سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے بڑھتے قرض پر یوگی حکومت کو گھیرا،کہا کہ سرکاری اعدادوشمار ہیں کہ فی کس ۳۷۵۰۰؍روپے کا قرض ہے۔
EPAPER
Updated: August 23, 2025, 12:26 PM IST | Inquilab News Network | Lucknow
سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے بڑھتے قرض پر یوگی حکومت کو گھیرا،کہا کہ سرکاری اعدادوشمار ہیں کہ فی کس ۳۷۵۰۰؍روپے کا قرض ہے۔
تمام ترسرکاری دعوؤں کے برعکس، یوپی پر قرض بھی سال در سال بڑھ رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق، اتر پردیش پر موجودہ مالی سال میں ۹؍ لاکھ کروڑ روپئے کا قرض ہونے کا اندازہ ہے۔اس لحاظ سے اتر پردیش میں ہر شخص تقریباً۳۷۵۰۰؍ روپئے کا مقروض ہے۔سماجوادی پارٹی کے قومی صدراکھلیش یادو نے اس معاملے پر بی جے پی پرشدید لفظی حملہ کیا اور کہا ہے کہ گزشتہ برسوں میں حکومت نے ترقی کے نام پر عوام کو صرف درد اور قرض کا تحفہ دیا ہے۔
سرکاری اعدادوشمارکےمطابق پچھلے پانچ سالوں میں یوپی پر ۶؍ لاکھ کروڑ روپئے کا قرض اب بڑھ کر۹؍ لاکھ کروڑ روپئے ہو گیا ہے۔حالانکہ راحت کی بات یہ ہے کہ اس قرض کے باوجود ریاست کا ریونیو خسارہ۲ء۹۷؍ فیصد ہے جو کہ آر بی آئی کی مقرر کردہ حد کے اندر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں ریاست کے بجٹ کا حجم بھی بڑھ گیا ہے۔ریاستی مالیاتی کمیشن کا ماننا ہے کہ ریاست بنیادی چیزوں پر جتنا زیادہ خرچ کرتی ہے، اتنا ہی قرض لینے میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یوپی حکومت اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کر رہی ہے، یعنی قرض لے کرکام کررہی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر کسی ریاست پر قرض زیادہ ہو تو اس کا براہ راست دباؤ ترقی پذیر معیشت پر پڑتا ہے۔ اس سے قرض پر سود کی زیادہ ادائیگی ہوتی ہے، جس سے معیشت متاثر ہوتی ہے۔ جہاں تک اتر پردیش کا تعلق ہے، ریاست کی ترقی کیلئے اس میں توازن رکھنا ضروری ہے۔
سماجوادی پارٹی کے قومی صدراکھلیش یادو نے ریاست میں بڑھتے قرض کے مسئلے پر بی جے پی حکومت پر زبردست تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اترپردیش کا ہر شہری اوسطاً ۳۷۵۰۰؍ روپے کے قرض تلے دب گیا ہے۔ بی جے پی حکومت نے گزشتہ برسوں میں ترقی کے نام پر عوام کو صرف درد اور قرض کا تحفہ دیا ہے۔اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی کی پالیسیوں نے کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں اور متوسط طبقے کو شدید مشکلات میں مبتلا کردیا ہے۔ کسانوں کے قرض معاف کرنے کے وعدے محض جملہ ثابت ہوئے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کسانوں پر پہلے سے زیادہ مالی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے بڑے صنعتکاروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے عوامی خزانے کو نقصان پہنچایا اور اس کا بوجھ عام شہریوں پر ڈالا گیا۔
’ایکس‘ پراکھلیش یادو کا کہنا ہے کہ سادہ مزاج عوام پوچھ رہے ہیں کہ جب ٹریلین ڈالر کی معیشت کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو کیا اُس وقت یوپی کی بی جے پی حکومت ہر شہری پر موجود ۳۷۵۰۰؍ روپئے کے قرض کو بھی شامل کرتی ہے یا نہیں؟۔اکھلیش کے مطابق یوپی کےعوام یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر ۱۵؍ لاکھ‘ کا بی جے پی والا وعدہ جملہ ثابت نہ ہوتا تو آج اس قرض کو گھٹانے کے بعد بھی ہر ایک کے کھاتے میں تقریباً۱۴۶۲۵۰۰؍روپئے موجود ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی راشن، روزگار، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یوپی کے لاکھوں نوجوان روزگار کی تلاش میں دربدر بھٹک رہے ہیں لیکن حکومت صرف کاغذی دعوے کر کے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اکھلیش کے مطابق، عوام کو یہ سوچنا ہوگا کہ آخر بی جے پی نے اتنے برسوں میں دیا کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ عوام کو یا تو درد ملا ہے یا قرض۔
سابق وزیر اعلیٰ نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ترقی کے بڑے بڑے نعرے لگاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ قرض کی گنگا بہائی جا رہی ہے۔ اگر یہی رفتار رہی تو آنے والی نسلیں بھی قرض کے بوجھ تلے دبی رہیں گی۔اکھلیش یادو نے کہا کہ سماجوادی پارٹی نے ہمیشہ کسانوں، مزدوروں اور نوجوانوں کو سب پر ترجیح دی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آنے والے وقت میں اپنی طاقت کے ذریعے بی جے پی کو اقتدار سے باہر کریں تاکہ ترقی کا راستہ صاف ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ سماجوادی حکومت کے دور میں کسانوں کیلئے اسکیمیں چلائی گئیں، طلبہ کو لیپ ٹاپ ملے، اور روزگار کے مواقع فراہم کئے گئے، لیکن بی جے پی حکومت نے ان تمام مثبت پہلوئوں کو روک دیا۔ آج ضرورت ہے کہ عوام بی جے پی سے سوال کریں اور ان کے حقیقی چہرے کو پہچانیں۔