Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان: ڈینگو کے مریض سے سرکاری اسپتال میں خون کی جانچ کیلئے رقم کا مطالبہ!

Updated: August 22, 2026, 11:00 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Kalyan

رکمنی بائی اسپتال میں مریض سے بلڈ ٹیسٹ کے نام پر ڈھائی ہزار روپے وصول کئے گئے۔

Muhammad Feroze. Picture: INN
محمد فیروز۔ تصویر: آئی این این

شہر میں مانسون کے آغاز کے ساتھ ہی ٹائیفائیڈ، ملیریا اور وائرل بخار کے معاملات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ڈینگو کے پہلے مریض کی تصدیق نے شہری انتظامیہ اور محکمہ صحت میں ہلچل مچا دی ہے۔ ایک طرف میونسپل کارپوریشن شہریوں کو صفائی اور احتیاطی تدابیر کی تلقین کر رہی ہے، تو دوسری جانب رکمنی بائی سرکاری اسپتال کی مجرمانہ لاپروائی اور بدانتظامی کا پردہ فاش ہو گیا ہے۔ اسپتال میں زیرِ علاج ایک غریب ڈینگو مریض سے خون کے ٹیسٹ کے نام پر پیسے  لینے اور بنیادی ادویات تک فراہم نہ کیے جانے کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے عوامی حلقوں میں شدید برہمی کی لہر دوڑا دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: برکاتیہ مسجد سمیت ۳۰ ؍سے زائد گھروں کو انہدامی نوٹس

تفصیلات کے مطابق، عیدگاہ بائی پاس روڈ پر واقع ایک ٹائر پنکچر کی دکان پر کام کرنے والے ۴۰؍ سالہ محمد فیروز ڈینگو کا شکار ہو گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ وہ کلیان میں ڈینگو کے پہلے رپورٹ شدہ مریض ہیں۔ طبی مشورے کے بعد وہ علاج کیلئے رکمنی بائی سرکاری اسپتال پہنچے، جہاں ان کے خون کی جانچ کی گئی۔ محمد فیروز کے مطابق خون کے ٹیسٹ کیلئے ان سے ۲؍ ہزار ۵۷۲؍ روپے وصول کئے گئے۔ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے غریب مزدور کیلئے بیماری کے دوران اتنی بڑی رقم ادا کرنا ایک بھاری مالی بوجھ ہے۔ سرکاری اسپتالوں کا اصل مقصد ہی غریب اور متوسط طبقے کو کم خرچ یا مفت معیاری طبی سہولتیں دینا ہے، ایسے میں ٹیسٹ کے نام پر ہزاروں روپے وصول کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ اس معاملے کا مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ محمد فیروز کو علاج کے دوران ضروری اور مہنگی گولیاں بھی اسپتال میں دستیاب نہیں ہو سکیں۔ انہیں مجبوراً باہر کے میڈیکل اسٹور سے پہلی بار ۹۴۰؍ روپے اور دوسری بار ۵۸۰؍ روپے کی ادویات خریدنی پڑیں۔

یہ بھی پڑھئے:بھیونڈی : علماء کے وفد کی ڈی سی پی سے ملاقات

اس معاملے پر انقلاب نے چیف میڈیکل آفیسر دیپا شکلا سے رابطہ کیا، تو انہوں نے صرف اتنا کہا کہ وہ اسپتال کے سی ایم او سے بات کر کے خون کی جانچ پر خرچ ہونے والی رقم واپس دلوا دیں گی۔ لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ غریب مریض سے پیسے لینے اور مفت ادویات فراہم نہ کرنے والے ذمہ داران کے خلاف کیا کارروائی ہوگی تو وہ کوئی واضح جواب نہ دے سکیں۔ یہ واقعہ اس بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر سرکاری اسپتالوں میں غریبوں کو علاج اور ادویات خود خریدنی پڑیں تو ان اداروں کا وجود کس مقصد کے لئے باقی رہ جاتا ہے اور اس طرح کی لاپروائی کا  ذمہ دار کون ہے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK