Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان کیا گیا مکہ معاہدہ کس کے خلاف ہے ؟

Updated: August 25, 2026, 1:40 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ہندوستان کے بعض ماہرین اس پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں تو بعض اسے ایران مخالف قرار دے رہے ہیں۔

There is speculation that Egypt will also join this alliance in the future. Picture: INN
اس اتحاد میں آئندہ مصر کےبھی شامل ہونے کی قیاس آرائیاں ہیں۔ تصویر: آئی این این

گزشتہ دنوں ۳؍ اہم مسلم ممالک سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے آپس میں ایک معاہدہ کیا جس کی رو  سے ان تینوں میں سے کسی ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یعنی کسی بھی ایک ملک پر حملے کی صورت میں باقی ۲؍ ممالک کو اس کی مدد کرنی ہوگی۔ عالمی سطح پر اس معاہدہ کا کیا اثر ہوگا یہ وقت بتائے گا لیکن فی الحال ہندوستان میں اس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔  معاہدے کی خبر آنے کے بعد ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’تین ممالک کے مابین ہونے والے معاہدے کی پیش رفت کو ہم قریب سے دیکھ رہے ہیں اور ہم اس پر آپ کو آگاہ رکھیں گے۔‘ اس معاہدے کے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر پڑنے والے اثرات پرتو بات ہو ہی رہی ہے لیکن اس کے ہندوستان پر ہونے والے اثرات سب سے زیادہ زیر بحث ہیں کیونکہ  ہندوستان اور پاکستان نہ صرف پڑوسی ممالک ہیں بلکہ دونوں کے تعلقات میں کشیدگی کی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان ممالک میں پاکستان ہی نیوکلیئر پاور ہے۔ جبکہ سعودی عرب سب سے دولت مند ہے۔ ترکی کا اثر کتنا ہے یہ تو وقت بتائے گا لیکن حال ہی میں ڈونالڈ ٹرمپ نے رجب طیب اردگان کی تعریف کی ہے اور ترکی کو اپنا دوست بتایا ہے۔ یعنی ترکی سفارتی معاملات میں خاصہ تیز ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: میرا روڈ میں مراٹھی زبان پر تنازع۔ ایم این ایس کی مداخلت

سعودی عرب ہندوستان کا دوست ہے جبکہ ترکی ایران کا ، جبکہ پاکستان کی سعودی، ایران اور ترکی تینوں ہی سے دوستی ہے جبکہ ایران کی سعودی عرب کے ساتھ پرانی چپقلش ہے۔ شاید اسی بنیاد پر اسرائیلی پوڈ کاسٹر اور وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے بیٹے یائر نیتن یاہو نے اس معاہدے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’تو اگلی بار جب ایران، حوثی یا عراق میں موجود ملیشیا سعودی عرب پر حملہ کریں گی تو کیا ترکی اور پاکستان ایران، عراق اور یمن پر حملہ کریں گے؟ جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ ہو گی تو کیا ترکی اور سعودی عرب ہندوستان پر حملہ کریں گے؟‘ 

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی : میونسپل اسکولوں کا تعلیمی معیار بہترکرنے کیلئے انتظامیہ متحرک

کہا جاتا ہےکہ’آپریشن سیندور‘ کے دوران پاکستان کو چین اور ترکی سے مدد ملی تھی۔ پاکستان نے وہ جنگ اپنی فوج اور دیگر ممالک کے دفاعی سازوسامان کے بل بوتے پر لڑی۔ایسی صورت میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ دفاعی معاہدہ پاکستان کی صلاحیت میں کیا اضافہ کر سکتا ہے؟ پاکستان کے پاس جوہری صلاحیت موجود ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کی جوہری پالیسی صرف ہندوستان پر مرکوز ہے۔ اس لئےمکہ میں ہونے والا کوئی بھی معاہدہ اس صورتحال کو تبدیل نہیں کرتا۔یہ معاہدہ جس چیز کو مستقل شکل دیتا ہے وہ مختلف ممالک کی طرف سے ملنے والی وہ حمایت ہے جس نے ’آپریشن سیندور‘ کے دوران یہ طے کرنے میں کردار ادا کیا کہ پاکستان کو فوجی مدد کس طرح ملی اور بین الاقوامی سطح پر اس کے مؤقف کو کس انداز میں پیش کیا گیا۔ 

سعودی عرب سے تعلقات پر اثر

 ہندوستان اور  پاکستان کی کشیدگی کے درمیان سعودی عرب کے ہندوستان کے ساتھ معاشی تعلقات کی آزمائش ہوگی۔ ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان ۴۳؍ ارب ڈالر کی دوطرفہ تجارت ہے۔سعودی عرب نے ہندوستان میں توانائی، ریفائننگ، پیٹروکیمیکل اور انفراسٹرکچر میں ۱۰۰؍ ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے۔ہندوستان کے مغربی ساحل پر بڑے ڈاؤن اسٹریم منصوبوں میں سعودی آرامکو بھی شریک ہے۔سعودی عرب میں ۲۵؍ لاکھ سے زیادہ ہندوستانی برسرروزگار ہیں جو کروڑوں ڈالر کما کر وطن بھیجتے ہیں۔سعودی کا خام تیل ہندوستانی توانائی درآمدات کا ایک اہم حصہ ہے۔ ہندوستان میں کئی برسوں سے ان اعداد و شمار کو سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی گہرائی کے ثبوت کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: لازمی مراٹھی کیخلاف رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کا احتجاج

ہندوستان پر کیا اثر پڑے گا؟

جس سعودی عرب کے پاس ان تمام معاشی اور سفارتی وسائل کی طاقت ہے، اس نے اب معاہدے کے ذریعے ۱۱؍ ماہ کے اندر دو مرتبہ اپنی سلامتی کو پاکستان کی سلامتی سے جوڑ دیا ہے۔ حالانکہ بعض ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ  اسے ابھی مسلم نیٹو کہنا قبل از وقت ہو گا، لیکن اس معاہدے سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میںمختلف ممالک میںایک علاقائی سلامتی نظام تشکیل دینے کی خواہش موجود ہے۔ ہندوستان میں بھی اس پر تبصرے جاری ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے مستقبل میں ہند ۔ پاک تنازع کے دوران کشیدگی بڑھنے سے روکنے کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو سکتی ہیں۔’اگر مستقبل میں ہندوستان آپریشن سیندور جیسی کوئی کارروائی کرتا ہے تو اسلام آباد اسے جنگی کارروائی قرار دے سکتا ہے اور معاہدے کی اجتماعی دفاعی شقوں کو نافذ کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔‘ حالانکہ کئی ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ کے مقامی تنازعات کے پس منظر میں  کیا گیا ہے ہندوستان یا کسی اور ملک کے خلاف نہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK