عید میلادالنبیؐ کے جلوس ، شہر کے امن و امان، منشیات کے کاروبار پر قابو پانے و دیگر مسائل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
EPAPER
Updated: August 22, 2026, 10:57 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
عید میلادالنبیؐ کے جلوس ، شہر کے امن و امان، منشیات کے کاروبار پر قابو پانے و دیگر مسائل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یہاں جمعہ کو جلوس عیدمیلادالنبیؐ اور اہم شہری و سماجی مسائل کے سلسلے میں تنظیم علمائے اہل سنت کے ایک وفد نے ڈی سی پی ڈاکٹر پون بنسوڈ سے ملاقات کی۔ملاقات میں پولیس انتظامیہ اور علمائے کرام کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور مشترکہ طور پر امن و امان کے قیام کیلئے کام کرنے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وفد میں شامل اعجاز احمد شیخ نے بتایا کہ علمائے کرام نے عیدمیلادالنبیؐ کے جلوس کے دوران امن و امان، بھائی چارہ اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کیلئے ضروری انتظامات پر زور دیا۔ وفد نے گستاخی کے معاملے میں نازیہ الٰہی کے خلاف کارروائی کی پیش رفت کے بارے میں بھی گفتگو کی۔ شہر میں بڑھتے جرائم اور منشیات کے کاروبار پر قابو پانے، نوجوانوں کو منشیات اور دیگر سماجی برائیوں سے دور رکھنے اور انہیں تعلیم و مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:برکاتیہ مسجد سمیت ۳۰ ؍سے زائد گھروں کو انہدامی نوٹس
وفد کی جانب سے شہر کی خستہ حال سڑکوں اور جگہ جگہ موجود گڑھوں کا مسئلہ بھی پیش کیا گیا۔ علمائے کرام نے کہا کہ امن و امان اور شہری مسائل کے حل کے لئے انتظامیہ، سماجی تنظیموں اور عوام کے درمیان بہترا رابطہ ضروری ہے۔ ڈی سی پی ڈاکٹر پون بنسوڈ نے علمائے کرام کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ہر ماہ علماء کے ساتھ ایک مشترکہ میٹنگ منعقد کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس انتظامیہ اور علمائے کرام باہمی تعاون کے ذریعے جرائم، منشیات اور بڑھتی ہوئی سماجی برائیوں کی روک تھام میں مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں مستقل امن و امان اور بہتر سماجی ماحول کے قیام کیلئے تمام طبقات کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔ملاقات میں تنظیم علمائے اہل سنت کے ذمہ داران اور علمائے کرام نے اس عزم کا اظہار کیا کہعیدمیلادالنبیؐکے جلوس سمیت شہر کے ہر اہم موقع پر امن و بھائی چارہ برقرار رکھنے کے لئے پولیس انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا۔ وفد میں مولانا شمشاد نوری، مولانا رفیق عالم، مولانا شاہنواز حسین، مولانا فہیم الاسلام، مولانا مہتاب عالم، مولانا علی حسین ہاشمی، مفتی فرحان رضا، مولانا حافظ شعبان، مولانا راحت حسین، مولانا معظم، مولانا ذیشان، اعجاز شیخ سمیت دیگر ائمۂ مساجد اور تنظیم کے ذمہ داران موجود تھے۔