• Sun, 18 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کام کے مقامات پر اے آئی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن کمپنیاں تربیت میں پیچھے

Updated: January 18, 2026, 9:06 PM IST | Mumbai

۱۷۰۴؍پروفیشنلز کے درمیان کئے جانےوالے ایک سروے سے پتہ چلتا ہے کہ ورک پلیس میں اے آئی یا مصنوعی ذہانت کو اپنانے کی دوڑ تو ہے، لیکن اس کے لیے ضروری کارپوریٹ تربیتی پروگرام کافی پیچھے ہیں۔

Artificial Inteligence.Photo:INN
مصنوعی ذہانت۔ تصویر:آئی این این

آج کے دور میں دفتر کے کام کرنے کے طریقے بدل رہے ہیں۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ( اے آئی ) اب صرف گفتگو کا موضوع نہیں رہا، بلکہ یہ ہمارے کام کرنے کے طریقوں کا حصہ بن چکا ہے۔ تاہم، ایک نئی رپورٹ حیرت انگیز اشارے دے رہی ہے۔ ’جینیئس ایچ آر ٹیک اور ڈیجی پول‘ کے تازہ سروے کے مطابق، ملازمین جتنی تیزی سے خود کواے آئی  کے مطابق ڈھال رہے ہیں، کمپنیاں اتنی ہی تیزی سے انہیں تربیت دینے میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔
 نومبر ۲۰۲۵ء میں ۱۷۰۴؍ پروفیشنلز کے درمیان کیے جانے والے  اس سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ ورک پلیس میں اے آئی  کو اپنانے کی دوڑ ضرور ہے، لیکن اس کے لیے ضروری کارپوریٹ تربیتی پروگرام بہت پیچھے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ۷۱؍ فیصد ملازمین کو پختہ یقین ہے کہ اگلے۲۔۳؍ برسوں میں نئی ٹیکنالوجی اور ٹولز کی وجہ سے ان کے کام کرنے کے طریقے مکمل طور پر بدل جائیں گے۔
 تربیت کی کمی اور بڑھتے ہوئے چیلنجز 
رپورٹ میں سب سے بڑی کمی تربیت کے معاملے میں نظر آتی ہے۔ سروے میں شامل۶۱؍ فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی نے اے آئی  کے صحیح استعمال کے بارے میں انہیں کوئی ٹھوس رہنمائی یا تربیت نہیں دی۔ صرف ۳۷؍ فیصد ملازمین ہی ایسے ہیں جنہیں کمپنی کی طرف سے مناسب تربیت ملی ہے۔ تربیت کی کمی کے باعث ملازمین میں غیر یقینی کا ماحول ہے۔
 اسی وجہ سے ۵۵؍ فیصد پروفیشنلز کا ماننا ہے کہ دفتر میں اے آئی  کا آنا ایک ضرورت ہے  جبکہ۳۷؍ فیصد اسے صرف ایک ’رجحان‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ تربیت کی کمی کے باوجود ۶۷؍ فیصد ملازمین اپنی مرضی سے روزمرہ کے کام آسان بنانے کے لیے اے آئی  ٹولز استعمال کرنا شروع کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:نیول ٹاٹا کی سر رتن ٹاٹا ٹرسٹ میں تقرری کی کوشش پھر ناکام

 کام آسان ہوا، لیکن اعتماد کی کمی برقرار 
 اے آئی  کے استعمال سے جہاں ۶۹؍ فیصد لوگوں کو اپنا کام پہلے سے آسان لگ رہا ہے، وہیں ۲۵؍ فیصد ایسے بھی ہیں جن کے لیے اس نے نئی پیچیدگیاں اور مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اے آئی  صرف کام کا بوجھ کم نہیں کر رہا بلکہ نئے قسم کے چیلنجز بھی سامنے لا رہا ہے۔ اعتماد کے معاملے میں بھی ابھی لمبا راستہ طے کرنا باقی ہے۔ سروے کے مطابق صرف۴۹؍ فیصد پروفیشنلز ہی اے آئی  سے حاصل معلومات پر بلا جھجک اعتماد کرتے ہیں۔ باقی ۳۶؍ فیصد ملازمین اے آئی  کے نتائج کو خود چیک کرنا ضروری سمجھتے ہیں  جبکہ ۱۵؍ فیصد کا ماننا ہے کہ اعتماد اس بات پر منحصر ہے کہ کام کی نوعیت کیسی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:مانچسٹر ڈربی: یونائیٹڈ نے سٹی کواولڈ ٹریفورڈ میں مات دی

جینیئس ایچ آر ٹیک کے سی ایم ڈی  آر پی یادو کا کہنا ہے کہ مستقبل میں دفاتر تبھی بہتر چل سکیں گے جب انسان اور اے آئی  ایک دوسرے کے تکمیلی طور پر کام کریں گے۔ اس کے لیے کمپنیوں کو اپنے ملازمین کو صحیح مہارتیں اور واضح رہنمائی فراہم کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK