راہل، پرینکا گاندھی،منوج کمار جھا، ڈیریک اوبرائن سمیت کئی لیڈران کو پولیس نے بڑی مشقت کے بعد حراست میں لیا، راہل گاندھی نے اپنے اوپر درج ہر ایف آئی آر کومیڈل قرار دیا، سی ای سی گیانیش کمار اور مودی حکومت دونوں کو اپوزیشن کی وارننگ۔
EPAPER
Updated: October 08, 2026, 10:40 AM IST | Farzan Qureshi | Mumbai
راہل، پرینکا گاندھی،منوج کمار جھا، ڈیریک اوبرائن سمیت کئی لیڈران کو پولیس نے بڑی مشقت کے بعد حراست میں لیا، راہل گاندھی نے اپنے اوپر درج ہر ایف آئی آر کومیڈل قرار دیا، سی ای سی گیانیش کمار اور مودی حکومت دونوں کو اپوزیشن کی وارننگ۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبہ پر بدھ کو انڈیا اتحاد کی جماعتوںنے جنتر منتر کے قریب زبردست احتجاج کیا ۔ تمام جماعتوںنے متحد ہوکر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا جس سے حکومت کی ناک میں دم ہو گیا۔ اس دوران کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی کا ایک نیا انداز دیکھنے کو ملا۔احتجاج کے دوران و ہ آئین کی کتاب کو سینے سے لگائے سڑک پر لیٹ گئیں اور پولیس کو انہیں وہاں سے ہٹانا دشوار ہوگیا تھا۔ بڑی مشقت کے بعد پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ دوسری جانب اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بھی زور دار انداز میں سینہ سپر ہوکر دو ٹوک کہاکہ اب گیانیش کمار کو جانا ہی پڑے گا۔ انہوں نے اپنے اوپر درج کی گئی ایف آئی آر پر کہاکہ ابھی میرے اوپر ۴۵ ؍ ایف آئی آر ہیں اور میرا ہدف ۱۰۰ ؍ ایف آئی آر کا ہے ، ہر ایف آئی آر میرے لئے ایک میڈل ہے۔ احتجاج سے قبل انڈیا اتحاد کے لیڈران کو کناٹ پلیس میں واقع رتنا ساگر ہوٹل میں لنچ کیلئے مدعو کیا گیا تھا۔
اس کے بعد اپوزیشن لیڈروں کا قافلہ جنتر منتر کیلئے آگے بڑھا لیکن پولیس اور نیم فوجی دستوںنے اس قافلہ کو گھیر لیا۔ جب پولیس نے ممبران پارلیمنٹ کو اشوکا روڈ پر روکا تو پرینکا گاندھی کو جس طرح سے روکا گیا اس سے وہ ناراض ہو گئیں اور سڑک پر لیٹ کر دھرنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد پولیس نے راہل گاندھی کو زبردستی جائے وقوع سے ہٹا دیا اور انہیں حراست میں لے لیاپھرپولیس نے پرینکا گاندھی کو بھی حراست میں لے لیا۔ ٹی ایم سی کے ایم پی ڈیرک اوبرائن اور آر جے ڈی کے منوج جھا کو بھی حراست میں لیا گیا۔احتجاج میں اتنی شدت تھی کہ پولیس افسران کے بھی ہاتھ پیر پھول گئے تھے ۔
پرینکا گاندھی نے الزام لگایا کہ پولیس نے مجھے کھینچا گیااور سڑک پر گرادیا جس کی وجہ سے مجھے جگہ جگہ کھروچ آئی ہے ۔ٹی ایم سی لیڈر مہوا موئترا بھی اس احتجاج میں شامل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس یہاں مظاہرین کے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کررہی ہے، وہ ہم سب دیکھ رہے ہیں۔ سی پی آئی رکن پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے کہاکہ ہمیں حراست میںلینے سے گیانیش کمار بچ نہیں پائیں گے، انہیںجانا ہی ہو گا۔تقریباً ساڑھے ۶؍ بجے تمام بڑے لیڈران کو پولیس نے حراست میں لے لیا اور الگ الگ مقامات پر لے گئی ۔
حراست میں لئے جانے کے بعد راہل گاندھی نے ایک مرتبہ پھر کہاکہ گیانیش کمار کے استعفیٰ تک احتجاج جاری رہے گا، مودی اور شاہ ہمیں روک نہیں سکتے۔ یہ لڑائی ملک کی سب سے مقد س چیز کو بچانے کیلئے ہے۔ اس سے قبل انڈیا اتحاد کی جماعتوںنے لنچ کرنے کےبعد بس کے ذریعےجنتر منتر پہنچنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں کچھ قدم دور ہی روک لیا۔ انڈیا اتحاد کے لیڈروں نے بھی وہیںزور دار احتجاجی مظاہرہ شروع کردیا۔ احتجاج سے قبل کانگریس کی جانب سے انڈیا اتحاد میں شامل جماعتوں کو آج ظہرانہ کے لیے ’رتنا ساگر‘ ہوٹل میں موعو کیا گیا ،لیکن اس ظہرانے میں سماج وادی پارٹی کی غیر موجودگی پر سوال بھی اٹھے۔ اس پر صفائی دیتے ہوئے کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے کہاکہ ظہرانے میں انڈیا اتحاد کی تمام جماعتوں کو مدعو کیا گیا تھا چونکہ لنچ کا فیصلہ دیر رات کیا گیا تھا اور سبھی کو اطلاع دی گئی تھی ،اس لئےکچھ جماعتوں کے نمائندے اس میں شامل نہیں ہوسکے۔