Updated: January 18, 2026, 4:02 PM IST
| Casablanca
نائیجیریا کے ’سپر ایگلز‘ نے افریقن کپ آف نیشنز کے پلے آف مرحلے میں مصر کو پنالٹی شوٹ آؤٹ پر ۲۔۴؍گول سے شکست دے کر ایونٹ میں تیسری پوزیشن اپنے نام کر لی۔ کاسابلانکا کے اسٹیڈیم محمد پنجم میں کھیلا گیا یہ مقابلہ مقررہ وقت تک بغیر کسی گول کے برابر رہا تھا۔
مصر اور نائیجیریا کا میچ۔ تصویر:آئی این این
نائیجیریا کے ’سپر ایگلز‘ نے افریقن کپ آف نیشنز کے پلے آف مرحلے میں مصر کو پنالٹی شوٹ آؤٹ پر ۲۔۴؍گول سے شکست دے کر ایونٹ میں تیسری پوزیشن اپنے نام کر لی۔ کاسابلانکا کے اسٹیڈیم محمد پنجم میں کھیلا گیا یہ مقابلہ مقررہ وقت تک بغیر کسی گول کے برابر رہا تھا۔
نائیجیریا کی جانب سے ایڈیمولا لوک مین نے آخری اور فیصلہ کن پنالٹی اسکور کر کے ٹیم کو فتح دلائی۔ اس سے قبل فیسائیو ڈیلے بشیرو پہلی کک مس کر گئے تھے، تاہم اکور ایڈمز، کپتان موسیس سائمن اور ایلکس ایووبی نے گیند کو جال کی راہ دکھا کر برتری برقرار رکھی۔ دوسری جانب مصر کے اسٹار کھلاڑی محمد صلاح اور عمر مرموش کی ککس نائیجیریا کے گول کیپر اسٹینلے نوابالی نے روک کر اپنی ٹیم کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔
نائیجیریا نےایفکون کی تاریخ میں تیسری پوزیشن کے لیے کھیلے گئے اپنے تمام ۸؍ مقابلوں میں کامیابی حاصل کرنے کا اعزاز برقرار رکھا ہے۔
میچ کے دوران نائیجیریا کے پال اونوچو کا گول ویڈیو اسسٹنٹ ریفری ریویو کے بعد فاؤل قرار دے کر منسوخ کر دیا گیا جبکہ دوسرے ہاف کے آغاز میں لوک مین کا ایک گول آف سائیڈ ہونے کی وجہ سے مسترد ہوا۔اسٹیڈیم میں موجود ۴۵؍ ہزار تماشائیوں کی اکثریت نے نائیجیریا کی حمایت کی، جس کی وجہ مراکش اور مصر کے درمیان روایتی فٹ بال حریف مانی جاتی ہے۔نائیجیریا کے لیے یہ فتح اس لحاظ سے اہم ہے کہ وہ گزشتہ نومبر میں ورلڈ کپ پلے آف اور تین دن قبل سیمی فائنل میں پنالٹی شوٹ آؤٹ پر ہی شکست کھا کر خطاب کی دوڑ سے باہر ہوئے تھے۔ اس بار قسمت نے سپر ایگلز کا ساتھ دیا اور وہ میڈل جیتنے میں کامیاب رہے۔
یہ بھی پڑھئے:راہل گاندھی کی اندور میں آلودہ پانی کے متاثرین سے ملاقات، ایک لاکھ کاامدادی چیک دیا
بگ بیش لیگ: سست ترین بیٹنگ میں محمد رضوان اور بابر اعظم نمبر ون اور دو
آسٹریلیا کی معروف ٹی ٹو۲۰؍ لیگ بگ بیش میں جہاں دنیا بھر کے بیٹرز چھکے چوکوں کی برسات کر رہے ہیں، وہاں پاکستان کے دو بڑے نام محمد رضوان اور بابر اعظم، اپنی سست بیٹنگ کے باعث تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ رواں سیزن کے اعداد و شمار کے مطابق، دونوں کھلاڑیوں نے لیگ کے سست ترین بیٹرز کی فہرست میں پہلی دو پوزیشنز پر قبضہ جما لیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:برطانوی یوٹیوبر کے ایس آئی شاہ رخ خان سے ملنے کے خواہشمند
بگ بیش کی ٹیموں نے بابر اور رضوان سے جارحانہ آغاز کی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں، لیکن دونوں بیٹرز نے جدید ٹی ۲۰؍ کے تقاضوں کے برعکس روایتی اور حد سے زیادہ محتاط انداز اپنایا، جو ٹیموں کے لیے سودمند ثابت نہ ہو سکا۔محمد رضوان سیزن کے سست ترین بیٹر ثابت ہوئے۔ انہوں نے ۱۰؍ اننگز میں صرف۱۸۷؍ رنز بنائے اور پورے ٹورنامنٹ میں ایک بھی نصف سنچری اسکور کرنے میں ناکام رہے۔ دوسرے نمبر پر موجود بابر اعظم نے ۲؍ نصف سنچریوں کی مدد سے۲۰۱؍ رنز تو بنائے، لیکن ان کا ۱۰۷؍ کا اسٹرائیک ریٹ ٹی ۲۰؍ معیار سے کافی کم رہا۔