ملزم کو بچانے کی کوشش پر عدالت نے سخت برہمی کااظہارکیا، تمام مقدمات چھین کر سی بی آئی کو سونپ دینے کا امکان بھی ظاہر کیا۔
EPAPER
Updated: October 01, 2026, 10:44 AM IST | Agency | New Delhi
ملزم کو بچانے کی کوشش پر عدالت نے سخت برہمی کااظہارکیا، تمام مقدمات چھین کر سی بی آئی کو سونپ دینے کا امکان بھی ظاہر کیا۔
یکے بعد دیگرے عدالتوں کی پھٹکا کی شکار یوپی پولیس پرسپریم کورٹ نے بدھ کو غیر معمولی ۔ کورٹ نے کہا کہ ’’آپ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی ایجنڈا نظر آتا ہے۔ اگر آپ اسی طرح معاملات آگے بڑھائیں گے تو لوگ آپ پر کیسے بھروسہ کریں گے؟ بہتر ہوگا کہ ہم یوپی پولیس سے چھین کر تمام تحقیقات سی بی آئی کو سونپ دیں ۔ ہم اتر پردیش پولیس کو تحلیل بھی کر سکتے ہیں۔ کسی نہ کسی مقام پر یہ فضول حرکتیں بند ہونی چاہئیں۔‘‘
جسٹس سنجے کمار اور جسٹس سنجیو سچدیوا کی بنچ نے یہ سخت تبصرہ اس وقت کیا جب اسے بتایا کہ گیا کہ شکایت کنندہ نے ملزم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا مگر پولیس نے ایف آئی آر میں اس کا نام درج کرنے کے بجائے ’’نامعلوم‘‘ لکھا تاکہ اسے بچایا جاسکے۔تفتیش کے طریقہ کار پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے بنچ نے کہاکہ ’’کسی کے کہنے پر چلنا ایک بات ہے، لیکن حد سے زیادہ جھک جانا دوسری بات۔‘‘