Updated: June 09, 2026, 4:01 PM IST
| New York
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی جہاں معیشت، صنعت اور روزمرہ زندگی کو تبدیل کر رہی ہے، وہیں اس کے ماحولیاتی اثرات بھی تشویش کا باعث بنتے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونائیٹڈ نیشنز یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ فار واٹر، انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق ۲۰۳۰ء تک اے آئی سے چلنے والے ڈیٹا سینٹرز سالانہ ۹۴۵؍ ٹیرا واٹ گھنٹے بجلی استعمال کریں گے، ۳ء۹؍ ٹریلین لیٹر پانی درکار ہوگا اور ۵ء۲؍ ملین ٹن تک الیکٹرانک فضلہ پیدا ہوگا۔
اے آئی۔ تصویر: آئی این این
مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اس کے تیزی سے پھیلتے استعمال نے دنیا بھر میں کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کی طلب کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے۔ تاہم ایک نئی بین الاقوامی رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی ماحولیاتی قیمت بھی اسی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ نائیٹڈ نیشنز یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ فار واٹر، انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ۲۰۳۰ء تک اے آئی کو چلانے والے ڈیٹا سینٹرز سالانہ ۹۴۵؍ ٹیرا واٹ گھنٹے (TWh) بجلی استعمال کریں گے، جو موجودہ عالمی بجلی کے استعمال کا تقریباً ۳؍ فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مقدار پاکستان، بنگلہ دیش اور نائیجیریا کی مجموعی سالانہ بجلی کھپت سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے، جبکہ ان تینوں ممالک کی مشترکہ آبادی ۶۵؍ کروڑ سے زائد ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف بجلی ہی نہیں بلکہ پانی اور زمین کے وسائل پر بھی اے آئی کا دباؤ نمایاں طور پر بڑھے گا۔ اندازوں کے مطابق ۲۰۳۰ء تک اے آئی ڈیٹا سینٹرز کو سالانہ ۳ء۹؍ ٹریلین لیٹر پانی درکار ہوگا، جو سب صحارا افریقہ کے تقریباً ۳ء۱؍ ارب افراد کی بنیادی گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح ان مراکز کے لیے ۱۴۵۰۰؍ مربع کلومیٹر سے زیادہ زمین درکار ہوگی، جو انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے میٹروپولیٹن علاقے کے تقریباً دوگنے رقبے کے برابر ہے۔ مزید برآں، یہ صنعت سالانہ ۵ء۲؍ ملین ٹن تک الیکٹرانک فضلہ بھی پیدا کر سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی ڈیٹا سینٹرز نے ۲۰۲۵ء میں تقریباً ۴۴۸؍ ٹیرا واٹ گھنٹے بجلی استعمال کی۔ اگر انہیں ایک ملک تصور کیا جائے تو وہ دنیا کے گیارہویں بڑے بجلی استعمال کرنے والے ملک کے برابر ہوں گے، جو فرانس سے پیچھے لیکن سعودی عربیہ سے آگے ہوگا۔ محققین کا کہنا ہے کہ صرف پانچ برسوں میں یہ کھپت دوگنی سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں بچوں کو نشانہ بنانے سے متعلق رپورٹ کو یورپی پریس پرائز ۲۰۲۶ء تفویض
رپورٹ کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اے آئی کے ماحولیاتی اثرات کا بڑا حصہ اب بڑے ماڈلز کی تربیت سے نہیں بلکہ ان کے روزمرہ استعمال سے پیدا ہو رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق اے آئی توانائی کھپت کا ۸۰؍ سے ۹۰؍ فیصد حصہ ’’انفرنس‘‘ سے آتا ہے، یعنی وہ مرحلہ جب صارفین کے سوالات اور درخواستوں کا جواب دینے کے لیے ماڈلز مسلسل کام کرتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی روزانہ تقریباً ۵ء۲؍ ارب پرامپٹس پر کارروائی کرتا ہے۔ اس ایک سروس کی سالانہ بجلی کھپت تقریباً ۳۸۳؍ گیگا واٹ گھنٹے (GWh) بتائی گئی ہے۔ محققین کے مطابق اس سے پیدا ہونے والے اخراج کی تلافی کے لیے تقریباً ۲۶؍ لاکھ درختوں کو دس سال تک بڑھانا پڑے گا۔ تحقیق میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اے آئی سے تیار کردہ تصاویر اور ویڈیوز توانائی کے لحاظ سے خاصی مہنگی ثابت ہو رہی ہیں۔ ایک عام اے آئی تصویر بنانے میں بنیادی ٹیکسٹ درجہ بندی کے مقابلے میں تقریباً ۱۴۵۰؍ گنا زیادہ توانائی استعمال ہوتی ہے، جبکہ مختصر اے آئی ویڈیو کی تیاری ۲؍ لاکھ اسپیم ای میلز کی درجہ بندی کے برابر بجلی خرچ کر سکتی ہے۔
رپورٹ کی مرکزی مصنفہ مریم ایکسیل نے کہا کہ ’’جس چیز نے ہمیں سب سے زیادہ حیران کیا وہ یہ تھی کہ کاربن کے لحاظ سے سب سے زیادہ ماحول دوست نظر آنے والے انتخاب کئی مرتبہ پانی اور زمین کے استعمال کے حوالے سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔‘‘ رپورٹ میں ہیونوس پیراڈوکس کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جس کے مطابق جب کوئی ٹیکنالوجی زیادہ مؤثر اور سستی ہو جاتی ہے تو اس کا استعمال کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتا ہے، نتیجتاً مجموعی وسائل کی کھپت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق اے آئی انفراسٹرکچر کی عالمی تقسیم بھی غیر متوازن ہے۔ اس وقت اے آئی سے متعلق خصوصی کمپیوٹنگ صلاحیت کا ۹۰؍ فیصد سے زیادہ حصہ امریکہ اور چین میں موجود ہے، جبکہ صرف ۳۲؍ ممالک ایسے ہیں جہاں خصوصی اے آئی ڈیٹا سینٹرز قائم ہیں۔ ۱۵۰؍ سے زائد ممالک اب بھی خودمختار اے آئی کمپیوٹنگ صلاحیت سے تقریباً محروم ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فلپائن: ۸ء۷؍شدت کا زلزلہ، کئی ممالک میں سونامی وارننگ، انخلاء کے احکامات
ماحولیاتی سائنسداں اور محقق کاوہ مدنی نے کہا کہ ’’یہ رپورٹ مصنوعی ذہانت کے خلاف نہیں بلکہ اس کے ذمہ دارانہ استعمال کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔‘‘ ان کے مطابق حکومتوں کو توانائی، پانی اور زمین کے استعمال سے متعلق اپنی پالیسیوں میں اے آئی انفراسٹرکچر کو شامل کرنا ہوگا تاکہ مستقبل میں اس کے بڑھتے ہوئے ماحولیاتی اثرات پر قابو پایا جا سکے۔