Inquilab Logo Happiest Places to Work

کانگو : ایبولا کے متاثرین ساڑھے۵۰۰؍ سے متجاوز، پوپ لیو کا عالمی اقدامات پر زور

Updated: August 25, 2026, 2:15 PM IST | Agency | Kinshasa

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اتوار کو ایتوری اور شمالی کیوؤ صوبوں میں مزید۵۱؍ نئے کیس سامنے آئے، پوپ کا اظہار تشویش، متاثرین کیلئے دعا کی۔

Ebola screening is also underway in the markets of the DR Congo. Picture: INN
ڈی آر کانگو میں بازاروں میں بھی ایبولا کی تشخیص کا عمل جاری ہے۔ تصویر: آئی این این

جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا کی وبا شدت اختیار کر گئی ہے اور تصدیق شدہ معاملات کی تعداد۵۵۱۵؍ جبکہ ہلاکتیں۲۶۴۲؍تک پہنچ گئی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اتوار کو ایتوری اور شمالی کیوو صوبوں میں مزید۵۱؍ نئے کیس سامنے آئے۔یہ وبا ڈی آر کانگو کی تاریخ کی سب سے مہلک ایبولا وبا بن چکی ہے۔ اسی دوران پوپ لیو نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وبا پر قابو پانے اور انسانی جانیں بچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے مریضوں کی حالت پرتشویش کا اظہار کی اور ان کیلئے خصوصی دعا بھی کی۔

یہ بھی پڑھئے: گُرمیت سنگھ کو ۲۱؍ دن کی فرلو، جیل سے ۱۷؍ ویں مرتبہ عارضی رہائی

مئی کے وسط میں شروع ہونے والی یہ ڈی آر کانگو کی۱۷؍ویں ایبولا وبا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اسے بین الاقوامی تشویش کی حامل صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے  جس میں پڑوسی ملک یوگنڈا بھی شامل ہے۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق معاملات میں اموات کی شرح جون کے آغاز میں تقریباً۲۰؍ فیصد تھی جو اب بڑھ کر تقریباً۴۸؍فیصد ہوگئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایبولا سے متاثر ہونے والے تقریباً  ہر دو افراد میں سے ایک جان سے جا رہا ہے۔تاہم متاثرہ افراد سے رابطوں کا سراغ لگانے کی شرح میں نمایاں بہتری آئی ہے اور یہ جون میں۳۰؍ فیصد سے بڑھ کر اب۸۵؍ فیصد سے زیادہ ہوگئی ہے۔وبا پر قابو پانے کی کوششوں کو متاثرہ علاقوں میں مسلح تنازع، بڑے پیمانے پر نقل مکانی، طبی عملے اور مراکز پر حملوں، نقل و حرکت کرنے والی آبادی اور بنیادی ڈھانچے کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔عالمی ادارۂ صحت کے مطابق تقریباً۱۶۰؍ طبی کارکن ایبولا سے متاثر ہوچکے ہیں جن میں سے تقریباً۴۵؍ ہلاک ہوگئے ہیں۔اس وبا کا سبب بننے والے ایبولا وائرس کی قسم بنڈی بگیوہے جو ماضی میں پھیلنے والی ایبولا کی زیادہ تر اقسام کے مقابلے میں کم عام ہے۔ اس مخصوص قسم کے لیے فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں۔تاہم ڈبلیو ایچ او نے ایبولا کے لیے منظور شدہ ایرویبو( Ervebo )ویکسین کی۷۰؍ ہزار خوراکیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ابتدائی تجربات سے اشارہ ملا ہے کہ یہ ویکسین بنڈی بگیو وائرس سے کچھ تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK