دوستی کے رشتے کو شراب کی پارٹی میں ہونے والے معمولی تنازع نے اس قدر خونیں انجام تک پہنچا دیا کہ ایک دوست نے اپنے ہی ساتھی کی جان لے لی۔
EPAPER
Updated: November 04, 2026, 12:07 PM IST | Ejaz Abdul Ghani | Dombivli
دوستی کے رشتے کو شراب کی پارٹی میں ہونے والے معمولی تنازع نے اس قدر خونیں انجام تک پہنچا دیا کہ ایک دوست نے اپنے ہی ساتھی کی جان لے لی۔
دوستی کے رشتے کو شراب کی پارٹی میں ہونے والے معمولی تنازع نے اس قدر خونیں انجام تک پہنچا دیا کہ ایک دوست نے اپنے ہی ساتھی کی جان لے لی۔ قتل کے بعد واردات کو چھپانے اور لاش کو ٹھکانے لگانے کے لئے مکان مالک کی مدد حاصل کی گئی اور دونوں نے لاش کو بوری میں بند کرکے کھاڑی کے قریب ایک سنسان مقام پر پھینک دیا لیکن جرم کے تقریباً ۲۰ روز بعد مقتول دوست کے مسلسل خواب میں آنے اور ضمیر کی ملامت نے ملزم کو اس قدر بے چین کردیا کہ بالآخر وہ خود ہی پولیس کے سامنے حاضر ہوگیا اور اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی میں ایف ڈی اے کی کارروائی،۴۲ء۱۲؍ کروڑ کا غذائی اشیاء ضبط
پولیس سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پربھو کرکڑے اور وشال کدم کے درمیان شراب نوشی کے دوران کسی بات پر جھگڑا ہوگیا۔تنازع بڑھنے پر پربھو نے وشال پر لاتوں اور گھونسوں سے شدید حملہ کردیا جس کے نتیجے میں وشال کی موت واقع ہوگئی۔اچانک پیش آنے والی اس واردات کے بعد پربھو نے اپنے مکان مالک سندیش مہاتر ے کی مدد سے لاش کو بوری میں بند کیا اور اسے ایک ویران مقام پر کھاڑی کے قریب پھینک کر شواہد مٹانے کی کوشش کی۔واردات کے بعد تقریباً ۲۰ ؍روز تک ملزم پربھو ذہنی کرب میں مبتلا رہا۔ بتایا جاتا ہے کہ مقتول وشال مسلسل اس کے خواب میں آتا تھا جس کے باعث وہ خوف اور پشیمانی کا شکار ہوگیا۔بالآخر اپنے ضمیر کی آواز پر اس نے خود تھانے کرائم برانچ کے سینٹرل یونٹ میں حاضر ہوکر قتل کی واردات کا اعتراف کرلیا۔اس سلسلے میں وشنو نگر پولیس نے قتل کے الزام میں پربھو کرکڑے اور لاش کو ٹھکانے لگانے میں مدد کرنے کے الزام میں مکان مالک سندیش مہاتر ے کو گرفتار کرلیا ہے۔ دونوں ملزمین کو کلیان کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں چار روز پولیس تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔وشنو نگر پولیس اسٹیشن کے سینئر پولیس انسپکٹر رام چوپڑے نے بتایا کہ دونوں ملزمین کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔