مطالبات۔
جلوس عید میلادالنبیؐ کیلئے خلافت ہاؤس میں اعلیٰ پولیس افسران کے ہمراہ علماء ، ذمہ داران اور منتظمین کی جمعرات کی شام کو مشاورتی میٹنگ ہوئی۔اس دوران ذمہ داران اور منتظمین کے ذریعے شرکائے جلوس کو یہ پیغام پہنچایا گیا کہ یہ جلوس آپ ؐ کی پاک ذات سے منسوب ہے، اس لئے جلوس کو اسی انداز میں پر وقار طریقے سے نکالا جائے ۔ کوئی غیر ضروری عمل ایسا نہ ہو جس سے کسی کو لب کشائی کا موقع ملے۔ شائستگی کا مظاہرہ کیا جائے۔ جلوس میں باوضو ہوکر شرکت کی جائے اور زبان پر کلمہ طیبہ اور درود پاک کا ورد ہو، دل آزار نعروں سے گریز کیا جائے اور نمازوں کی پابندی کی جائے۔ اس کا خیال رکھا جائے گا کہ جلوس کے دوران کوئی نماز قضا نہ ہونے پائے۔
مولانا سید معین الدین اشرف نے ڈی جے اور آتش بازی کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان غلط کاموں اور خرافات میں گاڑھی کمائی نہ پھونکی جائے بلکہ اسے ضرورت مندوں پر صرف کیا جائے۔ اس کو غریب مریضوں کو دوا علاج میں صرف کیا جائے، طلبہ کی فیس ادا کی جائے اور جو بھی امور خیر ممکن ہو ، اس میں صرف کیا جائے۔ یہی عید میلادالنبیؐ کا حقیقی پیغام ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اسرائیل: اعلیٰ تعلیم یافتہ شہریوں کا ریکارڈ اخراج، ’برین ڈرین‘ کا خطرہ بڑھ گیا
آل انڈیا خلافت کمیٹی کے چیئرمین سرفراز آرزو نے جلوس کے تعلق سے اس کی تاریخ اور پس منظر پر روشنی ڈالی اور خصوصیت سے نظم ونسق پر توجہ دینے پر حاضرین کو متوجہ کیا ۔ انہوں نے نمائندے کے سوال پر یہ بھی بتایا کہ جلوس کے تعلق سے بی ایم سی کو متعدد تجاویز اور مطالبات کئے گئے ہیں جن میں راستوں سے اسپیڈ بریکر ہٹانا، نگرانی کیلئے ٹاور بنانا، صاف صفائی پر خاص توجہ، شرکاء اور ناظرین کے لئے ناشتہ، متعدد جگہ بڑے اسکرین وغیرہ لگانا۔ اب یہ معلوم کیا جائے گا کہ ان مطالبات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بی ایم سی کی جانب سے کیا قدم اٹھایا گیا ہے۔
اعلیٰ پولیس افسران نے نظم ونسق پر توجہ دلائی۔ دریں اثناء محرم کے جلوس میں زہریلے کیپسول تقسیم کرنے جیسی شرپسندی اور سازش سے ہوشیار رہنے کی بھی تلقین کی گئی۔ خاص طور پر اسٹیج لگانے والوں کو بتایا گیا کہ وہ بھی اپنے ارد گرد مشکوک افراد اور سرگرمی پر نگاہ رکھیں۔ اگر کوئی گڑبڑ کا اندیشہ ہو تو فوراً پولیس کو خبر کریں۔
یہ بھی پڑھئے:راہل نے سسٹم ہلا دیا، سرکار گھٹنوں پر، ایف آئی آر درج کرنی پڑی
جلوس سے متعلق اس میٹنگ میں بڑی تعداد میں ذمہ دار اشخاص، عمائدین شہر، علماء اور ملی وسماجی تنظیموں کے ذمہ داران موجود تھے جبکہ اظہار خیال کرنے والوں میں اراکین اسمبلی امین پٹیل، منوج جامستکر، اقبال میمن آفیسر، نظام الدین راعین، سابق رکن اسمبلی وارث پٹھان، ساتھ ریجن کے ایڈیشنل پولیس کمشنر سیلیش بال کاؤڑے اور سینٹرل ریجن کے ایڈیشنل پولیس کمشنر وکرم دیشمانے، ڈی سی پی اور سینئر افسران شامل تھے۔ نظامت کے فرائض مولانا محمود علی خان نے انجام دیئے اور تاج قریشی نے بارگاہِ رسالت میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔
خلافت ہاؤس سے نکلنے والے جلوس کا یہ ۱۰۷؍واں سال ہوگا۔ پہلا جلوس۱۹۱۹ء میں نکالا گیا تھا جو ایلفنسٹن مل جو عمر ثوبانی کی تھی، وہاں سے نکلا تھا۔
جلوس کی قیادت مفتی خلیق اشرف کریں گے
اس دفعہ جلوس کی قیادت مفتی خلیق اشرف (گونڈہ، اتردیش) کریں گے جبکہ مہمان خصوصی کانگریس اقلیتی شعبے کے چیئرمین عمران پرتاپ گڑھی ہوں گے۔سرفراز آرزو سے یہ پوچھنے پر کہ عموماً قائدین میں غیر مسلم شخصیات ہوتی ہیں، اس دفعہ ترتیب بدلی ہوئی ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ ایسا ضروری نہیں ہے کہ غیر مسلم ہی ہو بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے اور ایسی شخصیت کا انتخاب کیا جاتا ہے جو سیکولر ذہنیت کی حامل ہو۔