• Mon, 09 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حماس لیڈر خالد مشعل کا غیر مسلح ہونے سے انکار، اسرائیل کے مکمل انخلاء کا مطالبہ

Updated: February 08, 2026, 10:09 PM IST | Doha

حماس کے مقبول لیڈر خالد مشعل نے ایک بیان میں غیر مسلح ہونے سے انکار کردیا ہے، ساتھ ہی غزہ سے اسرائیل کے مکمل انخلاء کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی غزہ کی تعمیر نو اور امداد کی فراہمی کو ممکن بنانے کیلئے متوازن انداز اپنانے کا مشورہ دیا۔

Former Hamas chief and senior leader Khaled Meshaal. Photo: X
حماس کے سابق سربراہ اور سینئر لیڈر خالد مشعل۔ تصویر: ایکس

حماس کے ایک سینئر لیڈر خالد مشعل نے کہا کہ فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گی اور نہ ہی غزہ میں غیرملکی مداخلت قبول کرے گی، جس سے امریکی اور اسرائیلی مطالبات کی نفی ہوتی ہے۔ خالد مشعل نے دوحہ میں ایک کانفرنس میں اتوار کو کہاکہ فلسطینیوں کی مزاحمت، اس کے ہتھیاروں اور ان لوگوں کو مجرمانہ قرار دینا جنہوں نے اسے انجام دیا، ایسی چیز ہے جو ہمیں قبول نہیںہے ۔جب تک قبضہ ر ہے گا، مزاحمت جاری ر ہے گی۔ مزاحمت، قبضے کےما تحت رہنے والی عوام کا حق ہے ۔ ایسی چیز جس پر قومیں فخر کرتی ہیں۔‘‘ 
بعد ازاں خالد مشعل جو پہلےحماس کے سربراہ رہ چکے ہیں نے کہا، ’’حماس نے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خلاف مسلح جدوجہد کی ہے۔ حماس نے۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کو غزہ سے اسرائیل میں سرحد پار اچانک چھاپہ مارا۔ تب سے، اسرائیل نے محاصرے میں موجود غزہ پر اپنے حملوں کو شدت دے دی ہے جو نسل کشی کی جنگ بن گئی ہے جس میں تقریباً۷۲؍ ہزار فلسطینی ہلاک اور ۱۷۱۰۰۰؍ سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ غزہ کے۹۰؍ فیصد بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔حماس نے بارہا کہا ہے کہ تخفیف اسلحہ ایک سرخ لکیر ہے، حالانکہ اس نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار کسی مستقبل کی فلسطینی حکومتی اختیار کو سونپنے پر غور کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: نیتن یاہو کے خلاف ہزاروں افراد کا تل ابیب کی سڑکوں پر احتجاج

دریں اثناء ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کا مقصد تباہ حال غزہ میں روزمرہ کی حکومت سنبھالنا ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ آیا، یا کیسے، تخفیف اسلحہ کے مسئلے کو حل کیا جائے گا۔یہ کمیٹی ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے تحت کام کرتی ہے، جو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کاشروع کردہ ایک اقدام ہے۔ابتدائی طور پر غزہ میں جنگ بندی اور جنگ کے بعد کی تعمیر نو کی نگرانی کے لیے تشکیل دئے گئے اس بورڈ کے اختیارات میں توسیع کی گئی ہے، جس نے ناقدین میں تشویش پیدا کی ہے کہ یہ اقوام متحدہ کا حریف بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے گزشتہ مہینے سوئٹزر کے داوئوس میں منعقد ورلڈ اکنامک فورم میں بورڈ کا اعلان کیا، جہاں تقریباً دو درجن ممالک کے لیڈراور اہلکاروں نے اس کے چارٹر پر دستخط کرنے میں ان کا ساتھ دیا۔بورڈ آف پیس کے ساتھ ، ٹرمپ نے ایک غزہ ایگزیکٹو بورڈ بھی بنایا جو فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے لیے ایک مشاورتی پینل ہے جس میں امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر، نیز سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر سمیت بین الاقوامی شخصیات شامل ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: جیفری ایپسٹین اسرائیلی نہیں تھا: نیتن یاہو کا دعویٰ، ایف بی آئی کی تحقیق برعکس

تاہم اتوار کو، مشعل نے بورڈ آف پیس پر زور دیا کہ وہ اس ’’متوازن طریقہ کار‘‘ کو اپنائیں جس سے غزہ کی تعمیر نو اور تقریباً ۲۲؍ لاکھ فلسطینیوں تک امداد کی فراہمی ممکن ہو سکے، جبکہ انہوں نے خبردار کیا کہ حماس فلسطینی علاقے پر غیرملکی حکومت قبول نہیں کرے گا۔مشعل نے کہا ، ’’ہم اپنے قومی اصولوں پر قائم ہیں اور کسی اور کی سرپرستی، بیرونی مداخلت، یا کسی بھی شکل میں بیرونی رائےکی واپسی کی منطق کو مسترد کرتے ہیں۔ فلسطینیوں کو فلسطینیوں پر حکومت کرنی چاہیے۔ غزہ ،غزہ کے لوگوں اور فلسطین کا ہے۔ ہم غیرملکی حکومت قبول نہیں کریں گے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK