۵۲؍کروڑ صارفین کو براہ راست فائدہ پہنچے گا، ملک میں ڈیجیٹل انقلاب کی تیاری، آکاش امبانی نے کہا کہ ہم اب مستقبل کی ٹیکنالوجی پر ہی کام کریں گے۔
EPAPER
Updated: April 26, 2026, 12:38 PM IST | Mumbai
۵۲؍کروڑ صارفین کو براہ راست فائدہ پہنچے گا، ملک میں ڈیجیٹل انقلاب کی تیاری، آکاش امبانی نے کہا کہ ہم اب مستقبل کی ٹیکنالوجی پر ہی کام کریں گے۔
ہندوستان کی ڈیجیٹل دنیا میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے کیونکہ ریلائنس جیو اب صرف ایک ٹیلی کام کمپنی نہیں رہنا چاہتی ہے۔ کمپنی کا مقصد اے آئی دور کا ڈیجیٹل گیٹ وے بننا ہے۔ حالیہ نتائج اور حکمت عملی واضح طور پر بتاتے ہیں کہ جیو اب مستقبل کی ٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوز کر رہا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت کنکٹی ویٹی کے ساتھ ساتھ کلیدی کردار ادا کرے گی۔ریلائنس جیو انفوکام کے چیئرمین آکاش امبانی نے اس موقع پر کہا کہ جیو نے ہندوستان کو انٹرنیٹ کے دور سے جوڑا اور اب ‘انٹیلی جنس دور’ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ۵۲؍ کروڑ سے زیادہ یوزر بیس کے ساتھ جیوکے پاس ایک مضبوط پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعہ اے آئی خدمات کو بڑی سطح پرلوگوں تک پہنچایا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جنگ کا اثر: روسی سینٹرل بینک نے ۲۲؍ ٹن سونا فروخت کیا
جیو کا تیزی سے پھیلتا ہوا فائیو جی نیٹ ورک اس تبدیلی کی ریڑھ کی ہڈی بن رہا ہے۔ کمپنی کی توجہ صرف نیٹ ورک بڑھانے پر نہیں ہے بلکہ اسے مضبوط بنانے پر بھی ہے۔ تیز رفتار انٹرنیٹ اور بہتر رابطے اے آئی پر مبنی خدمات کو لاگو کرنا آسان بنائے گی جس کے نتیجے میں صارف کوبہتر تجربہ ملے گا ۔جیوفائبر اور جیو ائیر فائبر جیسی خدمات اب صرف انٹرنیٹ فراہم کرنے تک محدود نہیں ہیں۔ وہ گھروں اور چھوٹے کاروبار کو ڈیجیٹل دنیا سے جوڑنے کا ایک بڑا ذریعہ بن رہے ہیں۔ مارچ۲۰۲۶ء تک، فکسڈ براڈ بینڈ صارفین ۲ء۷۱؍ کرو ڑ اور ایئر فائبر کے صارفین ۱ء۳۰؍کروڑ تک پہنچ چکے ہیں، جو تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب کو ظاہر کرتے ہیں۔جیو نیٹ ورک پر ڈیٹا کی کھپت میں زبردست اضافہ درج کیا گیا ہے۔ سال کی بنیاد پر کل ڈیٹا ٹریفک میں ۳۵؍ فیصد اضافہ ہوا ہے اور فی صارف کی کھپت ۴۲؍ جی بی ماہانہ تک پہنچ گئی ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی کھپت اے آئی سروسیز کے لئے ایک مضبوط بنیاد تیار کررہی ہےکیونکہ زیادہ ڈیٹا کا مطلب بہتر اور اسمارٹ خدمات ہیں۔ جیوکاموجودہ ماڈل براڈ بینڈ اور ڈیٹا کی کھپت کو ملا کر ایک بڑا ڈیجیٹل ایکوسسٹم بنا رہا ہے۔