رپورٹ کے مطابق، مذکورہ کتاب کی درآمد اور تقسیم کے خلاف ’’منفی رائے‘‘ جاری کرنے والے کمیشن نے دلیل دی کہ یہ کتاب اسرائیلیوں کے خلاف ’’نفرت کو فروغ دے سکتی ہے‘‘ اور بچوں کی اخلاقی نشوونما کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
EPAPER
Updated: January 22, 2026, 2:02 PM IST | Paris
رپورٹ کے مطابق، مذکورہ کتاب کی درآمد اور تقسیم کے خلاف ’’منفی رائے‘‘ جاری کرنے والے کمیشن نے دلیل دی کہ یہ کتاب اسرائیلیوں کے خلاف ’’نفرت کو فروغ دے سکتی ہے‘‘ اور بچوں کی اخلاقی نشوونما کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
فرانسیسی حکام نے فلسطینی تھیم والی، بچوں کیلئے رنگ بھرنے کی سرگرمیوں پر مشتمل ایک کتاب کی تقسیم روکنے اور اس کی کاپیاں ضبط کرنے کیلئے پیرس کے ایک کتب خانے پر چھاپہ مارا۔ اس کارروائی نے ملک میں آزادیِ اظہار اور سینسر شپ کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔
فرانسیسی حکام ’سوشل بینڈٹ میڈیا‘ نامی پبلشر کے ذریعے شائع کی گئی کتاب ’’فرام دی ریور ٹو دی سی: اے کلرنگ بک‘‘ (From the River to the Sea: A Colouring Book) جسے جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے مصنف و مصور ناتھی نگوبانے (Nathi Ngubane) نے تیار ہے، کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ پبلشر کے مطابق یہ کتاب ایک تعلیمی ذریعہ ہے جو بچوں کو فلسطینی تاریخ اور ثقافت جیسے نکبہ، اسرائیلی قبضے اور اس کے خلاف فلسطینی جدوجہد سے روشناس کراتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ بندی کے ۱۰۰؍ دن: امدادی کارروائیوں میں اب بھی اسرائیلی رکاوٹیں: یو این
سوشل بینڈٹ میڈیا نے ایک بیان میں کہا کہ انہیں ۸ جنوری ۲۰۲۶ء کو مطلع کیا گیا کہ فرانس کے ’کمیشن برائے نگرانی و کنٹرول برائے نوجوانوں کی مطبوعات‘ (سی ایس جے پی) نے ۱۶ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو فرانس میں اس کتاب کی درآمد اور تقسیم کے خلاف ’’منفی رائے‘‘ جاری کی تھی۔ تاحال، فرانسیسی وزارتِ داخلہ نے تاحال باضابطہ پابندی کا حکم جاری نہیں کیا ہے، لیکن پبلشر نے الزام لگایا کہ کمیشن کی رائے کو ایک ایسے مجرمانہ طریقہ کار کے آغاز کیلئے استعمال کیا گیا ہے جس کا مقصد عملی طور پر کتاب پر پابندی عائد کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، کمیشن نے دلیل دی کہ یہ کتاب اسرائیلیوں کے خلاف ’’نفرت کو فروغ دے سکتی ہے‘‘ اور بچوں کی اخلاقی نشوونما کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ان الزامات کو پبلشر نے ’’مکمل طور پر بے بنیاد‘‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ پبلشر کا یہ بھی کہنا ہے کہ اکتوبر میں رائے جاری کئے جانے کے وقت انہیں کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: استنبول: اسرائیل سے منسلک برانڈز کے خلاف پہلا ’’فری غزہ مارکیٹ‘‘
کتب خانہ ’وائلٹ اینڈ کمپنی‘ میں پولیس کا چھاپہ
فرانسیسی پولیس نے ۷ جنوری کو مذکورہ کتاب سے متعلق ایک آپریشن کے دوران پیرس کے ایک معروف بک شاپ کیفے ’وائلٹ اینڈ کمپنی‘ (Violette & Co) پر چھاپہ مارا، جس کے بعد یہ تنازع مزید شدت اختیار کرگیا ہے۔ کتب خانے کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ۵ باوردی افسران نے ایک پراسیکیوٹر کے ہمراہ ۴۵ منٹ تک دکان کی تلاشی لی۔ عملے نے بتایا کہ الماریوں کا معائنہ کیا گیا، ڈبے کھولے گئے اور اسٹوریج رومز کو چیک کیا گیا، جبکہ دو افسران (جن میں سے ایک نقاب پوش تھا) داخلی دروازے پر کھڑے رہے اور گاہکوں کو اندر آنے سے روکتے رہے۔
چونکہ کتاب کا اسٹاک ختم ہو چکا تھا، اس لئے کوئی کاپی ضبط نہیں کی گئی، لیکن پراسیکیوٹر نے بک شاپ کو مطلع کیا کہ عملے کو ۲۲ جنوری کو پوچھ تاچھ کیلئے ۱۱ ویں آرونڈیسمنٹ کے پولیس اسٹیشن میں طلب کیا گیا ہے۔ کتب خانے نے اس چھاپے کو فرانس میں بنیادی آزادیوں کیلئے ’’بے مثال اور گہری تشویش کا حامل‘‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ۳۷؍ امدادی اداروں پر پابندی، فلسطین نسل کشی کے متاثرین کی زندگی جہنم: یو این
پبلشر کا سنسر شپ کے خلاف مزاحمت کا عزم، مفت ڈاؤن لوڈ کی پیشکش
سوشل بینڈٹ میڈیا کے مطابق، اس کتاب کی عالمی سطح پر تقریباً ۲۲ ہزار کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ جنوبی افریقہ، امریکہ، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈز، ہندوستان اور پاکستان جیسے ممالک میں اس کتاب کو کافی پسند کیا جا رہا ہے۔ فرانسیسی ایڈیشن کو اب غیر قانونی قرار دیئے جانے کے بعد پبلشر نے اسے مفت ڈاؤن لوڈ کیلئے جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور عطیات کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم پر سینسر شپ کا حربہ کام نہیں کرے گا۔ ہم اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔‘‘