خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ،ڈالر کی مضبوطی اور امریکی بانڈس پر ملنےوالے منافع میں اضافہ نے سرمایہ کاروں کے خطرہ مول لینے کے رجحان کو متاثر کیا، ستمبر کے پہلے ہی ۲؍ ہفتوں میں بڑے پیمانے پر اپنا سرمایہ نکال لیا۔
EPAPER
Updated: September 14, 2026, 12:57 PM IST | Agency | Mumbai
خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ،ڈالر کی مضبوطی اور امریکی بانڈس پر ملنےوالے منافع میں اضافہ نے سرمایہ کاروں کے خطرہ مول لینے کے رجحان کو متاثر کیا، ستمبر کے پہلے ہی ۲؍ ہفتوں میں بڑے پیمانے پر اپنا سرمایہ نکال لیا۔
جولائی اوراگست کی خریداری کے بعد غیر ملکی سرمایہ کاروں (فارین پورٹ فولیو انویسٹرس) نے ستمبر میں پھر اپنا سرمایہ نکالنا شروع کردیا ہے۔عالمی سطح پر بڑھتی غیر یقینی،خام تیل کی قیمتوں میں اضافے، امریکی بانڈز سے ملنےوالے منافع میں اضافہ اورڈالر کی مضبوطی نے سرمایہ کاروں کے خطرہ مول لینے کے رجحان کو متاثر کیا ہے، ستمبر کے پہلے دو ہفتوں میں ہی(۱۱؍ستمبر تک ) انہوں نے ہندوستانی شیئر بازار سے ۱۳؍ ہزار ۱۳۸؍ کروڑ روپے نکال لئے ہیں۔
سینٹرل ڈپازیٹری سروسیز (انڈیا) لمیٹڈ (سی ڈی ایس ایل) کے اعداد و شمار کے مطابق، غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کار جولائی اور اگست میں خالص خریدار رہے ۔انہوں نے جولائی میں۲۰؍ ہزر ۲۰۰؍کروڑ روپے اور اگست میں۲۹؍ہزار ۶۳۰؍ کروڑ روپے ہندوستانی بازار میں لگائے ۔ اسے مثبت رجحان کے طور پر دیکھا گیا کیوں کہ اس سے قبل مارچ سے جون تک مسلسل ۴؍ماہ غیر ملکی سرمایہ کار خالص فروخت کنندہ رہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان دنیا کا چوتھا سب سے بڑا فوریکس ہولڈر بن گیا
غیر ملکی سرمایہ کی تازہ نکاسی کے بعد۲۰۲۶ءمیں اب تک ہندوستانی شیئر بازار سے ۲ء۳۷؍لاکھ کروڑ روپے نکالے جاچکے ہیںجو پورے ۲۰۲۵ء میں نکالی گئی۱ء۶۶؍ لاکھ کروڑ روپے کی رقم سے بھی زیادہ ہے۔سرمایہ کاری پلیٹ فارم ’ٹریک‘ کے شریک بانی اور سی ای او ویدانت گپتے نے بتایاکہ ستمبر میں ہونے والی فروخت کی بنیادی وجہ ہندوستانی معیشت کے حالات نہیں ہیں بلکہ عالمی عوامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ’’ستمبر کی فروخت ڈالر اور خام تیل کی وجہ ہے۔جب امریکی بانڈز سے حاصل ہونےوالی رقم بڑھتی ہے اور تیل مہنگا ہوتا ہے تو ابھرتی ہوئے بازاروں سے سرمایہ سے نکل جاتا ہے۔‘‘
بجاج بروکنگ کے ڈپٹی نائب صدر برائے تحقیق پبترو مکھرجی کا کہنا ہے کہ ’’بانڈز کی بڑھتی آمدنی کے ساتھ ہی آئندہ ہفتے امریکی فیڈرل ریزرو کی ایف او ایم سی میں شرح سود میں اضافہ کے قوی اندیشوں نے بھی سرمایہ کاروں کے جذبات کو متاثر کیا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’ایف پی آئی کی سرمایہ کاری پر آگے چل کر ایران -امریکہ تنازع اور اس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں پر پڑنے والے اثرات اور نمایاں ہوںگے۔‘‘