Updated: May 11, 2026, 3:04 PM IST
| New Delhi
نیتی آیوگ نے ہندوستان کے اسکولی نظام میں معیار بہتر بنانے کے لیے ۱۳؍ نکاتی پالیسی روڈ میپ تجویز کیا ہے، جس میں کلاس رومز میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال، سیکھنے کے نتائج کی نگرانی، اور ریاستی اور ضلعی سطح پر ٹاسک فورسیز کے قیام پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں ۷۱ء۱۴؍ لاکھ اسکول اور ۶۹ء۲۴؍ کروڑ سے زائد طلبہ موجود ہیں، لیکن اساتذہ کی تربیت، انفراسٹرکچر اور ڈجیٹل تیاری میں بڑے خلا برقرار ہیں۔ نیتی آیوگ نے اے آئی، کمپیوٹیشنل تھنکنگ، اور ڈجیٹل لرننگ پلیٹ فارمز کو مستقبل کی تعلیم کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔
نیتی آیوگ نے ہندوستان کے اسکولی تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کے لیے ۱۳؍ نکاتی روڈ میپ پیش کرتے ہوئے کلاس رومز میں مصنوعی ذہانت کے انضمام اور تعلیمی معیار کی نگرانی کے لیے نئے ادارہ جاتی ڈھانچے قائم کرنے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ، جس کا عنوان ’’ انڈیا اسکول ایجوکیشن سسٹم: ٹائم باؤنڈ اینالسس اینڈ روڈ میپ فار کوالیٹی انہانس مینٹ‘‘ ہے، ملک کے ۷۱ء۱۴؍ لاکھ اسکولوں اور ۶۹ء۲۴؍ کروڑ سے زائد طلبہ پر مشتمل تعلیمی نیٹ ورک کا جائزہ پیش کرتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی اسکولی نظام بنیادی خواندگی اور اعداد و شمار کے میدان میں وبا کے بعد کچھ بہتری دکھا رہا ہے، تاہم معیار، حکمرانی، اساتذہ کی تربیت، اور ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال میں اب بھی بڑے خلا موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھئے : کرنل صوفیہ قریشی کے معاملے میں عدالت برہم
اے آئی کو تعلیمی نظام میں شامل کرنے کو رپورٹ کا مرکزی نکتہ قرار دیا گیا ہے۔ نیتی آیوگ کے مطابق اے آئی پر مبنی ٹولز سیکھنے، ریئل ٹائم فیڈبیک، اور طلبہ کی کارکردگی کی نگرانی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ تعلیمی نظام اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ قدم ملا کر نہیں چل پا رہا۔ اساتذہ کی تربیت کو ’’مختصر، عمومی اور کلاس روم کی حقیقتوں سے الگ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ بیشتر اساتذہ کو اے آئی، ڈجیٹل استدلال، اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے استعمال کی مناسب تربیت حاصل نہیں۔
وزارت تعلیم کے گریڈ ۳؍ کے بعد اے آئی اور کمپیوٹیشنل تھنکنگ متعارف کروانے کے منصوبے کو رپورٹ میں اہم پالیسی تبدیلی قرار دیا گیا ہے، جو سی بی ایس ای، این سی ای آر ٹی اور این اائی ایس ایچ ٹی ایچ اے جیسے اداروں کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔ تاہم، نیتی آیوگ نے خبردار کیا کہ انفراسٹرکچر، انٹرنیٹ رسائی، اساتذہ کی صلاحیت، اور ادارہ جاتی تیاری میں تفاوت کی وجہ سے اس پالیسی پر عمل درآمد غیر مساوی ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے وہاٹس ایپ پر اردو نظم شیئر کرنے پر ٹیچر کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کر دی
رپورٹ میں اسکولوں میں ڈیٹا گورننس، طلبہ کی رازداری، اور اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے واضح پالیسی فریم ورک کی کمی پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ اصلاحات کے لیے نیتی آیوگ نے ریاستی اور ضلعی سطح پر اسکول کوالٹی ٹاسک فورسیز قائم کرنے کی سفارش کی ہے، جو تعلیمی معیار کی نگرانی، وسائل کی تقسیم، اور رکاوٹوں کے خاتمے میں کردار ادا کریں گی۔ رپورٹ کے مطابق، ’’تعلیم کا معیار بہتر بنانے کے لیے صرف محکمہ تعلیم کافی نہیں۔ صحت، غذائیت، سماجی تحفظ، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، اور کمیونٹی شمولیت جیسے عوامل بھی سیکھنے کے نتائج کو متاثر کرتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے : ناسک ٹی سی ایس معاملہ: ندا خان مبینہ جنسی ہراسانی کیس میں گرفتار
اس میں اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں کو مضبوط بنانے، ڈجیٹل اور براڈکاسٹ لرننگ پلیٹ فارمز کو وسعت دینے، اور اساتذہ کی تعیناتی و پیشہ ورانہ تربیت کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ نے لڑکیوں کی تعلیم میں بہتری اور ایس سی و ایس ٹی طلبہ کے بڑھتے ہوئے اندراج کو مثبت پیش رفت قرار دیا، جبکہ این ای پی ۲۰۲۰ء، این آئی پی یو این بھارت مشن اور سمرگ شکشا ابھیان جیسے منصوبوں کو بنیادی خواندگی میں بحالی کا اہم سبب بتایا۔ اس کے باوجود نیتی آیوگ نے ۱۱؍ بڑے نظامی چیلنجز کی نشاندہی کی، جن میں سیکھنے کے غیر مساوی نتائج، حکمرانی کے مسائل، اور اصلاحات کی پیمائش کے لیے محدود ادارہ جاتی صلاحیت شامل ہیں۔