Updated: January 22, 2026, 10:10 PM IST
| Riyadh
مسجدِ حرام میں خانۂ کعبہ کے طواف کے دوران ایک جذباتی لمحہ اس وقت سامنے آیا جب اردن سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے ۲۶؍ برس کی خاموشی کے بعد پہلی بار زبان کھولی۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور عقیدت مندوں کے لیے گہرے روحانی تاثر کا باعث بنا ہے۔
دنیا کے مقدس ترین مقام مسجد الحرام میں ایک غیر معمولی اور دل کو چھو لینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں اردن سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے ۲۶؍ سال کی مکمل خاموشی کے بعد پہلی بار گفتگو کی۔ یہ لمحہ اس وقت سامنے آیا جب وہ خانۂ کعبہ کاطواف کر رہا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق نوجوان پیدائشی طور پر یا طویل عرصے سے گویائی سے محروم تھا اور اس نے اپنی زندگی میں کبھی باقاعدہ طور پر بات نہیں کی تھی۔ تاہم طواف کے دوران اچانک اس کے منہ سے واضح الفاظ نکلے، جس پر اس کے ساتھ موجود اہلِ خانہ، دیگر زائرین اور خدام جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ کئی افراد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے جبکہ بعض نے سجدۂ شکر ادا کیا۔ اس واقعے کا ویڈیو مسجدِ حرام میں موجود دیگر زائرین نے ریکارڈ کیا جو بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہو گیا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نوجوان انتہائی سکون اور یکسوئی کے ساتھ طواف کر رہا ہے اور اچانک وہ چند الفاظ ادا کرتا ہے، جس کے فوراً بعد اس کے قریبی لوگ حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ایران کو سخت انتباہ، جوہری پروگرام کی بحالی پر فوجی کارروائی کی دھمکی
خاندان کے مطابق نوجوان برسوں سے مختلف طبی علاج اور تھیراپی کے مراحل سے گزر چکا تھا، مگر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی تھی۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ حج یا عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ آئے تھے اور انہیں اس بات کا قطعی اندازہ نہیں تھا کہ یہاں ان کی زندگی کا سب سے غیر متوقع لمحہ ان کا انتظار کر رہا ہے۔ خاندان نے اس واقعے کو اللہ کی خاص رحمت اور کرم قرار دیا ہے۔ اس واقعہ پر علما اور اسکالرز کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کو سادہ طبی یا سائنسی پیمانوں سے ناپنا بعض اوقات ممکن نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق مسجدِ حرام جیسے مقدس مقام پر عبادت کے دوران پیش آنے والے ایسے لمحات اہلِ ایمان کے لیے ایمان افروز اور روحانی تقویت کا سبب بنتے ہیں۔ علما نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شفا اور تبدیلی اللہ کے اختیار میں ہے اور وہ جسے چاہے، جہاں چاہے، نواز دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:جموں کشمیر کی سمرن بالا یومِ جمہوریہ پریڈ میں مرد دستے کی قیادت کریں گی
دوسری جانب، طبی ماہرین نے عمومی طور پر کہا ہے کہ بعض صورتوں میں شدید جذباتی یا روحانی کیفیت انسان کے اعصابی نظام پر اثر ڈال سکتی ہے، تاہم اس مخصوص واقعے سے متعلق کوئی باضابطہ طبی تشخیص یا رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل معلومات کے بغیر کسی حتمی رائے کا اظہار مناسب نہیں ہوگا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مذہبی اور روحانی مواد سوشل میڈیا پر غیر معمولی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ صارفین کی بڑی تعداد نے اس ویڈیو کو امید، صبر اور یقین کی علامت قرار دیا ہے۔ کئی افراد نے تبصرہ کیا کہ یہ لمحہ انسان کو یہ یاد دلاتا ہے کہ مشکلات چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہوں، تبدیلی کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھئے:فرانس: فلسطینی تھیم والی بچوں کی کتاب ”فرام دی ریور ٹو دی سی“ کےخلاف پولیس نے کتب خانے پر چھاپہ مارا
یہ واقعہ مسجدِ حرام میں عبادت کے دوران پیش آنے والے اُن لمحات میں شامل ہو گیا ہے جو برسوں تک لوگوں کی یادوں میں زندہ رہتے ہیں اور روحانی یقین کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔