Inquilab Logo

کلیان کے فعال اور متحرک سماجی کارکن افضل فقیرا شیخ ٹرین حادثہ میں جاں بحق

Updated: July 10, 2024, 10:34 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

پیر کی شب تقریباً ۹؍ بجے ممبئی-امراوتی ایکسپریس پکڑنے کے دوران افضل شیخ کا توازن بگڑ گیا اور وہ پلیٹ فارم اور ٹرین کے درمیانی حصہ میں آگئے، وہ واشی انٹرویو کیلئے گئے تھے۔

The funeral procession scene of Afzal Faqira Sheikh (inset). Photo: INN
افضل فقیرا شیخ (انسیٹ) کے جلوس جنازہ کا منظر۔ تصویر: انقلاب

انتہائی فعال اور متحرک شخصیت کےمالک افضل فقیرا شیخ(۴۵) ایک ٹرین حادثہ میں جاں بحق ہوگئے۔تھانے گورنمنٹ ریلوے پولیس (جی آر پی) کے مطابق پیر کی شب تقریباً ۹؍ بجے ممبئی-امراوتی ایکسپریس پکڑنے کے دوران  افضل شیخ کا توازن بگڑ گیا اور وہ پلیٹ فارم اور ٹرین کے درمیانی حصہ میں آگئے۔زخمی حالت میں انہیں کلوا کے چھترپتی شیواجی اسپتال لے جایا گیا جہاں دوران علاج ان کی موت واقع ہوگئی۔حادثہ کی خبر کے بعد متوفی کے گھر کہرام مچا ہوا ہے دوسری جانب شہر کی مختلف سماجی اور فلاحی تنظیموں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
 کلیان مغرب کے دودھ ناکہ میں واقع وہانگ بلڈنگ کے تیسرے فلور پر رہنے والے  افضل فقیرا شیخ پیر کے روز انٹرویو دینے کیلئے واشی گئے تھے۔شام ساڑھے ۷ بجے کے آس پاس انہوں نے واشی سے تھانے لوکل پکڑی اور تھانے ریلوے اسٹیشن پہنچے۔چونکہ موسلادھار بارش کی وجہ سے لوکل ٹرینیں کافی تاخیر سے چل رہی تھی اس لئے انہوں نے تھانے سے امراوتی ایکسپریس پکڑنے کا فیصلہ کیا۔تاہم بدقسمتی سے چلتی ایکسپریس کو پکڑنے کے دوران افضل شیخ کا توازن بگڑ گیا اور وہ ٹرین کی زد میں آگئے۔ تھانے جی آر پی کے اہلکاروں نے انہیں زخمی حالت میں کلوا کے سرکاری چھترپتی شیواجی مہاراج اسپتال پہنچایا۔ اس وقت افضل شیخ کی سانسیں چل رہی تھیں لیکن دوران علاج ان کا انتقال ہوگیا۔ 
 جلگاؤں ضلع کے پالدھی سے تعلق رکھنے والے افضل شیخ انتہائی ملنسار اور مخلص شخصیت کےمالک تھے۔ اس بارے میں متوفی کے بھائی پرویز شیخ نے بتایا کہ افضل کے تین بچے ہیں۔ بڑا لڑکا ایم پی ایس سی کی تیاری کررہا ہے جبکہ منجھلی بیٹی نے فارمیسی کی ہے اور سب سے چھوٹی بیٹی نے حال ہی میں بارہویں کا امتحان پاس کیا ہے۔ مرہم ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی کے نائب صدر اعجاز شیخ نے بتایا کہ افضل شیخ کے سماجی اور فلاحی کاموں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وحدت اسلامی، آئی وائی ایف کے علاوہ شہر کی کئی سماجی اور فلاحی تنظیموں سے وابستہ تھے۔ برداران وطن میں دعوتِ دین ان کا اہم ترین کام تھا علاوہ ازیں قحط زدہ علاقوں مثلا لاتور، پرلی ،عثمان آباد، پربھنی وغیرہ میں انہوں نے بورویل کی کھدائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ متوفی  کے پڑوسی سعود بیگ مرزا نے بتایا کہ افضل جیلوں میں بند مسلم نوجوانوں کی رہائی اور ان کے اہل خانہ کی دستگیری میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ مسلم طلبہ کیلئے اسکالر شپ میں رہنمائی کیمپ بھی منعقد کرواتے تھے۔ منگل کو دودھ ناکہ جامع مسجد میں عصر میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اورتکیہ قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ جلو س جنازہ میں کم وبیش ۲؍ ہزار افراد شریک تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK