ڈیرہ سچا سودا کا سربراہ اور دو خاتون عقیدت مندوں سے عصمت دری کے معاملے میں ۲۰؍ سال کی سزا کاٹ رہے گُرمیت رام رحیم سنگھ کو ۲۱؍ دن کی فرلو مل گئی ہے۔ وہ روہتک کی سناریا جیل سے نکل کر سِرسا میں واقع ڈیرہ کے ہیڈکوارٹر میں رہے گا۔
EPAPER
Updated: August 25, 2026, 2:10 PM IST | Chandigarh
ڈیرہ سچا سودا کا سربراہ اور دو خاتون عقیدت مندوں سے عصمت دری کے معاملے میں ۲۰؍ سال کی سزا کاٹ رہے گُرمیت رام رحیم سنگھ کو ۲۱؍ دن کی فرلو مل گئی ہے۔ وہ روہتک کی سناریا جیل سے نکل کر سِرسا میں واقع ڈیرہ کے ہیڈکوارٹر میں رہے گا۔
ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گُرمیت رام رحیم سنگھ کو ہریانہ کی روہتک واقع سناریا جیل سے مزید ۲۱؍ دن کی فرلو دے دی گئی ہے۔ منگل کی صبح جیل سے باہر آنے کے بعد وہ سِرسا میں واقع ڈیرہ سچا سودا کے ہیڈکوارٹر جائے گا۔ یہ ۲۰۱۷ء میں سزا سنائے جانے کے بعد اس کی ۱۷؍ ویں عارضی رہائی ہے۔گرمیت سنگھ دو خاتون عقیدت مندوں سے عصمت دری کے جرم میں ۲۰؍ سال قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ خصوصی سی بی آئی عدالت نے ۲۰۱۷ء میں اسے دو معاملات میں سزا سنائی تھی، جس کے تحت دونوں سزائیں ۱۰۔۱۰؍ سال کی مسلسل جاری رہیں گی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ظہران ممدانی کوئی اینٹی نیشنل نہیں کہ میں ان سے مل نہیں سکتا‘‘
موجودہ فرلو اس کی رواں سال جیل سے تیسری رہائی ہے۔ جنوری میں اسے ۴۰؍ دن کی پیرول دی گئی تھی، جبکہ مئی میں ۳۰؍ دن کی پیرول پر وہ جیل سے باہر آیا تھا اور ۲۶؍ جون کو مدت مکمل ہونے پر سناریا جیل واپس پہنچا تھا۔ گرمیت سنگھ کی عارضی رہائیوں کا سلسلہ گزشتہ برسوں میں بھی جاری رہا ہے۔ ۲۰۲۵ء میں اسے جنوری میں ۳۰؍ دن کی پیرول، اپریل میں ۲۱؍ دن کی فرلو اور اگست میں ۴۰؍ دن کی پیرول ملی تھی۔ اکتوبر ۲۰۲۴ء میں اسے ہریانہ اسمبلی انتخابات سے چند روز قبل ۲۰؍ دن کی پیرول دی گئی تھی۔ اس کی بار بار ہونے والی عارضی رہائی سیاسی اور سماجی سطح پر توجہ کا باعث بنتی رہی ہے، خصوصاً ان مواقع پر جب رہائی انتخابات کے آس پاس ہوئی۔ تاہم موجودہ ۲۱؍ روزہ فرلو کے معاملے میں کسی انتخابی سرگرمی یا سیاسی مقصد کی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے؛ اس لیے اسے کسی انتخاب سے جوڑنا قبل از وقت ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:’چڑھاوا چوری‘ کے بعد اب اُترپردیش میں ۵؍سرکاری اسکولوں کے ’چوری‘ ہو جانے کاالزام
یاد رہے کہ گرمیت کو صحافی رام چندر چھترپتی کے قتل کے معاملے میں بھی سزا سنائی گئی تھی، تاہم مارچ ۲۰۲۶ء میں پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے اس مقدمے میں بری کردیا۔