ڈالر پرانحصار کم کرنے کیلئے باہمی تجارت میں مقامی کرنسیوں کے استعمال پر زور دیا گیا۔ پوتن نے نئے انشورنس نظام اور اناج کی۔ منڈی کیلئےمشترکہ منصوبہ کی تجویز پیش کی۔ نیو ڈیولپمنٹ بینک کو مضبوط کرنے کا مشورہ، دیگر مالی اداروں پر اصلاحات کی مانگ سپلائی چین ، اے آئی، تکنالوجی اور مشترکہ مارکیٹ کو مضبوط بنانے کا مشورہ۔
برکس ممالک کے سربراہان مملکت کی جانب سے پیش کی جانےوالی تجاویز امریکی اور یورپی بالادستی کو چیلنج کرنے کی کوشش ہے۔ تصویر: ایجنسی
دہلی میں منعقدہ برکس سربراہی اجلاس اتوار کو اپنی تکمیل کو پہنچا مگر اس میں اہم ممالک کے ذریعہ پیش کی گئی تجاویز میں ایک نئے اور متبادل عالمی معاشی نظام کی خواہش اور اس کی باز گشت واضح طو رپر سنائی دی۔ ایک طرف جہاں ڈالر پر انحصار کو کم کرنے کیلئے باہمی تجارت میں مقامی کرنسی کے استعمال کی وکالت کی گئی وہیں روسی صدر پوتن نے نئے انشورنس نظام اور اناج کی منڈیوں کیلئے مشترکہ تجویز پیش کی۔ برکس ممالک کا قائم کردہ ’’نیو ڈیولپمنٹ بینک‘‘کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے اور مضبوط بنانے کی وکالت کی گئی ساتھ ہی ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے موجودہ مالیاتی اداروں میں برکس ممالک کی نمائندگی میں اضافہ پر زور دیاگیا۔اس کےسا تھ ہی چینی صدر شی جنگ پنگ نے برکس ممالک کے درمیان صنعتی تعاون، سپلائی چین کے استحکام، مصنوعی ذہانت، تکنالوجی اور مشترکہ مارکیٹ کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھئے: مسک نے بغیر اسٹیئرنگ وہیل اور پیڈلز والی ٹیسلا سائبرکیب لانچ کردی
متبادل انشورنس نظام کی اہمیت
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اتوار کو برکس ممالک کے درمیان ایک نئے انشورنس نظام اور اناج کی منڈی کیلئے مشترکہ منصوبے کی جو تجویز پیش کی ہے وہ واضح طو رپر امریکی قیادت والے مالی نظام کے مدمقابل نظام کھڑا کرنے کی کوشش ہے۔انہوں نےبرکس کے رکن ممالک اور گلوبل ساؤتھ کے ممالک میں معاشی ترقی کیلئے یہ نئی تجاویز ایسے وقت میں پیش کیں جب یوکرین کے خلاف جنگ کے باعث مغربی طاقتوں نے ماسکو پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ جی سیون ممالک، یورپی یونین اور برطانیہ نے مغربی کمپنیوں کو روسی خام تیل لے جانے والے ایسے جہازوں کا بیمہ کرنے سے روک دیا ہے، جن میں تیل مقررہ قیمت یا اس سے کم پر نہ خریدا گیا ہو۔پوتن نے کہا کہ ’’ہمارے پاس سرمایہ، افرادی قوت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کیلئے آزاد راستے موجود ہیں۔ ہم بیرونی دباؤ کے باوجود کام کرسکتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: برکس کی باہمی تجارت ۲ء۱؍ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی، مزید اقتصادی انضمام کی ضرورت: پوتن
مستقبل کیلئے تجاویز اور متبادل عالمی بینک
انہوں نے کہاکہ’’آگے بڑھنے کیلئےہمارے پاس کچھ امید افزا اقدامات ہیں، جیسے انشورنس نظام اور اناج کی منڈی کا قیام۔ یہ روس کی تجاویز ہیں اور ہم تمام رکن ممالک کو ان سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہیں۔‘‘تاہم انہوں نے ان تجاویز کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔پوتن نے نیو ڈیولپمنٹ بینک کے کام کی بھی تعریف کی اور کہا کہ یہ بینک ۱۴۰؍ ارب ڈالر مالیت کے منصوبوں پر کام کررہا ہے۔نیو ڈیولپمنٹ بینک برکس ممالک کا قائم کردہ کثیر ملکی ترقیاتی بینک ہے۔روسی صدر نے کہاکہ’’جب عالمی چیلنجز مسلسل سامنے آتے رہیں تو ہمیں ان کی علامات کے ساتھ ساتھ بنیادی وجوہات سے نمٹنے کیلئے بھی جامع طریقۂ کار اختیار کرنا چاہیے۔‘‘
’ نئی دہلی اعلامیہ ‘ میں بھی واضح اشارے
نئی دہلی اعلامیہ میں بھی برکس کیلئے خود کفیل انشورنس نظام پر غور کا ذکر ہے۔ اسی طرح اعلامیہ میں برکس گرین ایکسچینج، غذائی تحفظ اور سپلائی میں رکاوٹوں سے نمٹنے کیلئے تعاون کی حمایت کی گئی ہے۔ شی جن پنگ نے برکس کے درمیان صنعتی تعاون، سپلائی چین کے استحکام، مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ مارکیٹ کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ مودی نے بھی تکنالوجی اور اہم معدنیات کو ہتھیار بنانے کے خلاف خبردار کیا اور گلوبل ساؤتھ کیلئے تکنالوجی تک زیادہ رسائی کی بات کی۔