کانگریس نے اراکین پارلیمان کی مبینہ خریدوفروخت کو پارلیمانی حد بندی بل کی ناکامی کا جواب قراردیا، کہا: کچھ بھی کریں کامیاب نہیں ہونگے۔
EPAPER
Updated: June 18, 2026, 10:15 AM IST | New Delhi
کانگریس نے اراکین پارلیمان کی مبینہ خریدوفروخت کو پارلیمانی حد بندی بل کی ناکامی کا جواب قراردیا، کہا: کچھ بھی کریں کامیاب نہیں ہونگے۔
پہلے ٹی ایم سی اور اب شیوسینا (اُدھو) کے اراکین پارلیمان کی بغاوت اور سنجے راؤت کے اس دعویٰ کے بعد کہ ہر ایم پی کو ۵۰؍ کروڑ روپے دیئے جارہے ہیں، بدھ کو کانگریس نے اپوزیشن میں اس توڑ پھوڑ کیلئے براہ راست وزیر داخلہ امیت شاہ کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ امیت شاہ خواتین ریزرویشن کی آڑ میں لائے گئے پارلیمانی ریزرویشن کو پاس کرانے میں اپنی ناکامی کے انتقام کے طور پر اپوزیشن پر حملے اور جمہوریت کو تباہ کررہے ہیں۔ انہوں نے اس کے ساتھ ہی حکمراں محاذ کو للکارا کہ اس کے باوجود وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوںگے۔ واضح رہےکہ اراکین پارلیمان کی موجودہ دل بدلی کو اس طرح دیکھا جارہاہے کہ حکومت ایک بار پھر کچھ ترمیم کے ساتھ پارلیمانی حد بندی بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنےوالی ہے اور اس سے قبل وہ اپنے نمبر بڑھانے کی کوشش کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ملک میں آمریت تھوپنے کی کوشش ہو رہی ہے‘‘
کانگریس کے جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے’ایکس‘ پر کئے گئے پوسٹ میں کہا کہ’’ امیت شاہ پارلیمنٹ میں حد بندی بل کے سلسلے میں رواں سال پیش آنے والی سیاسی ناکامی کے بعد اپوزیشن کے خلاف مسلسل مہم چلا رہے ہیں۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو کمزور کرنے اور ہندوستانی جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی یہ کوششیں اسی پس منظر کا حصہ ہیں۔‘‘جئے رام نے الزام لگایا کہ’’ دو سال قبل مضبوط بی جے پی مخالف ایجنڈے پر منتخب ہونے والے کئی لیڈروں کو مختلف قسم کی لالچ دے کر حکمراں جماعت کی طرف لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘ انہوں نے فکرمندی ظاہر کرتے ہوئےکہا کہ منتخب نمائندوں کو کی جانے والی پیشکش حیران کن حد تک بڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ ایک ایسی منظم مہم چلا رہے ہیںجس میں میوچول فنڈ کی طرح مختلف افراد کی ضرورت کے مطابق الگ الگ ’’اسکیمیں‘‘اور ’’پروڈکٹس‘‘ پیش کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ اس کیلئے اخلاقی حدود کو بھی بالائے طاق رکھ دیا گیاہے۔ تاہم انہوں نے پراعتماد انداز میں کہا کہ ’’ اس کے باوجود امیت شاہ اپنے حتمی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔‘‘ اس سے قبل سنجے راوت نے ایکس پر پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ مہاراشٹر کے ارکان پارلیمان کو خریدنے کیلئے ۱۵؍ کر وڑ روپے کی پیشگی رقم دینے کی اطلاعات ہیں ۔ انہوں نے اسے چونکا دینے والا اور شرمناک قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: وزیر تعلیم کے استعفے کے بعد وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کیا جائے گا
راجا بھاؤ نے۵۰؍ کروڑ اور وزارت ٹھکرا دی
ممبئی: ’’آپریشن ٹائیگر‘‘ کو بے نقاب کرتے ہوئے ناسک سے رکن پارلیمان راجابھاؤ واجے نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ۵۰؍ کروڑ روپے کی پیشکش کو مسترد کر دیا اور ادھو ٹھاکرے کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ٹی وی-۹؍ مراٹھی سے گفتگو میں راجابھاؤ واجے نے کہا کہ ان کیلئے اقتدار یا دولت سے زیادہ اہمیت پارٹی اور ادھو ٹھاکرے کی قیادت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی قیمت پر شیوسینا (اُدھو) کو نہیں چھوڑیں گے اور اگر کبھی پارٹی چھوڑنی پڑی تو سیاست سے بھی کنارہ کش ہو جائیں گے۔ واجے نے بتایا کہ انہیں ۵۰؍کروڑ اور وزارت کی پیشکش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اسے مسترد کر دیا۔ ان کے مطابق عوام نے انہیں شیوسینا کے نظریات اور ادھو ٹھاکرے پر اعتماد کرتے ہوئے منتخب کیا ہے، اس لیے وہ اس مینڈیٹ سے غداری نہیں کر سکتے۔راجابھاؤ نے کہا کہ اگر وہ تریتا یوگ میں ہوتے تو ہنومان کی طرح اپنا سینہ چیر کر وفاداری دکھا دیتے، لیکن موجودہ دور میں صرف اپنے الفاظ کے ذریعے یقین دلا سکتے ہیں کہ وہ ادھو ٹھاکرے کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔