Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل: اعلیٰ تعلیم یافتہ شہریوں کا ریکارڈ اخراج، ’برین ڈرین‘ کا خطرہ بڑھ گیا

Updated: August 22, 2026, 10:05 AM IST | Tel Aviv

تل ابیب یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ۲۰۲۳ء سے ۲۰۲۵ء کے درمیان ۲؍ لاکھ ۶۸؍ ہزار سے زائد اسرائیلی شہری کم از کم تین ماہ کے لیے بیرونِ ملک گئے، جبکہ ملک چھوڑنے والوں میں ڈاکٹرز، انجینئرز، ٹیکنالوجی ماہرین اور دیگر اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد کا تناسب نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد پیدا ہونے والےسیکوریٹی، سیاسی اور سماجی بحران نے اس رجحان کو مزید تیز کیا ہے، جس کے طویل مدت میں اسرائیل کی معیشت، صحت، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبوں پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

Symbolic image: X
علامتی تصویر: ایکس

اسرائیل سے شہریوں کے ملک چھوڑنے کی ریکارڈ تعداد نے نہ صرف اپنے حجم بلکہ بیرونِ ملک جانے والے افراد کے پروفائل کے باعث بھی توجہ حاصل کرلی ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل سے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور زیادہ آمدنی رکھنے والے پیشہ ور افراد کی بڑی تعداد بیرونِ ملک منتقل ہو رہی ہے۔ تل ابیب یونیورسٹی کی جانب سے رواں ماہ جاری کی گئی ایک تحقیق کے مطابق ۲۰۲۳ء سے ۲۰۲۵ء کے درمیان تقریباً ۲؍ لاکھ ۷۰؍ ہزار اسرائیلی شہری کم از کم مسلسل تین ماہ کیلئے ملک سے باہر چلے گئے۔ یہ تعداد ایک دہائی قبل اسی نوعیت کے تین سالہ عرصے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ اس رجحان نے ’’برین ڈرین‘‘ یعنی ملک سے ہنرمند اور باصلاحیت افراد کے اخراج کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ مختلف مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹرز، انجینئرز، ماہرینِ تعلیم اور دیگر ہنرمند پیشہ ور افراد بڑی تعداد میں اسرائیل چھوڑ رہے ہیں۔

آزاد اسرائیلی سیاسی مبصر اور سابق یونیورسٹی پروفیسر اوری گولڈ برگ نے خبر رساں ایجنسی اناڈولو کو بتایا کہ یہ رجحان اسرائیل میں استحکام کے وسیع تر بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ملک بکھر رہا ہے۔ اس میں استحکام نہیں ہے۔‘‘ گولڈ برگ کے مطابق ملک چھوڑنے والے بہت سے افراد ایسے ماحول کی تلاش میں ہیں جہاں استحکام، مؤثر سرکاری خدمات اور اس بات کی ضمانت موجود ہو کہ عوامی ادارے اطمینان بخش انداز میں کام کریں گے۔ ان افراد میں نسبتاً لبرل خیالات رکھنے والے لوگ بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’یہ تعداد معمول سے کہیں زیادہ ہے۔ ملک چھوڑنے والوں اور ملک آنے والوں کے درمیان فرق بھی معمول کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوگیا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اٹلی کے۱۲۳؍ سال پرانے ساحل کی پالیسی پر تنازع مگرسیاحوں کی تعداد میں اضافہ

ریکارڈ ہجرت اور بدلتا ہوا پروفائل

تل ابیب یونیورسٹی کی تحقیق، جو اسرائیل کے مرکزی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، کے مطابق ۲۰۲۳ء سے ۲۰۲۵ء کے درمیان ۲؍ لاکھ ۶۸؍ ہزار ۵۰۹؍ اسرائیلی شہری کم از کم مسلسل تین ماہ کیلئے ملک سے باہر گئے، جبکہ ایک دہائی قبل اسی تین سالہ مدت کے دوران یہ تعداد ایک لاکھ ۸۳؍ ہزار ۲۱۹؍ تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۳ء میں ۸۶؍ ہزار ۵۰۹؍، ۲۰۲۴ء میں ۹۱؍ ہزار ۴۹۹؍ اور ۲۰۲۵ء میں ۹۰؍ ہزار ۹۲۲؍ اسرائیلی شہری ملک سے باہر گئے۔ چونکہ ۲۰۲۵ء کے لیے ۱۲؍ ماہ یا اس سے زائد عرصے تک ملک سے باہر رہنے والے افراد کے سرکاری اعداد و شمار ۲۰۲۷ء تک دستیاب نہیں ہوں گے، اس لیے محققین نے کم از کم مسلسل تین ماہ کی بیرونِ ملک رہائش کو ابتدائی اشارے کے طور پر استعمال کیا۔ ان کا اندازہ ہے کہ ۲۰۲۵ء میں تقریباً ۴۵؍ ہزار سے ۵۰؍ ہزار اسرائیلی کم از کم ایک سال تک بیرونِ ملک مقیم رہے۔ جون میں کنیسٹ کی ایک کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیے گئے الگ اعداد و شمار نے بھی ہجرت کے توازن میں نمایاں بگاڑ کی نشاندہی کی۔ اسرائیلی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۲ء سے ۲۰۲۴ء کے درمیان اسرائیلی شہریوں کا ہجرتی توازن منفی رہا اور تین سال کے دوران تقریباً ایک لاکھ ۴۰؍ ہزار افراد کی کمی واقع ہوئی۔ واضح ہو کہ ملک چھوڑنے والوں کا پروفائل بھی تبدیل ہوا ہے۔ قانون سازوں کے سامنے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۲ء میں ۲۵؍ سے ۶۴؍ سال عمر کے اسرائیلی تارکینِ وطن عام آبادی کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ تعلیم یافتہ تھے۔ ان میں بیچلر ڈگری رکھنے والوں کا تناسب عام آبادی کے مقابلے میں ڈیڑھ گنا، ماسٹرز ڈگری رکھنے والوں کا دو گنا اور پی ایچ ڈی رکھنے والوں کا ۶ء۴؍  گنا زیادہ تھا۔ صرف ۲۰۲۴ء میں ۵۳۰؍ ڈاکٹر اسرائیل چھوڑ کر بیرونِ ملک گئے، جن میں سے دو تہائی نے اپنی تعلیم اسرائیل میں حاصل کی تھی، جبکہ ملک واپس آنے والے ڈاکٹروں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی۔

ہنرمند پیشہ ور افراد کے اخراج میں اضافہ 

اسرائیل ٹیکس اتھارٹی کی تحقیق، جس کا حوالہ ’’ٹائمز آف اسرائیل‘‘ نے دیا، کے مطابق ۲۰۲۳ء اور ۲۰۲۴ء میں خوشحال اسرائیلی شہریوں کی بیرونِ ملک منتقلی میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ان تارکینِ وطن میں ڈاکٹرز، انجینئرز اور دیگر اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد کا تناسب غیر معمولی طور پر زیادہ تھا۔ ملک چھوڑنے سے ایک سال قبل تارکینِ وطن کی اوسط سالانہ آمدنی حقیقی بنیادوں پر ۲۰۱۵ء سے ۲۰۱۹ء کے دوران تقریباً ایک لاکھ ۲۵؍ ہزار شیکل (۳۹؍ ہزار ڈالر) سے بڑھ کر ۲۰۲۴ء میں تقریباً ۲؍ لاکھ شیکل ہوگئی۔ گولڈ برگ نے کہا کہ پیشہ ور افراد کا ملک چھوڑنا ’’حقیقی خطرہ‘‘ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب صحت، تحقیق اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں کام کرنے کے حالات مزید مشکل ہوتے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’برین ڈرین کا کچھ خطرہ ضرور ہے‘‘ اور نشاندہی کی کہ ملک چھوڑنے والے افراد عموماً ’’اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور‘‘ ہوتے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر ڈاکٹروں اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ افراد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک اسپیشلائزیشن یا تربیت کے لیے جانے والے ڈاکٹرز کی بڑھتی ہوئی تعداد واپس نہیں آرہی، جبکہ ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے دوسرے ملک منتقل ہونا نسبتاً آسان ہے۔ ان کے بقول، ’’اسرائیل میں ان پیشوں سے وابستہ افراد کے لیے کام کرنا مزید مشکل ہوتا جائے گا۔ لہٰذا لوگ ملک چھوڑ دیں گے، اور میرے خیال میں یہی ہو رہا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: یمنیٰ حسن نے آکسفورڈ کےبہترین اسپیکر کا ایوارڈ حاصل کیا، اے آئی کےمقابلے انسانی صلاحیتوں کی وکالت کی

اکتوبر ۲۰۲۳ء نے اسرائیلی معاشرے کو کافی بدل دیا

گولڈ برگ نے ہجرت میں تیزی کی بڑی وجہ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد کے حالات کو قرار دیا۔ اس وقت حماس کے حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں جنگ شروع کی، جسے گولڈ برگ نے نسل کشی پر مبنی جنگ قرار دیا۔ ان کے مطابق سیکوریٹی بحران اور اس کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی و سماجی تبدیلیوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں اس کی بڑی وجہ اکتوبر ۲۰۲۳ء ہے۔‘‘ ان کے مطابق، ’’سیاسی تبدیلیاں، تقسیم، تنازعات اور سماجی سوالات اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد پیدا ہونے والے اجتماعی صدمے کے نتیجے میں مزید گہرے ہوئے۔‘‘ گولڈ برگ نے کہا کہ اس عرصے نے اسرائیلی معاشرے کو زیادہ سیکوریٹی پر مرکوز سوچ کی جانب دھکیلا اور ان سیاسی تقسیموں کو مزید مضبوط کیا جو حکومت کی جانب سے عدالتی اصلاحات کی متنازع کوششوں کے دوران پہلے ہی نمایاں ہوچکی تھیں۔ تل ابیب یونیورسٹی کے محققین نے بھی نشاندہی کی کہ نومبر ۲۰۲۲ء کے انتخابات اور عدالتی اصلاحات کے تنازع کے بعد اسرائیل سے ہجرت کے بارے میں عوامی تشویش میں اضافہ ہوا، جو اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد مزید بڑھ گئی۔

عارضی لہر یا طویل مدتی تبدیلی؟ 

محققین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ سطح پر ہجرت اسرائیل کی اقتصادی مضبوطی کے لیے فوری خطرہ نہیں، تاہم اگر یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو طویل مدت میں اس کے سنگین اثرات ہوسکتے ہیں۔ اسرائیلی معیشت ٹیکنالوجی، صحت اور اعلیٰ تعلیم جیسے شعبوں میں نسبتاً محدود تعداد میں موجود ہنرمند افراد پر کافی حد تک انحصار کرتی ہے۔ محققین نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ مسلسل ملک چھوڑنے والے افراد دوسروں کو بھی ہجرت پر آمادہ کرسکتے ہیں، جس سے یہ رجحان مزید بڑھ سکتا ہے اور اسے واپس پلٹنا مشکل ہوسکتا ہے۔ گولڈ برگ نے کہا کہ انہیں توقع نہیں کہ موجودہ ہجرت کی لہر فوری حالات بہتر ہونے کی صورت میں خود بخود ختم ہوجائے گی۔ ان کے مطابق، ’’مجھے نہیں لگتا کہ یہ محض ایک عارضی لہر ہے، اور نہ ہی مجھے لگتا ہے کہ سیاسی اور سکیورٹی حالات کو اتنی آسانی سے مستحکم کیا جاسکتا ہے۔ مجھے یقین نہیں کہ اسرائیل صرف پہلے جیسی صورتحال میں واپس جاسکتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: چینی کی قیمتوں میں اضافے کو ایتھنول سے جوڑنا درست نہیں : حکومت

امریکہ میں مقیم اسرائیلیوں پر امیگریشن اور آبادیاتی امور کی ماہر لِلاخ لیو آری کی تحقیق بھی اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ طویل عرصے تک بیرونِ ملک رہنے سے تارکینِ وطن کے اپنے ملک کے ساتھ تعلقات تبدیل ہوسکتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے مطابق امریکہ منتقل ہونے والے اسرائیلی خاندانی تعلقات، ڈیجیٹل رابطوں اور اسرائیل کے دوروں کے ذریعے ملک کے ساتھ اپنے روابط برقرار رکھتے ہیں، تاہم طویل عرصے تک بیرونِ ملک رہنے والے افراد بیک وقت اپنے ملک سے بڑھتا ہوا جذباتی فاصلہ بھی محسوس کرسکتے ہیں۔ اس کیفیت کو ’’ٹرانس نیشنل ڈِسّوننس‘‘ یعنی سرحدوں سے بالاتر تعلقات میں داخلی بے ربطی کہا گیا ہے۔

گولڈ برگ کے مطابق موجودہ ہجرت ایک مختصر مدتی بحران کے ردعمل کے بجائے اسرائیل میں وسیع تر تبدیلی کا حصہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میرا اندازہ ہے کہ اسرائیل ایک طویل مدتی آبادیاتی اور معاشی تبدیلی کے دور میں داخل ہورہا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK